سندھ ہائیکورٹ ، چائنیز شہریوں کی رہائش پر دھمکیوں کیخلاف کارروائی کا حکم


سندھ ہائیکورٹ ، چائنیز شہریوں کی رہائش پر دھمکیوں کیخلاف کارروائی کا حکم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے چائنیز شہریوں کو رہائش فراہم کرنے پر ہوٹل منیجر کو پولیس کی جانب سے دھمکیاں دینے کے معاملے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر پولیس انسپکٹر آغا رفیق کو حلف نامہ جمع کروانے کے بعد 14 مئی کو طلب کر لیا۔

ہائیکورٹ میں ہوٹل منیجر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چائنیز شہری باقاعدہ طریقے سے ایئرپورٹ رجسٹریشن کرانے کے بعد ہوٹل آتے ہیں، جہاں انتظامیہ تمام سیکیورٹی پروٹوکولز کا خیال رکھتی ہے۔ تاہم، پولیس اہلکاروں نے ہوٹل کو چائنیز مہمانوں کو رہائش دینے سے منع کیا اور دھمکیاں دیں۔

درخواست میں الزام لگایا گیا کہ گزشتہ سال اپریل میں پریڈی تھانے کے ایس ایچ او آغا معشوق علی نے ہوٹل مالک کو تھانے طلب کر کے لاک اپ کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر آئندہ چائنیز شہریوں کو رہائش دی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کی جانب سے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے کسی کو ہراساں نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کریں گے۔

عدالت کا سخت ردعمل:
جسٹس ظفر احمد راجپوت نے پولیس کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، “اگر آسمان سے دس فرشتے اتر کر یہ کہیں کہ پاکستانی پولیس کبھی ہراساں نہیں کرتی، تو بھی کوئی یقین نہیں کرے گا۔ پولیس کے کرتوت ایسے ہیں کہ ان پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔”

عدالت نے سرکاری وکیل کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ ایس ایچ او آغا معشوق کا بیان کسی اور اہلکار (سب انسپکٹر عبدالقیوم) نے لکھا ہے۔ جسٹس راجپوت نے سوال اٹھایا، “کیا ایس ایچ او اتنا بڑا افسر بن گیا ہے کہ اس کی طرف سے کوئی اور بیان دے؟ یہ بیان پیش کرنے والوں نے غلط بیانی کی ہے۔” اس پر کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں اور سرکاری وکیل نے معذرت کر لی۔

عدالت کے اہم ریمارکس:

پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو اختیار ہے کہ وہ ہوٹل جا کر چائنیز یا دیگر غیر ملکیوں کے دستاویزات چیک کریں، لیکن دھمکیاں دینا یا کاروبار کو نقصان پہنچانا غیر قانونی ہے۔

“سفید پوش منیجرز کو تھانے بلانا اور لاک اپ کی دھمکیاں دینا کون سا قانون ہے؟ محکموں کا کام عوام کی خدمت ہے، نہ کہ انہیں پریشان کرنا۔”

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی کی عزت یا کاروبار کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری متعلقہ اہلکاروں پر ہوگی۔

آئندہ تاریخ:
عدالت نے انسپکٹر آغا معشوق علی کو حلف نامہ جمع کروانے کے بعد 14 مئی کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت تک پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہوٹل انتظامیہ کو کسی قسم کی ہراساں نہ کریں۔