وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے آج نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے آج نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ وفاقی وزیر نے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔

اہم فیصلے اور ہدایات:
وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں موٹروے کی حفاظت اور ٹریفک قوانین پر بریفنگ حاصل کی اور کئی اہم فیصلے کیے:

20 سال پرانی گاڑیوں پر پابندی: موٹروے پر 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کی چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ٹائرز کی حفاظت: گاڑیوں کے لیے علیحدہ سے ٹائر سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “جانوں سے کھیلنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔”

زیرو ٹالرنس پالیسی: اوور اسپیڈنگ اور ایکسیڈنٹس کی بڑی وجہ ایکسل لوڈنگ پر سختی سے کارروائی جاری رہے گی۔

کمرشل ڈرائیورز کی تربیت: تمام کمرشل ڈرائیورز کو لازمی تربیت یافتہ ہونا ہوگا، اور متعلقہ حکام کو ٹریننگ کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی گئی۔

فٹنس سرٹیفیکیٹ: کمرشل گاڑیوں کو اگلے 3 ماہ کے اندر فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

حادثات میں کمی کی کوششیں:
وفاقی وزیر نے کہا کہ “ہم شاہراہوں پر حادثات میں نمایاں کمی لانا چاہتے ہیں۔” انہوں نے موٹروے پولیس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اوور اسپیڈنگ کے خلاف ایف آئی آر کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “عوام کی جانوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔”

کنٹرول روم کا معائنہ:
وزیر مواصلات نے موٹروے پولیس کے کنٹرول روم کا دورہ کیا اور طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ “ایسی جگہیں جہاں بار بار حادثات ہوتے ہیں، ان کے لیے خصوصی حکمت عملی بنائی جائے۔”

موٹروے کی باڑ چوری کے خلاف کارروائی:
بریفنگ میں بتایا گیا کہ موٹروے کی باڑ چوری کے 53 مقدمات درج کیے گئے ہیں، 36 ملزمان گرفتار ہوئے ہیں، جبکہ 2000 میٹر سے زائد چوری شدہ باڑ برآمد کی گئی ہے۔

شہید انسپکٹر کو خراجِ عقیدت:
وفاقی وزیر نے موٹروے پر دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے انسپکٹر منصور اصغر کی مغفرت کے لیے فاتحہ خوانی کی اور تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔

اختتامی نوٹ:
وفاقی وزیر کے دورے اور ہدایات سے موٹروے پولیس کے اہلکاروں میں نئی جوش پیدا ہوئی ہے، اور امید ہے کہ ان اقدامات سے شاہراہوں پر حفاظت اور نظم و ضبط میں مزید بہتری آئے گی۔