سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی،
===========

لندن طویل تاریخ و ثقافت اور ایک مضبوط ہیریٹیج رکھنے والا دنیا کا قدیم اور ترقی یافتہ شہر ہے۔ اسی باعث دنیا کے امیر و غریب اس شہر میں رہنا چاتے ہیں۔ لیکن اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ یہاں مسائل نہیں ہیں۔ مسائل تو ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پیدا بھی ہوتے ہیں، لیکن حکومت کافی حد تک دیانت دار، امانت دار، ادارے متحرک ہیں ۔ منتخب نمائندوں کی اہمیت ہے اور ان کو فیصلے کرنے کا مکمل اختیار ہے۔ وہ اسمبلی ممبر ہوں یا بلدیاتی نمائندے عوام و ملک کے مفاد میں انہوں نے ہی فیصلے کرنے ہیں اور ان فیصلوں کے جواب دہ بھی وہی ہیں۔ ہمارے ہاں تیسری دنیا میں جواب دہی کا ذمہ نہیں اور نہ کوئی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اس لیے ترقی کا عمل رکھا ہوا ہے۔ جدید بلدیاتی نظام تو انگلستان ہی کی تخیلق ہے تب ہی تیسرے درجے کی حکومت کا جو تصور انگلستان، یا لندن میں ہے وہ دنیا بھر میں نہیں۔ اسی باعث یہاں سوک، یا بلدیاتی مسائل کا کافی حد تک بلکہ 99 فی صد خاتمہ ہے، تب ہی لندن کے شہریوں کو بہت سارے تفکرات ضرور ہوں گے لیکن بجلی، پانی، گیس یا صفائی ستھرائی اور گھر کے کچرے کو ٹھکانے لگانے سمیت بنیادی ضروریات زندگی کی فکر نہیں۔ اور نہ ہی شہری پانی بھرنے کی خاطر راتوں کو مشین چلانے کے لیے جاگتے ہیں۔ منرل واٹر خریدنے کے لیے اضافی رقم کی بھی ضرورت نہیں۔ پائب لائنز میں جو پانی آتا ہے وہ اتنا صاف، شفاف اور معیاری ہے کہ ایک ہی نلکے کا پانی جسم کے اندر و باہر کی صفائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ شکایت بھی نہیں کہ لائن کا پانی کبھی بند ہو گیا تو ٹینکرز مافیا کی رحم و کرم پر ہیں کہ کب ٹینکر آئے اور واش روم جائیں یا ہاتھ منہ دھوئیں اور یہ بھی فکر نہیں کہ بچے ہاتھ منہ دھوئے بغیر سکول چلے جائیں ۔ جس ملک میں لوگوں کو واش روم کے استعمال تک محتاج کر دیا جائے وہاں ترقی کی کیا مثال دی جا سکتی ہے۔ لندن کے گھروں میں واٹر ٹنک نہیں بنائے جاتے نہ چھت پر نہ زیر زمین۔ اس طرح کا اقدام جرم ہے۔ پانی چوں کہ ہر جان دار کی ضرورت ہے اسے اسٹور کر کے آپ اس کو ضرورت سے محروم نہیں کر سکتے، ہاں آپ اپنی ضرورت پوری کریں وہ وافر مقدار میں آپ کے نلکے میں ہر وقت موجود ہے، لیکن مال مفت دل بے رحم کے مصداق آپ پانی جیسی عظیم نعمت کو ضائع کریں یہ ممکن نہیں۔ ہر گھر کے لیے مکینوں کے حساب سے کوٹہ مقرر ہے اور گھر کے لیے مکینوں کا بھی تعین کہ اس گھر میں زیادہ سے زیادہ کتنے لوگ رہ سکتے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہوا سکتا کہ گھر میں پانچ افراد کی رہائش کی گنجائش ہے اور 15 رہائش پذیر ہیں۔ اس کا تعین کر دیا جاتا ہے کہ اتنے بل کے اندر آپ نے اتنا پانی استعمال کرنا ہے۔ وہ کوٹہ اس قدر ہوتا ہے کہ احتیاط سے استعمال کیا جائے تو کسی صورت کم نہیں پڑتا۔ اگر اس سے زیادہ استعمال ہوا تو اس کا یہ مقصد لیا جاتا ہے کہ بے احتیاطی برتی جا رہی ہے یا مکین مقدار سے بہت زیادہ ہیں۔ گھر کے سربراہ کو ای میل یا واٹس ایپ پر ایک نوٹس آتا ہے کہ آپ کے گھر میں پانی ضائع ہو رہا ہے کنٹرول کریں اگر اس پر عمل نہ ہوا تو بل ایسا آئے گا کہ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ پھر تو احتیاط کی ایسی عادت پڑتی ہے کہ انسان محلے والوں کو سمجھانے لگتا ہے۔ لندن کی گلیوں میں کچرا نظر نہیں آتا اور نہ ہی کنٹینر رکھے ہوئے ہیں جہاں حشرات الاارض اور حشرات الفرش کا بسیرا ہو، اور پورا دن آوارہ کتے بلیوں کی آماج گاہ بنیا رہے۔۔ تعفن اور بدبو ایسی کہ قریب سے گزرتے ہوئے قے آئے جیسے کہ ہمارے ہاں گلی محلوں میں یہ عام سی بات ہے۔ لندن کے شہری گھر کا کچرا پلاسٹک کے کالے بیگ میں جمع کرتے ہیں صبح گھر کے باہر نمایاں جگہ پر رکھتے ہیں کہ آنے والے بلدیاتی عملے کی نظر سے اوجل نہ رہے۔ کونسل کی گاڑی کے ڈرائیور کے ساتھ ایک اور ملازم ہوتا ہے گاڑی آگئیں بڑتی جاتی ہے ملازم کالا تھیلا اٹھا کر گاڑی میں پھنگتا جاتا ہے۔ صفائی کا عمل مکمل ہوا۔ اسٹریٹ لائٹ کا بھی بہترین نظام ہے لیکن لندن کے رہائشی بھی اس حوالے سے فراغ دل ہیں کہ فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کے لیے انہوں نے بھی دیدہ و دل فرش راہ کیا ہوا ہے۔ ہر گھر اگر نہیں تو ہر دوسرے گھر کے دروازے کے ساتھ سینسر بلب لگا رکھا ہے گزرنے والا جب اس دروازے کے پاس پہنچتا ہے تو بلب روشن ہو جاتا ہے، راہگیر جب گزر جاتا ہے تو بلب بج جاتا ہے۔ اس پر میری رائے تھی کہ یہ بلب اسکورٹی مقاصد کے لیے لگایا گیا ہے لیکن لندن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فٹ پاتھ پر چہل قدمی کرنے والوں کی سہولت کے لیے ہے۔ لندن میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہت مضبوط ہے اور قابل تعریف ہے ۔ سرخ رنگ کی ڈبل منزل بسیں اور ریلوے نظام نے پورے شہر کو حصار میں لے رکھا ہے۔ لال بسیں تو محلے محلے اور گلی گلی گھوم پھر کر مسافروں کو اٹھاتی ہیں اور مختلف علاقوں تک پہنچاتی ہیں جیسے ہمارے ہاں سڑکوں پر چنچی رکشہ نظر آتے ہیں اسی طرح لندن کی سڑکوں پر لال بسیں ایک سے پیچھے ایک دوڑتی ہے۔ بس منزل پر بر وقت پہنچنے کے لیے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے بس میں سوار ہونا ہوتا ہے، ورنہ وقت پر پہنچانے کی ضمانت نہیں۔ بسیں پورا شہر گھومتی ہیں اور ہر بس اسٹاپ پر رکھتی ہیں لہٰذا تاخیر ہونا تو بنتا ہے۔ لندن کے لوگ مئیر صادق خان کو دعائیں دیتے ہیں جنہوں نے کرایہ کا آسان نظام وضع کیا ہے۔ کسی بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں سے رقم نہیں لی جاتی بلکہ کرایہ کارڈ سے چارج ہوتا ہے جس کو مسافروں سوار ہوتے ہی دروازے پر لگی مشین پر اسکریچ کرتے ہیں۔ اس کے اکاؤنٹ سے رقم کرایہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے کتنا آسان کر دیا کرپشن کو ختم کرنا اور بلا ضرورت اخراجات کو کم کرنے کا طریقہ لندن کے ٹرانسپورٹ نظام میں ہی نظر آ جاتا ہے ۔ اگر ٹیکنالوجی نہ ہو تو اسی بس پر کتنے لوگ معمور ہوں، ٹکٹ فروخت کرنے والا، اس کو چیک کرنے والا، ان کے اوپر انسپکٹر، پھر ایریا مینیجر، ان پر افسران بالا۔ لاکھوں روپے، تنخواہوں میں گئے اور ہر ایک کا،حصہ الگ الگ۔ ” نَنگی کیا نَہائے گی کیا نِچوڑے گی” بس نے کیا خاک چلنا ہے۔ بلآخر کراچی ٹرانسپورٹ کی بسوں کی طرح لندن کی سڑکوں پر سے بھی لال بسیں غائب ہو جائیں گی۔۔ لندن کی ایک بس پر صرف ایک ملازم ہے وہ ہے ڈرائیور، ٹکٹ چوری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جو بس میں داخل ہوا، اس نے کارڈ سکریچ کرنا ہے نہیں کرے گا تو خود کار نظام اس کا ریکارڈ مرتب کرے کا ۔ وہ چوروں میں شامل ہو گا اور سب کچھ بند ہو جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک جتنی مرتبہ بس میں بیٹھیں کارڈ سے رقم چارج کرانی پڑتی تھی۔ رات کو گھر پہنچ کر لوگ حساب لگاتے تھے کہ کرایہ کی مد میں آج کتنے پوانڈ کٹے۔ مئیر لندن صادق خان نے وقت مقرر کر دیا کہ اس دوران جتنی مرتبہ جتنی گاڑیوں میں بھی سفر کریں کرایہ پہلی بس میں جو چارج ہوا وہی شمار کیا جائے گا۔ وقت ختم ہونے کے بعد دوسری مرتبہ کا کرایا شروع ہو گا۔ زیادہ تر لوگ کوشش کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کے کرایہ کی ادائیگی میں منزل تک پہنچ جائئں چاہئے چار مرتبہ ہی بس تبدیل کرنا پڑے۔ اس فیصلے سے عوامی ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کے سیکڑوں پاونڈ کا ماہانہ فائدہ ہو رہا ہے ۔ محلے سے بس پر بیٹھ کر لوگ ریلوئے اسٹیشن پر پہنچتے ہیں وہاں سے کارڈ چارج کر کے اسٹیشن میں داخل ہوتے ہیں اور پھر کوئی ادائیگی نہیں ہوتی اسی رقم سے لندن کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آپ آرام دہ سفر کر سکتے ہیں۔ ریلوے نظام بھی بہت شاندار ہے۔ میں نے بسوں اور ٹرینوں میں متعدد بار سفر کیا، میں سفری سہولتوں کا جائزہ لینے چاہتا تو تھا ہی لیکن ہمارے پاس بھی سواری کا معقول انتظام نہیں تھا جب کہ ٹیکسی کا استعمال بہت مہنگا سفر ہے جو برداشت سے باہر ہے۔ ایک روز صاحبزادی کے ساتھ ٹیکسی پر اسپتال جانا ہوا، آنے جانے کے 27 پونڈ خرچ ہوئے، پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا تو جان نکل گئی، لگ بھگ دس ہزار روپے میں ہم نے چند کلومیٹر پر آنا جانا کیا۔ اتنے مہکی ٹرانسپورٹ برداشت کرنا بہت مشکل ہے ایسے موقع پر چیبچی بہت یاد آیا لیکن یہاں چینچی کا تصور تک نہیں ہے۔ لندن پر دیسی انگریزوں کی اکثریت دیکھی خاص طور پر کچھ علاقوں پر تو ان کا مکمل قبضہ ہے۔ ان کی اکثریت اور حرکات دیکھ کر انگریز ہجرت کر گئے ۔ ہماری رہائش ساوتھ لندن میں تھی جہاں، بھارت بنگلہ دیشی اور پاکستانیوں کا مکمل کنٹرول ہے، اور کچھ افغانی بھی ہیں لیکن برطانیہ کے اصل وارث ایک فیصد بھی نظر نہیں آئے۔ سکھوں کے علاوہ کوئی بھی دوسری برادری بطور کمیونٹی نہیں رہتی ، سکھ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں، ان کی عبادت گاہیں اور کاروبار بھی خاصا اچھے اور مضبوط و منظم ہے۔ ایک پارک میں جانا ہوا، 15، 20 سردار جی بیٹھے کپ شپ میں مصروف تھے پہلے تو میں نے سمجھا کہ کوئی اہم میٹنگ کر رہے ہوں گے۔ لیکن مجھے اندازہ ہوا کہ محض تفریح پروگرام چل رہا ہے صرف جمع ہو کر دکھ درد بانٹنے اور تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں ۔ ساوتھ ہال کے کمرشل علاقے کی فٹ پاتھ پر آپ کو ہرگز یہ محسوس نہیں ہوتا کہ آپ لندن میں ہیں۔ لگے گا کہ لاہور یا کراچی میں ہیں۔ فٹ پاتھ پر چیل قدمی کرتی عورتیں اور مرد سب ہی ٹھیٹ پنجابی بول رہے ہوتے ہیں یا اردو۔ دوکانیں بھی دیسی انگریزوں کی ہیں اور بلا ججک دیسی زبان میں ان کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ ایک بڑے گروسری اسٹور کے کاونٹر پر نوجوان خاتون کھڑے تھی۔ اس نے ہم سے اردو میں پوچھا کہ آپ اس علاقے میں نئے آئے ہیں۔ میں نے کہا اس علاقے میں نہیں بلکہ انگلستان میں نئے آئے ہیں ۔ وہ مسکرائی اور دوسرا سوال پوچھا کہ ہندوستان کے کس علاقے سے ہیں۔ میں نے کہا ہندوستان میں نہیں پاکستان کے شہر کراچی میں رہتے ہیں لیکن کشمیری ہیں ۔ میری طرف دیکھا کچھ کہنے چاتی تھی مگر خاموش رہی۔ میں نے اس سے یہی سوال پوچھا تو اس نے بتایا کہ گرداس پور پہنجاب سے تعلق ہے ہمارا۔ ہم نے اس کو تاریخی حوالا بتانے کی کوشش کی کہ گرداس پور سیالکوٹ کے قریب تحصیل ہے جو پاکستان کو ملنی تھی مگر عین وقت پر تقسیم کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ تحصیل بھارت کے نقشے میں شامل کر دی گئی۔ اگر یہ پاکستان میں شامل ہوتی تو آج آپ پاکستانی ہوتی اور کشمیر پر بھی بھارت کا قبضہ نہ ہوتا۔ اس کے جواب میں اس نے بس ایک خوب صورت مسکراہٹ ہی دی۔ ساوتھ ہال ہی نہیں لندن کے بہت سارے علاقوں پے دیسی انگریز یا نیو بریٹن کا قبضہ ہے تب ہی برطانوی پارلیمنٹ میں دیسی انگریزوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔ ساوتھ ہال ہی کے علاقے میں ایک دوکان کے باہر انگریزی اور اردو میں کراچی کی سوغات اور کراچی بریانی کا بورڈ تھا، ہم نے کراچی کی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی تو اندازہ ہوا کہ لندن میں کراچی بریانی صرف نام کی حد تک ہے۔























