وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت بلدیات کے مختلف محکموں میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔


کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت بلدیات کے مختلف محکموں میں جاری ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سندھ سید خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکرٹری ٹیکنیکل لوکل گورنمنٹ عبدالغنی شیخ، ڈی جی کے ڈی اے الطاف گوہر میمن، ڈی جی ایل ڈی ڈی اے صفدر بگھیو، ڈی جی ایم ڈی اے سعید جمانی، چیف آپریٹنگ آفیسر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اسد اللہ خان، پی ڈی میگا پروجیکٹ آفتاب چانڈیو و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں کے ڈی اے کے مختلف گذشتہ سال کی جاری اسکیموں پر صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 50 سے زائد جاری اسکیموں کو رواں مالی کے اختتام تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ باقی مانندہ اسکیموں کو آئندہ مالی سال میں مکمل کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ مالی سال میں کوئی نئی اسکیم اس لئے شامل نہیں کی تھی کہ جاری اسکیموں کو اس سال مکمل کیا جائے لیکن اس کے باوجود کئی اسکیموں کو جو اس سال لازمی مکمل ہونا تھی نہیں کی گئی۔ انہوں نے ڈی جی کے ڈی اے کو ہدایات دی کہ رواں سال زیادہ سے زیادہ اسکیموں کو مکمل کیا جائے اور ایک ہفتہ میں رپورٹ دی جائے کہ جو اسکیمیں مکمل نہیں ہوسکتی اس کے کیا اسباب ہیں۔ وزیر بلدیات نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سی او او کی جانب سے 30 سے زائد اسکیموں پر بریفنگ مکمل نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان اسکیموں کی مکمل رپورٹ آئندہ 3 روز میں جمع کروانے کی ہدایات دی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، کراچی میگا پروجیکٹ سمیت دیگر محکموں کے سربراہان سے بھی اسکیموں کے حوالے سے باز پرس کی۔ اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ رواں مالی سال میں سالانہ ترقیاتی اسکیموں کے تحت زیادہ سے زیادہ اسکیموں کو مکمل کرنے کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال میں سندھ بھر میں اے ڈی پی کے تحت کوئی نئی اسکیم اسی لئے نہیں رکھی گئی کہ جو جو اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں ان کو فنڈز جاری کرکے ان کو مکمل کرایا جائے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ گذشتہ مالی سال کی اے ڈی پی کی تمام اسکیموں کو رواں مالی سال میں مکمل کرنے کے لئے تمام اقدامات بروئے کار لایا جائے اور ان اسکیموں کو ہر صورت مکمل کیا جائے۔