
پاپولر سیمنٹ فیکٹری کیوں بند ہوئی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ مالک نے غلط وقت پر فیکٹری خریدی
حیدرآباد/کراچی: نویری آباد سپر ہائی وے پر واقع پاپولر سیمنٹ فیکٹری کے بند ہونے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ فیکٹری، جو کبھی دادا بھائی سیمنٹ کمپنی کی ملکیت تھی، امام دین شوکین نے خریدی تھی، لیکن ماہرین کے مطابق انہوں نے غلط وقت پر یہ سرمایہ کاری کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے فیکٹری بند ہوئی، یا اس کے پیچھے کچھ اور وجوہات بھی ہیں؟
ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی یا کچھ اور؟
سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے پاپولر سیمنٹ فیکٹری کو ماحولیاتی قوانین کی متعدد خلاف ورزیوں پر بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ سیپا کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق، فیکٹری نے کوئلے اور پرانے جوتوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا، جس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچا اور اردگرد کے علاقوں کی سبزہ زاری متاثر ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیکٹری سے خارج ہونے والے ذرات (PM2.5) کی مقدار قابلِ برداشت حد سے زیادہ تھی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہی وجہ تھی، یا پھر فیکٹری کے مالکان کو جان بوجھ کر مشکلات میں ڈالا گیا؟ کیا کسی اور کے دباؤ میں سیپا نے کارروائی کی؟
دو بڑے فائدہ اٹھانے والے: لکی سیمنٹ اور پاور سیمنٹ
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاپولر سیمنٹ فیکٹری کے بند ہوتے ہی اس کے دو قریبی حریفوں—لکی سیمنٹ اور پاور سیمنٹ— کو فائدہ پہنچا ہے۔ یہ دونوں فیکٹریاں پہلے ہی منافع کما رہی ہیں، جبکہ پاپولر سیمنٹ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے، یا پھر کسی منظم سازش کا نتیجہ؟ کیا ان دو بڑی کمپنیوں نے کسی طرح اس فیکٹری کو بند کرانے میں کردار ادا کیا؟
امام دین شوکین کی ناکام سرمایہ کاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ امام دین شوکین نے غلط وقت پر یہ فیکٹری خریدی تھی۔ کیا انہیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ فیکٹری کو ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے؟ یا پھر انہیں جان بوجھ کر اس سرمایہ کاری میں دھکا دیا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات عوام کے پاس نہیں ہیں۔
سیپا کا کردار بھی مشکوک؟
سیپا نے دوسری فیکٹریوں کو بھی وارننگ نوٹس جاری کیے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی صرف پاپولر سیمنٹ کے خلاف ہی کیوں ہوئی؟ کیا یہ ایک طرفہ انصاف ہے؟ کیا کسی طاقتور لابی کی وجہ سے صرف ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا؟
نتیجہ:
پاپولر سیمنٹ فیکٹری کا بند ہونا صرف ایک ماحولیاتی معاملہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے بڑے کاروباری مفادات، ناانصافی اور ممکنہ طور پر کسی سازش کے اشارے بھی ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ وہ شفافیت کے ساتھ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور عوام کو بتائیں کہ آخر یہ فیکٹری واقعی ماحول کے لیے خطرہ تھی، یا پھر اسے کسی اور مقصد کے تحت بند کروایا گیا؟























