
پاکستان پہلگام واقعہ کی غیرجانبدار اور قابل اعتماد تحقیقات میں شرکت کے لئے تیار ہے، پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا کاکول پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب
کاکول۔26اپریل :وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے پہلگام واقعہ کی ’’کسی بھی غیر جانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات‘‘ میں شرکت کے لیے تیار ہے، پانی ہمارے عوام کے لیے لائف لائن ہے، پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے ملک کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے ہفتہ کو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہمارے پڑوسی نے پہلگام کے حالیہ سانحہ میں قابل بھروسہ تحقیقات یا قابل تصدیق شواہد کے بغیر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کا اپنا رویہ جاری رکھا ہے جو اس کی دائمی الزام تراشی کی ایک اور مثال ہے، جس کو روکنا ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے بھارت کے اعلان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کا ایک اہم قومی مفاد ہے اور ہمارے 240 ملین عوام کے لیے لائف لائن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی کی دستیابی کو ہر قیمت اور حالات پر محفوظ رکھا جائے گا، سندھ طاس معاہدہ کے
تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، کم کرنے اور اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا اور اس حوالہ سے کسی کو بھی کسی قسم کے غلط تاثر اور الجھن میں نہیں رہنا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح سے اہل اور تیار ہیں جس کا واضح ثبوت فروری 2019 میں بھارتی دراندازی پر اس کے پرعزم ردعمل سے ہوتا ہے، اس لیے کسی کو بھی اس حوالہ سے کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 240 ملین عوام کی پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ اور متحد ہے اور اپنی مادر وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ یہ پیغام سب کے لیے واضح ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے پیارے پاکستان کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے اپنا غیر متزلزل عزم جاری رکھے گا کیونکہ ہم نسل انسانی کے اتحاد پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے اس وقت تک پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے جاری جدوجہد اور عظیم قربانیوں کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہماری دلی خواہش ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ پرامن رہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری مخلصانہ کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا ہے اور برادر اور ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور افہام و تفہیم کے لیے اپنی کوششوں کا اشتراک کیا ہے تاہم انہوں نے عبوری افغان حکومت کو ایک واضح پیغام بھی دیا کہ ہم کابل کے ساتھ پرامن ہمسایہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ فتنہ الخوارج پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اپنی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف منظم طریقے سے باقاعدہ مہم چلانے کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اپنی مظلوم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’…























