
کراچی25 اپریل۔سندھ حکومت نے کراچی شہر کےسپراسٹورز اورسپر مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی برانڈڈ اشیاء کی قیمتیں مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں برانڈڈ اشیاء کی تیاری کی لاگت اور ان پر منافع کے مارجن سے متعلق تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز زاہد حسین شر کی زیر صدارت آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بیورو آف سپلائی کے اعلیٰ افسران کے علاوہ کراچی کے تمام بڑے سپر اسٹورز اور سپر مارکیٹوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی زاہد حسین شر نے واضح کیا کہ اب کراچی میں کاروبار کرنے والے تمام اداروں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ بیورو آف سپلائی کے پاس اپنے گوداموں کا باقاعدہ اندراج کرائیں اور ان کی تجدید کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے صارفین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صارف تحفظ ایکٹ پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ڈی جی بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز نےشرکاء کو آگاہ کیا کہ حکومت سندھ نے انہیں ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کو روکنے کے ساتھ ساتھ کراچی میں تیارکردہ اور برانڈڈ ضروری اشیاء کی قیمتوں کا تعین کرنے کا خصوصی اختیار دیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی میں اگلے ماہ تک تمام برانڈڈ اشیاء کی حتمی قیمتیں مقرر کر دی جائیں گی۔ اس سے قبل اشیاء کی تیاری کی اصل لاگت اور ان پر رکھے جانے والے منافع کی شرح کے بارے میں مکمل اور تفصیلی معلومات جمع کی جائیں گی۔ ڈی جی زاہد حسین شر نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ قیمتوں کےمناسب ضابطے کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی صورت میں ناجائز منافع خوری کی اجازت نہ دی جائے۔زاہد حسین شر نے اس موقع پر مزید کہا کہ سندھ حکومت کا یہ اہم اقدام کراچی کے شہریوں کو برانڈڈ اشیاء مناسب اورکنٹرول شدہ قیمتوں پر باآسانی دستیاب کرانے اور شہر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کی سنجیدہ کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 462۔۔۔آئی ایس























