کراچی اور پورے پاکستان میں چینی کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ، گنے کی فصل میں کمی کی وجہ سے بحران گہرا

اپریل 2025 میں، کراچی اور ملک بھر میں چینی کی قیمتیں حکومت کے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ ریٹ سے کہیں زیادہ ہیں، جبکہ ریٹیل قیمتیں 170 سے 180 روپے فی کلو کے درمیان اوپر نیچ ہو رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے باوجود، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، اور قیمتیں 164 روپے فی کلو کے سرکاری ریٹ سے تجاوز کرچکی ہیں۔ کراچی میں تھوک قیمتیں بھی غیر مستحکم رہیں، جو ایک حکومتی اعلان کے بعد 158 روپے فی کلو تک گر گئیں، لیکن پھر فوراً 168 روپے تک واپس پہنچ گئیں۔

گنے کی فصل میں کمی، پانی کی قلت بڑا مسئلہ
ماہرین کے مطابق، گنے کی کاشت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ پانی کی شدید قلت ہے۔ زرعی شعبے کو درپیش اس بحران کے پیش نظر، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال اور اگلے سال بھی گنے کی پیداوار طلب سے کم رہے گی۔ مسئلہ صرف پانی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ بھارت نے ایک بار پھر پانی کے معاملے پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، جس سے گنے کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی دستیابی یوں ہی کم ہوتی رہی تو وہ گنے کی فصل لگانے سے گریز کریں گے، جس سے چینی کی صنعت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

حکومتی کوششیں اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ
ماہرین کے مطابق، حکومت جلد ہی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ دوسری ملاقات کرے گی، لیکن اندازہ ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اس مہینے مزید 1 سے 2 روپے فی کلو تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو چینی مہنگائی عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

ریٹیل قیمتیں اور مارکیٹ کی صورتحال
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے مطابق، رمضان 2025 کے دوران راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں چینی کی قیمتیں 170 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے 19 مارچ کو چینی کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت 164 روپے اور ایکس مل ریٹ 159 روپے فی کلو مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ اقدامات ریٹیل قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔

قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات
چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجوہات میں گنے کی کم پیداوار، پانی کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کے مسائل شامل ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے نگرانی کے باوجود، چینی کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی حل کے لیے پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے اور کسانوں کو حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ چینی کا بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔