
نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر
پہلگام وادیِ بالٹستان کا ایک حسین مقام ہے، جو وادیٔ کشمیر کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔ یہاں کے پہاڑی مناظر، خوبصورت نالے اور برف پوش چوٹیاں سیاحوں اور عُشّاقِ قدرت کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ لیکن تاریخِ حال میں پہلگام بدقسمتی سے امن و امان سے محروم ہو کر ایک المناک سانحے کا مرکز بن گیا، جب بھارتی فورسز نے مظلوم کشمیری عوام پر بھارتی زہر فشانی کا مظاہرہ کیا۔
پسِ منظر:
بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی کڑی نگرانی اور جبر و تشدد کے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے لگاتار بھارتی افواج کی مبینہ زیادتیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں بنیادی شہری آزادیوں کی خلاف ورزیاں اور وفاقی قوانین کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ ایسے میں پہلگام کا علاقہ ایک حساس …
پہلگام بھارت کا ڈرامہ، پاکستان اصل نشانہ ہے,شجاع الدین شیخ
یہ ایک فالس فلیگ منصوبہ تھا جس کے تانے بانے اسرائیل، امریکہ اور خود بھارت کے ابلیسی اتحاد ثلاثہ سے جڑتے ہیں، دنیا بھارت کا مکروہ چہرہ پہچان چکی ہے
انتہا پسند مودی عرصے سے پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا تھا،بھارت کی پاکستان کے خلاف مہم جوئی اسے مہنگی پڑے گی
کراچی (نعیم اختر)پہلگام بھارت کا ڈرامہ اور پاکستان اصل نشانہ ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ پر بھارت اور اس کے اتحادیوں کے پاکستان مخالف ردِ عمل نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ منصوبہ تھاجس کے تانے بانے اسرائیل، امریکہ اور خود بھارت کے ابلیسی اتحادِ ثلاثہ سے جڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسند مودی ایک عرصہ سے پاکستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا تھا جس کا دبے لفظوں میں اظہار اس نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی کر دیا تھا۔ پھر یہ کہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل اپنے توسیعی منصوبے یعنی گریٹر اسرائیل کو آگے بڑھانے کے لیے اس بات کو ناگزیر سمجھتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی دانت توڑے جائیں۔ پاکستان کی نظریاتی اساس کے حوالے سے خدشات کا اظہار اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں فتح کے بعد پیرس میں جشن کے دوران ہی کر دیا تھا۔ پھر یہ کہ چند برس قبل حالیہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی دانت توڑنے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں نہ صرف یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا بلکہ اپنا سفارت خانہ بھی مسلمانوں کے اس مبارک و مقدس شہر میں منتقل کر دیا۔ ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر نے ابراہم اکارڈز کے نام پر اسرائیل کے بعض عرب اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کروائے۔ اسی دوران ٹرمپ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے 87فیصد علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ ڈیل آف دی سینچری کے نام سے پیش کیا ۔ امیر تنظیم نے کہا کہ اپنے پہلے دور حکومت میں امریکی صدر ٹرمپ نے دورۂ بھارت کے دوران بھی کئی ایسے معاہدے کیے جن کا مقصد بھارت کو پاکستان پر عسکری اور معاشی برتری دلانا تھا۔ افسوس اس امر پر ہے کہ
مملکتِ خداداد پاکستان کے ماضی اور حال کے حکمران اور مقتدر حلقے اب بھی امریکہ کے سحر میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں اور اسی نادانی میں چین اور افغانستان جیسے ہمسایوں کو بھی ناراض کر بیٹھے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج پاکستان سیاسی طور پربدترین اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور معاشی طور پر ہم مکمل طور پر مفلوج بلکہ معذور ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ تو کلبھوشن جادھو جیسے دہشت گرد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا سکا ہے اور نہ ہی اپنے ازلی دشمن بھارت کی پاکستان سمیت کینیڈا اور امریکہ میں ثابت شدہ دہشت گرد کاروائیوں کے خلاف کسی فورم پر بھی آواز بلند کر پایا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں امریکی نائب صدر کی اپنی بھارتی نژاد اہلیہ کی موجودگی میں ایک ڈرامہ رچا کر پاکستان کو نشانے پر رکھ لیا ہے اور امریکہ و اسرائیل بھارت کے حمایتی بن کر سامنے آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے، پانی ابھی سر سے نہیں گزرا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے دفاع کے لیے عسکری اداروں اور عوام کا ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر خاص و عام اپنے انفرادی و اجتماعی جرائم اور گناہوں سے تائب ہو اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔ اسلام ہی وہ واحد قوت ہے جو کراچی سے لے کے خیبر اور کوئٹہ سے لے کر لاہور تک پاکستان کے مسلمانوں کو یکجا کر سکتی ہے۔ یہ ملک اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا اور ملک کی بقاء اور سلامتی بھی اسلامی نظام کے نفاذ میں ہی مضمر ہے۔























