ایس ایم شکیل: صحافت کا دمکتا کردار رخصت ہوا

تحریر: سہیل دانش
نہ جانت کتنے سال گزرگئے وہ ہم سب کی نظروں کے سامنے تھے، مجھے وہ پہلی ملاقات بھی یاد ہے جب تین دہائیوں سے بھی زیادہ کا عرصہ گزرا۔ برادرم خالد اطہر نے ایسے نوجوان سے متعارف کرایا جو دھیما بھی تھا لیکن پرجوش بھی۔ پھر وہ چمکتا دمکتا رہا۔ ابلاغ کے ایک ستارے کے طور پر اُس نے ہر دلعزیزی بھی کمائی اور محبتیں بھی سمیٹیں۔ وہ پوری توانائی، اُمید اور نوید کے ساتھ محو سفر رہا۔ وہ دور بھی رہا۔ جب تانتا باندھے ملاقاتوں کا سلسلہ تھا پھر اپنی اپنی مصروفیات نے انہیں سکیڑ دیا لیکن وابستگی اور محبت کا سفریونہی چلتا رہا دوبارہجب ابوظہبی ساتھ جانے کا اتفاق ہوا تو دورانِ سفر اور قیام کے دوران اُنہوں نے جس ایثار، محبت اور احترام کا سلوک روا رکھا۔ وہ میرے ذہن پر آج بھی نقش ہے۔ انہوں نے نوجوانی اور جوانی کے ادوار جس انداز میں گزاردئیے۔ اُن کی نہ جانے کتنی باتیں اور یادیں ہیں۔ ابلاغ کی دنیا بہت مشکل اور کٹھن ہے۔ عام فہم زبان میں کسی نیوز ایجنسی میں کام کرنا اخبار یا چینل کے لئے خبریں سمیٹنا اُن کی خوبی یہ تھی کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی چال بھی بدلتے رہے اور اُس کے تقاضے بھی نبھاتے رہے۔ اُنہیں رپورٹنگ ڈیسک، ایڈیٹنگ اور رپورٹرز کی سربراہی جیسی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہوتے دیکھا۔ اے آر وائی میں جب بیورو چیف بنے تو یہ چلینج روزانہ درپیش تھا۔ گفتگو، استدلال، نشست و برخاست کے دوران حوصلہ سلیقہ اور وضعداری کا رنگ غالب رہا۔ طبیعت میں کج بحثی تکرار اور اپنی معلومات کی بنیار پر دوسرے کو ڈھانے کی عادت نام کو نہ تھی۔ اُنہیں بے قرار رپورتر یا نیوز مین تو نہیں کہوں گا۔ لیکن خبروں کی ترتیب میں انتشار پر قابو پانے کا فن اُنہیں آتا تھا۔ میں پوری ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے سے بڑی عمر کے “احباب” سے حد ادب شکیل بھائی کی زندگی کا خاصہ تھا۔ ایک بار الطاف بھائی سے ملانے لے گیا۔ اُس دِن کے بعد وہ بھی شکیل سے شکیل بھائی بن گئے۔ گورنری کے دور میں متعدد بار ڈاکٹر عشرت العباد کی سرکاری رہائش گاہ میں مشترکہ طورپر کھانے پینے کا کوئی نہ کوئی بہانہ بن جاتا۔ ڈاکٹر صاحب دوستوں کے دوست تھے۔ اُن کا دسترخوان بھی اُن کی محبتوں کی طرح وسیع تھا۔ شکیل بھائی نے زندگی بھر دوستوں پر محبتیں نچھاور کیں اُن کی اِس خوبی نے اُنہیں اے آر وائی کے بزرگ مالکان سے لے کر محترم سلمان اقبال تک کا “لاڈلہ” بنادیا تھا ایسے ہی جیسے برادرم وسیم بادامی، برادرم اقرارالحسن اور برادرم فہد مصطفی اور عزیزی ندا یاسر اور نہ جانے کتنے اُن کے چہیتے ہیں۔ یہ سب اُس فہرست میں ہیں جو نہ جانے کن کن ترغیبات کے باوجود کہیں اور پرواز کرنے کا نہیں سوچتے۔ چند ماہ قبل شکیل بھائی سے پریس کلب میں ملاقات ہوئی تھی تو وہ مجھے تھکے تھکے دکھائی دئیے۔ بیماری کے آثار نمایاں تھے۔ جو اُن پر جھپٹ پڑی تھی۔ نجی ہسپتال میں آخری دنوں میں اُس وقت جانا ہوا۔ جب وینٹیلیٹر پر پہنچ کر زندگی اور موت کے فاصلے سمٹنے لگتے ہیں پھر وہ نارتھ ناظم آباد میں اپنی رہائش گاہ سے کفن کی سفید چادر اوڑھے اُس طویل سفر پر روانہ ہوگئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا، اُن کے اہل خانہ کے لئے اُنکی جدائی ایک سانحہ عظیم ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ تو چلے گئے لیکن اپنے دوستوں اور احباب کو حد درجہ افسردہ اور ویران کرگئے وہ اپنی زندگی کا سفر بڑی تیزی سے طے کرگئے سب کہہ رہے تھے وہ بہت جلدی چلے گئے لیکن کیا کیجئے اُن کی باری آگئی تھی اللہ رب العزت سے دُعا ہے کہ وہ بے شمار خوبیوں کے حامل سب کے شکیل بھائی کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔(آمین)