ون پوائنٹ
نوید نقوی
==========

یہ سنہ 2002 کی بات ہے، بھارتی ریاست گجرات کا وزیر اعلیٰ بذات خود بلوائیوں کو آشیر باد دے رہا ہے۔ ہندوستان کی مرکزی حکومت خاموش رہتی ہے اور اس کاروباری لحاظ سے اہم ریاست میں ہزاروں مسلمانوں کو انتہا پسند ہندو تنظیموں نے راتوں رات بیدردی سے قتل کر ڈالا، پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے سیاہ چہرے کو بے نقاب کیا لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ بھارت ایک ارب چالیس کروڑ انسانوں کی ایک بڑی منڈی بھی ہے اس لیے کوئی بھی مغربی ملک یا اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارہ اس منڈی کو کھونا نہیں چاہتا، یوں مسلمان کا خون تھا ، سو رائیگاں گیا، نام نہاد عالمی انسانی حقوق کے چیمپئن اس نسل کشی کو اسی طرح بھول گئے جیسے غزہ میں اسرائیلی درندگی سے چشم پوشی کیے ہوئے ہیں، پاکستان خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔
یہی پچھتر سالہ مودی 2014 میں اپنی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا مرکزی رہنما بن کر ابھرتا ہے اور راتوں رات میڈیا اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اس قاتل کو بھارت کا نجات دہندہ بنا دیا اور یہ پہلی بار 2014 کے انتخابات میں ملک گیر اور مقبول سیاسی جماعت کانگریس کو شکست دے کر بھارت کا وزیراعظم بن جاتا ہے۔ اس وقت سے یہ اب تک تیسری بار بھارت کا وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوا ہے۔ کیوں اور کیسے ؟ یہ بنیادی طور پر آر ایس ایس کا تربیت یافتہ ہے اور اس کے رگ و پے میں مسلمان سے نفرت شامل ہے۔ اس کی سیاست کا دارومدار مسلمانوں سے نفرت کو ہوا دے کر ہندوؤں سے ووٹ لینا ہے، نریندر مودی گجرات کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا اور اپنے والد کے ساتھ ریل گاڑیوں میں چائے بیچی اور بچپن میں ہی آر ایس ایس کا ممبر بن گیا بعد ازاں یہ بی جے پی میں چلا گیا اور تنظیمی عہدوں پر مختلف ادوار میں ترقی کرتا رہا۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ ہو یا بزنس ٹائیکون سب کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے یہ بہترین شخص ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کانگریس کے منموہن سنگھ کے دور حکومت میں پاکستان، انڈیا تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن پھر 2008 میں ممبئی میں حملے ہوتے ہیں اور بی جے پی اور اس سے وابستہ میڈیا ان حملوں کا ذمہ دار بغیر کسی ثبوت اور تحقیقات کے پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ یوں ایک نیو کلیئر فلیش پوائنٹ ہمیشہ کے لیے حل ہوتا رہ گیا۔ نریندر مودی کی بی جے پی 2014 سے اقتدار میں ہے اور اس دوران پاکستان اور بھارت کئی بار جنگ کے دہانے تک پہنچے ہیں۔ 2016 میں اوڑی سیکٹر میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس پر ہوئے حملے میں جوان مارے گئے تو مودی نے براہ راست پاکستان پر الزامات لگائے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت سمیت تمام تعلقات ختم ہوگئے تھے، اس کے بعد 14 فروری 2019 میں انڈیا کے غیر قانونی قبضے والے کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں لیت پورہ ہائی وے پر دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک کار انڈین نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکاروں سے بھری ایک بس سے جا ٹکرائی تھی جس میں انڈین فوج کے 40 سے زیادہ جوان و افسر واصل جہنم ہوئے تو مودی نے غضب ناک ہو کر ایک بار پھر اپنی ٹڈی دل افواج پاکستان کی سرحد پر جمع کر دی تھیں۔ دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے اور محدود سطح پر ایک دوسرے کو اپنی طاقت دکھائی، یہاں بھی مودی کو منہ کی کھانی پڑی اور پاکستان نے بھارتی جنگی جہاز کو گرا کر اور پائلٹ ابھینندن چکروتی کو گرفتار کر کے اپنی برتری ایک بار پھر ثابت کر دی۔ مودی پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ نہیں لڑ سکتا تھا اس لیے اپنے ملک کے مسلمانوں کے خلاف مظالم تیز کر دیے اور پانچ اگست2019 کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، مسلمان اکثریت کی حامل ریاست کو بھارت میں شامل کر دیا۔ مودی نے نہ صرف کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی بلکہ آئے دن اس کی افواج بیگناہ کشمیریوں کا خون بہا رہی ہیں۔ مودی اپنے دوست فلسطینیوں کے قاتل بنجمن نیتن یاہو کے نقش قدم پر عمل پیرا ہے۔ تمام تر مظالم کے باوجود جب کشمیری نوجوانوں نے بھارتی بزدل افواج کے آگے سرنڈر کرنے سے انکار کیا تو مودی اب پاکستان کے ساتھ مکمل جنگ چھیڑنے کے درپے ہے۔ 1960 میں سندھ طاس معاہدے کے بعد اب تک بھارت کا یہ پہلا وزیر اعظم ہے، جس نے اس تاریخی اور اہم معاہدے کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاہدے کی رو سے ہم پہلے ہی تین دریا بھارت کو دے چکے ہیں۔ اب پانی ہماری زراعت، معیشت اور ملکی بقا کے لیے اہم ترین ہے اور یہی پانی مودی بند کرنا چاہتا ہے۔ مطلب پاکستان کی شہ رگ کاٹنا اس کے مذموم مقاصد میں شامل ہے۔ اس لیے یہ بہترین وقت ہے قاتل نیتن یاہو کے دوست کو نشان عبرت بنایا جائے اور پوری قوت سے اس منافق، عیار ہمسائے کو جواب دیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قوم میں اتحاد ہو اور قربانی کا جذبہ بھی ہو تب ہم ایسے مکار دشمن کو نیست و نابود کر سکیں گے























