سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی،
===========

قارئین! میں گزشتہ کئی روز سے نیاگرا میں ہوں جو امریکہ کی سرحد پر واقع کینیڈا کا ایک ریجن ہے۔ گو کہ یہ چھوٹا سا ہے جس کی آبادی بھی کم ہے، لیکن اہم ترین ہے۔ اس لیے نہیں کہ ” نیاگرا فال” کے کنارے پر واقع ہے، بلکہ اس شہر کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ جدید کینیڈا کی شروعات اسی علاقے سے ہوئی تھا۔ 1812ء میں برٹش کینیڈا اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے دوران برطانوی فوجوں نے واشگٹن میں وائٹ ہاؤس تک کو خاکستر، جب کہ امریکی فوجوں نے کینیڈا کے کثیر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ بلآخر دونوں فریقین کے درمیان 1815ء میں بیلجیم کے شہر گینٹ میں ہونے والے معاہدے کے تحت جنگ ختم ہوئی۔ سالوں جاری رہنے والی جنگ کے دوران جانی نقصان کتنا ہوا یہ تو الگ قصہ ہے لیکن مالی، سماجی و معاشرتی نقصان کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔۔ امریکہ کا صدر میڈیسن اپنے دورِ اقتدار میں دوبارہ وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکا۔ جب کہ اس جنگ کے بعد برطانوی کالونیل نظام سکڑنا شروع ہوا۔ سلطنت کی حدود سے سورج غروب نہ ہونے کا فخر کرنے والوں کا آج صرف بھرم ہی باقی ہے۔ معاہدہ گینٹ کے بعد نیاگرا فال کے کینیڈین کنارے پر ایک نیاشہر”نیاگرا ” آباد گیا گیا جہاں پر ایک پل بھی تعمیر ہوا یہ پیس پل دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت ہے اور آج تک دونوں ممالک کے عوام بغیر ویزے کے اس پل سے آر پار جاتے ہیں۔ دونوں اقوام نے امن و دوستی اور ترقی کا سفر شروع کیا۔ اس پر کچھ نہیں لکھتا کہ امریکہ اور کینیڈا کتنے ترقی یافتہ اور خوش حال ملک ہیں۔ تاہم نیاگرا “شہر امن” یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں فاشزم اور فسطائی سوچ ترقی اور امن کی علامت نہیں۔ آج اگر امریکہ اور کینیڈا دنیا کے دو ترقی یافتہ ملک اور دونوں قومیں خوش حال ہیں تو یہاں فاشزم اور فسطائیت نہیں بلکہ برداشت، جمہوریت اور اشتراکیت کے اصول سے ہوئی تب ہی یہاں بھوک ننگ نہیں تعلیم ہے ہنر ہے اور خوش حالی ہے۔ تب ہی یہ سرزمین دنیا بھر کے ذہن اور فطین نوجوانوں کی مرکزی نگاہ ہے۔ برصغیر کے دو ارب عوام اس وقت کرب میں ہیں وہاں ایسا کوئی معاہدہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ وہاں کے عوام پرسکون اور خوش حال ہو سکیں امریکہ اور کینیڈا کی طرح ترقی کریں اور ضروریات زندگی کی ہر نعمت کو انجوائے کریں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اس خطہ میں انسانی آزادی، جمہوریت اور اشتراکیت مستحکم نہیں ہے جو امریکہ اور کینیڈا میں ہے۔ برصغیر میں فسطائیت انتہا پسند قوم اور مذہب پرستی غالب نظریات ہیں ۔ جہاں طاقت ور طبقہ کمزور طبقات پر بزور طاقت جارحانہ آمریت کے ذریعے اپنا نظریہ مسلط کرتا ہے اور حصول مقاصد کے لیے جبر و تشدد کے استعمال سے گریز نہیں کرتا۔ مستقبل قریب میں ہمیں فسطائیت کی چار اہم مثالیں ملتی ہیں۔ اطالیہ میں نیتینو مسولینی، جرمنی میں،ایڈولف ہٹلر، اسپین میں فرانسسکو فرانکو۔ پرتکال میں انتونیو سالازار۔ سب ہی اپنے نظریہ اور سوچ کے ساتھ فنا ہو گئے۔ اور اب نئی فسطائیت سامنے آئی جو ہندو انتہا پسند بھارتی جنتا پارٹی کی صورت اور نریندرا مودی کی قیادت میں موجود ہے۔۔ اس جماعت کے لیڈر اور پیروکار تین الفاظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ بھارتی یا انڈین اور ہندو۔ ان کی سیاست اور حکومت کا پورا نظریہ اور فلسفہ ان تین الفاظ کے گرد گھومتا ہے۔ خطہ میں اور بھی چھوٹے چھوٹے مذہبی اور لسانی گرو ہیں لیکن ان کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں لیکن مودی کی قیادت میں فسطائیت خطہ میں ترقی اور خوش حالی کی بڑی رکاوٹ ہے۔ ورنہ بھارت اور پاکستان میں وہ سب وسائل اور صلاحتیں موجود ہیں جو امریکہ اور کینیڈا میں ہیں ۔ مودی اپنے نظریات کی پختگی کے لیے اپنے لوگوں کا خود قتل عام کرتا ہے۔ اس کا الزام پاکستان پر لگا کر دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اتنا پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ دنیا کنفیوز ہو جاتی ہے کہ یہ کیا ہوا۔ اسی مائنڈ سیٹ نے برصغیر کے دو ارب انسانوں کو پونی صدی گزر جانے کے باوجود آزادی کے ثمرات سے انجوائے کرنے سے روکا ہوا ہے۔ اگر ہندوستان ٹوٹ ہی گیا تھا تو اشتراکیت اور جمہوریت کے اصولوں کے مطابق ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے بھارتی قیادت کا کام تھا کہ ٹوٹے ہوئے ہندوستان کے لوگوں کے دلوں کو جوڑتی اور دوریاں ختم کرتی۔ مگر بھارتی قیادت نے روز اول سے
پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ جب سے مودی جی اقتدار میں آئے دونوں ممالک کے درمیان خلیج میں مذید اضافہ ہوا۔ مخالف نظریات کے حامل افراد کو بزور طاقت دبانہ ظلم و ستم مودی کا ایجنڈا تو ہے ہی، مودی سرکار کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ کوئی ایسا بڑا واقعہ رونما کیا جائے جہاں زیادہ لوگوں کا قتل عام ہو تاکہ پاکستان کے خلاف زیادہ سے زیادہ پروپیگنڈہ کرنے کے علاوہ بھارت کی بڑی اپوزیشن مسلمانوں اور خاص طور پر جموں و کشمیر میں فوجی آپریشن کو پہلے سے زیادہ تیز کرنے کا جواز ملے۔ بے شک پہلگام میں ایک بڑا اور افسوس ناک واقعہ ہوا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس خطے میں پہلے ایسے واقعات نہیں ہوئے۔ ان کی غیرجانب دار تحقیق ہوئی، کوئی رپورٹ شائع ہوئی۔ پہلگام واقعہ کو بھارتی میڈیا نے اتنی آگ لگائی کہ دنیا ہلا کر رکھ دی۔ جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے میڈیا کی لگائی ہوئی آگ کو ہوا دی اور خطہ میں اچھا خاصا خوف و حراس اور جنگی ماحول بنا دیا۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ تو جاری ہے لیکن تین افراد کے خاکے جاری کرنے کے باوجود جموں کشمیر سے چند روز میں 2500 افراد کو گرفتار، کئی کو ہلاک اور کشمیریوں کے گھروں کو بم سے اڑایا جا رہا ہے ۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کے کئی واقعات ہو چکے ان کا الزام بھی پاکستان پر لگا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر مظالم ڈھائے گے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ منصوبہ سازوں نے خود اس راز کو فاش کیا کہ یہ سرکار بھارت ہی کی کارروائی تھی۔ حال ہی میں، سابق سکریٹری آف اسٹیٹ میڈیلین البرائٹ نے ایک کتاب شائع کی جس کے مقدمہ میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے لکھا کہ 2000ء میں اگر میں بھارت کا دورہ نہ کرتا تو ممکن تھا کہ 35 سکھ ابھی تک زندہ ہوتے۔۔صدر کلنٹن کا اشارہ اسی واقعہ کی طرف تھا جو 20 مارچ 2000ء میں ان کے دورہ بھارت سے چند روز پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر قصبہ چھٹی سنگھ پورہ میں پیش آیا، جس میں 35 سکھوں کو ماہر نشانہ بازوں نے بے دردی سے ہلاک کیا تھا۔ بھارت نے حسب عادت اس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی، تاکہ امریکی صدر کو قائل کیا جائے کہ پاکستان کی مدد سے مقبوضہ کشمیر میں ’’دہشت گرد‘‘ فقط ہندوئوں کے ہی خلاف نہیں۔ مسلمانوں کے سوا ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس واقعہ کو گزرے 25 سال مکمل ہو گئے لیکن ابھی تک کوئی رپورٹ شائع نہیں ہوئی جس میں ثبوت کے ساتھ بتایا گیا ہو کہ سکھوں کے اس وحشیانہ قتل عام کی ذمہ دار کشمیر کی تحریک آزادی سے وابستہ کوئی تنظیم یا افراد تھے۔ 1995ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں برطانیہ، امریکہ، ناروے اور جرمنی سے آئے سیاحوں کو اغواء کیا گیا جس کا الزام ” الفاران ” نامی تنظیم کے سربراہ پر دھر لیا گیا مگر مغربی مصنفین اور صحافی تحریک حریت میں ایسی کسی تنظیم کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ البتہ یہ بتایا گیا کہ بھارتی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اغواء ہوئے افراد کو بازیاب کرواسکتی تھیں۔ مگر انہوں نے اعتنائی برتی اور مذکورہ اغواء کو کشمیری حریت پسندوں کو عالمی سطح پر ’’بدنام‘‘ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ 14 فروری 2019ء کو پلوامہ میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار انڈین نیم فوجی دستے کے کانوائے سے جا ٹکرائی جس میں 40 سے زیادہ اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے تسلیم کی تو بھارت نے اس کا ذمہ دار براہ راست پاکستان کو ٹھہرایا۔ ستیہ پال ملک اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے جنہوں نے بعد میں اس راز کو تشت از بام کیا کہ واقعہ میں بھارت سرکار ملوث تھی۔ ایک انٹرویو کے دوران معروف صحافی کرن تھاپر نے سوال کیا کہ” یہ ایک طرح سے سرکار (حکومت) کی پالیسی تھی کہ پاکستان پر الزام لگاؤ، ہم لوگ اس کا کریڈٹ لیں گے اور یہ ہمیں انتخابات میں مدد دے گا۔ اس پر ستیہ پال ملک نے حامی بھری۔ بمبئی حملوں میں گرفتار افضل گرو پر مقدمہ تو ثابت نہیں ہوا ملگر جج نے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے ان کو پھانسی کی سزا دی۔ اب پہلگام میں تازہ واقعہ ہوا جس کے فوری بعد پورے خطے میں افراتفری اور خوف کی فضاء پیدا کر دی گئی۔ اپوزیشن لیڈر اسدالدین اویسی نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کی جائے کہ پہلگام میں تعینات دو پلاٹوں آرمی کو کچھ دن پہلے یہاں سے کیوں ہٹایا گیا۔ بھارت سول سوسائٹی اور اپوزیشن کا سوال ہے کہ مودی کی پہلگام واقعہ کے دودرے روز ہی بہار کیوں پہنچا جہاں اس نے پاکستان کے خلاف جی بھر کر بڑھاس نکالی۔ وہ اس لیے کے آئندہ ماہ بہار میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھارت نے خود تسلیم کیا کہ حملہ آور تین تھے جن کے خاکے بھی جاری ہوئے۔ ملزمان کو تلاش کرنے کے بجائے پورے جموں و کشمیر میں کریک ڈاؤن کیوں شروع کر دیا گیا۔۔ یہ خوف ہے کہ کشمیر میں حریت منظم ہو رہی ہے اور اس کو کچلنے کے لیے بڑے پیمانے اور بے رحمانہ فوجی آپریشن کا بہانہ چاہیے تھا جو شروع کر دیا گیا۔ ایسی کئی مضبوط دلیل موجود ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قتل عام مودی سرکار کا خود کا کرایا ہوا ہے۔ ہندو توا نظریات کبھی بھی اس خطے میں امن بحال نہیں ہونے دیں گے جس کے بغیر ترقی و خوش حالی ممکن نہیں۔ مشلہ کشمیر سب مسائل کی ماں ہے جس پر بھارت نے بزور طاقت قبضہ کیا ہوا ہے۔ لیکن جموں و کشمیر کے عوام یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ہم بھارت کا اٹوٹ انگ ہیں۔ بھارت فاشزم اور فسطائیت سے یہ بات منوانے چاہتا ہے۔ وسائل جو عوام پر خرچ ہونا چاہئے تھے دفاع پر خرچ ہو رہے ہیں اور پورا خطہ روز بروز غربت میں ڈوب رہا ہے۔ خطہ کے عوام کی بھلائی کی خاطر اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ریاست نہ کسی کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ شہ رگ اور نہ یہ ملک ایک دوسرے کے زیر قبضہ ایک انچ زمین بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ کیوں نا کشمیر کو خطہ کے لیے امن زون بنائیں۔ اس سے دونوں قبضہ ختم کریں اور نئی صبح کے ساتھ ترقی کا سفر شروع کریں۔ کینیڈا اور امریکہ 7 سو سال سے امن و مبحت کے ساتھ رہ رہے ہیں تو پاک بھارت کو ایک دوسرے کی خود مختاری کو تسلیم کر کے پرامن رہنے اور ترقی کرنے میں کیا قباحت ہے۔ کیوں خوب صورت برآعظم کو جہنم بنایا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کی سول سوسائٹی کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔۔۔۔ ورنہ فاروق عبداللہ کے اس مشورے پر عمل کر کے دیکھ لیں “اگر وزیر دفاع پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آگے بڑھیں۔ ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے۔ لیکن یاد رکھیں کہ پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں، اس کے پاس ایٹم بم ہیں، افسوس ہے یہ ہم پر گریں گے۔”























