ناقص منصوبہ بندی کے نقصانات


بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے زیادہ نظر اندازکیا گیا صوبہ ہے

ڈاکٹر توصیف احمد خان
==============

بلوچستان صدیوں سے پسماندہ علاقہ رہا ہے۔ سندھ کا دارالحکومت کراچی بلوچستان کے شہر ضلع لسبیلہ سے متصل ہے۔ کراچی سے کوئٹہ کا فاصلہ 631 کلومیٹر ہے۔ بلوچستان کے سرحدی شہر حب کے بعد دشوار گزار پہاڑی راستہ شروع ہوجاتا ہے، یہ ایک قدیم راستہ ہے۔ کراچی سے کوئٹہ کے راستے پرکئی شہر آباد ہیں جن میں بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر خضدار بھی شامل ہے۔

سابق صدر جنرل ایوب خان کے دورِ اقتدار میں جب پاکستان، ایران اور ترکی آر سی ڈی معاہدے میں منسلک ہوئے تو آر سی ڈی ہائی وے کے نام پر ایک چھوٹی سی سڑک تعمیر ہوئی، یوں کراچی سے نہ صرف کوئٹہ بلکہ افغانستان اور ایران جانے کے لیے بھی یہ سڑک اہم بن گئی، مگر یہ سڑک یک طرفہ ہے، اس لیے ٹریفک بڑھنے کے ساتھ اس سڑک پر حادثات کی اوسطاً تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی۔

اس سڑک کے اطراف میں کئی سابق وزراء اعلیٰ کے آبائی گاؤں بھی ہیں۔ ماضی میں وزرائے اعلیٰ نے اس سڑک کو توسیع دینے اور جدید ہائی وے میں تبدیل کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔ ایسے ہی اعلانات وفاقی وزراء اور برسر اقتدار آنے والے وزرائے اعظم نے بھی کیے۔ بلوچستان سے منتخب ہونے والے اراکینِ قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے بھی اس سڑک کی صورتحال پر توجہ دلائی۔ کبھی اس سڑک کی توسیع کے لیے فنڈز مختص کرنے کے اعلانات بھی ہوئے مگر عملی طور پر یہ سڑک خونی سڑک ہی رہی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورِ اقتدار میں سی پیک کا بڑا منصوبہ شروع ہوا۔

سی پیک کے جاری کردہ لے آؤٹ کے تحت چین کو بلوچستان کی تمام اہم سڑکوں کو جدید سڑکوں میں تبدیل کرنا تھا۔ سی پیک کے تحت کراچی سے گوادر تک ہائی وے تعمیر ہوئی۔ گوادر، خضدار اور رتوڈیرو سے چین تک ایک جدید ترین ہائی وے کی تعمیر مکمل ہوئی۔ منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال جو سی پیک کو گیم چینجر قرار دیتے ہیں وہ بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ بلوچستان میں اب سڑکوں کا جال بچھ جائے گا مگر پھر مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی تو تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی۔

اس حکومت کے وزراء بھی یہ نعرے لگاتے رہے ۔ اس دوران بلوچستان میں بد امنی بڑھ گئی۔ سڑکوں کا بند ہونا اور بلوچستان کے شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، پھر مسلم لیگ ن کی حکومت آگئی۔ اب پھر پروفیسر احسن اقبال نے یہ بیانیہ اختیار کیا ۔ یہ خبریں شائع ہونے لگیں کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں سی پیک کے تحت کئی منصوبے مکمل ہوگئے۔

جس پر بلوچستان کے کچھ باشعور افراد کا یہ مفروضہ درست لگنے لگا کہ سی پیک منصوبہ کا دائرہ کار بلوچستان میں مخصوص سڑکوں کی تعمیر تک محدود ہے۔ صدر ٹرمپ کے عالمی معیشت کو تہہ و بالا کرنے والے فیصلوں کی بناء پر تیل کی مارکیٹ بری طرح متاثر ہوئی اور پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑی حد تک کم ہوگئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پیٹرول اور HSP کی قیمتیں 6 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 5 بیرل تک پہنچ گئیں اور بعض ممالک نے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کردی۔

حکومتِ پاکستان نے پہلے تو یہ اعلان کیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی بناء پر اس ماہ پیٹرولیم کی مصنوعات میں کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ حکومت کو اس کمی سے جو فائدہ ہوگا، اس سے بجلی کے بلوں میں کمی کی جائے گی، یوں اس بات کا امکان ہے کہ عام صارف کو چند ماہ تک بجلی کے بلوں میں 6 روپے کا ریلیف ملے گا۔ صدر آصف زرداری نے پیٹرولیم لیوی ترمیمی آرڈیننس جاری کیا۔ اس آرڈیننس کے تحت پیٹرولیم لیوی آرڈیننس سے ترمیم نمبر پانچ کو نکال دیا گیا اور پیٹرولیم پر لیوی 8 روپے 72 پیسے بڑھا دی گئی۔ پٹرولیم پر لیوی 70 روپے سے بڑھا کر 78 روپے 72 پیسے کردی گئی۔

ڈیزل لیوی پر بھی لیوی بڑھا دی گئی۔ یہ بھی خبر ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پٹرول پر فی بیرل 5 روپے کی لیوی نافذ کی جائے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں بلوچستان کے عوام کو یہ خوش خبری سنائی کہ حکومت اس بچت کو بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کرے گی۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اس رقم سے بلوچستان کی بہت سے اہم شاہراہیں تعمیر ہونگی، جن میں چمن،کوئٹہ، قلات، خضدار اورکراچی شاہراہ کی تعمیر شامل ہے اور اس سڑک کو دو رویہ کیا جائے گا۔ اسی رقم سے کچھی کنال کا فیز 2 بھی مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح M-6 اور M-9 کو بھی مکمل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم کے اس اعلان کا بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھرپور خیر مقدم کیا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے صرف کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔ حکومت نے عام آدمی کو چند ماہ کے لیے بجلی کے بلوں میں جو ریلیف دیا ہے وہ بھی پھیکا پڑ جائے گا۔ بلوچستان کے دانشوروں کا یہ سوال اہمیت اختیارکرگیا ہے کہ سی پیک کے منصوبے میں بلوچستان کی اہم شاہراہیں شامل نہیں۔ کیا ملک کے دیگر صوبوں میں حکومت نے جو ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں، اس کے لیے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں کمی پر انحصارکیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے امور کے ماہر عزیز سنگھور اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چین، پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو پاکستان کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت گوادر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور بلوچستان کو ’’ گیٹ وے‘‘ قرار دیا گیا تھا، مگر بدقسمتی سے سی پیک کے عملی ثمرات کا رخ ر چند دوسرے شہروں کی جانب ہوا، جہاں جدید سڑکیں، انڈسٹریل زونز اور دیگر منصوبے مکمل ہوئے، جب کہ بلوچستان آج بھی بنیادی انفرا اسٹرکچر سے محروم ہے۔

شاہراہ این 25، جو کوئٹہ کو کراچی سے ملاتی ہے، کو ’’ قاتل شاہراہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سڑک نہ صرف خستہ حال ہے بلکہ روزانہ کئی قیمتی جانیں حادثات کی نذر ہو جاتی ہیں، اگر واقعی سی پیک کے تحت بلوچستان میں ترقیاتی کام ہوئے ہوتے تو این25 جیسے اہم ترین راستے کی حالت زار ایسی نہ ہوتی۔ یہ فیصلہ بذاتِ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ سی پیک کے اعلانات کے باوجود بلوچستان میں زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی۔ یہ امر باعثِ تشویش ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف کے بجائے ایک ایسی سڑک کی مرمت پر خرچ کیا جا رہا ہے، جس کی تعمیر گزشتہ دہائیوں سے نظرانداز کی گئی۔

بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے زیادہ نظر اندازکیا گیا صوبہ ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام کو نہ گیس میسر ہے، نہ صاف پانی، نہ تعلیم، نہ صحت اور نہ ہی روزگار۔ اگر سی پیک واقعی ’’ گیم چینجر‘‘ ہوتا تو سب سے پہلے بلوچستان میں تعلیم، صحت، صنعت و حرفت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہوتی۔ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا بھی عکاس ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ بغیر مقامی نمایندوں، ماہرین یا عوامی مشاورت کے ہوتے ہیں۔

یہ رویہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے ۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا بیانیہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ 2 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات میں رعایت دینے کے بجائے 34 ارب روپے ماہانہ ٹیکس بڑھا دیا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت نے مارچ میں پیٹرولیم کی مصنوعات 10 روپے اور اپریل میں مزید 10 روپے کا اضافہ کیا، یوں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی 80 روپے تک پہنچ گئی۔

مفتاح اسماعیل حکومت کے اس دعویٰ کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ یہ رقم بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگی۔ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پھر عام آدمی کی زندگی درگور ہوگی۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں ہر صورت سڑکیں تعمیر ہونی چاہئیں مگر ایسی ناقص منصوبہ بندی جس سے خود بلوچستان کے عوام میں احساسِ محرومی گہرا ہوجائے اور باقی صوبوں کے غریب عوام اور بلوچستان کے عوام کے درمیان تضادات پیدا ہوجائیں، نقصان دہ رہے گی۔

https://www.express.pk/story/2758580/naqas-mansooba-bandi-ke-nuqsanat-2758580
=========================

انسانیت کے نام پر
افغان حکومت کی خواتین مخالف پالیسی کی بناء پرکئی لاکھ بچیوں کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے

ڈاکٹر توصیف احمد خان

افغانستان کی خاتون صحافی فرشتہ سدید کا تعلق ’ کیسا ‘ صوبہ سے ہے، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ جب افغانستان میں حالات بہتر تھے تو وہ ایک ریڈیو بہار میں کام کرتی تھیں۔ جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا اور کابل میں ان کی حکومت قائم ہوگئی تو طالبان حکومت نے خواتین اور اقلیتوں کو نشانہ بنایا۔ طالبان کی شوریٰ نے فتویٰ دیا کہ خواتین بغیر محرم گھر سے نکل نہیں سکتیں ، خواتین کے لیے ملازمت کرنا مشکل بنا دیا گیا ، یوں فرشتہ سدید کے برے دن شروع ہوگئے۔

انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ وہ کسی طرح جان جوکھوں میں ڈال کر سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوگئیں۔ یہاں فرشتہ اور ان کے اہلِ خانہ نے امریکا اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ لینے کے لیے عرض داشتیں بھجوانی شروع کردیں۔ فرانس کی حکومت نے عرض داشت پر مثبت کارروائی پر اتفاق کیا اور اس بارے میں باقاعدہ دفتری کارروائی شروع ہوگئی۔ چند برس کے بعد حکومت پاکستان نے غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو نکالنے کی پالیسی اختیارکی۔

گزشتہ سال سیکڑوں افغان پناہ گزینوں کو ان کے وطن افغانستان بھیج دیا گیا۔ پھر پاکستان سے واپس وطن جانے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی اور جب گزشتہ ماہ رضاکارانہ واپسی کے لیے بڑھائی گئی یہ مدت پوری ہوئی تو اسلام آباد، پنجاب اور سندھ پولیس نے ان پناہ گزینوں کو ٹرانزٹ کیمپوں میں منتقل کرنے کے لیے آپریشن شروع گئے۔ اسلام آباد میں مقیم پناہ گزینوں کی لسٹ میں شامل افغان صحافی بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔ فرشتہ بھی تین دن تک ٹرانزٹ کیمپ میں قیام پذیر رہی۔ البتہ صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر فرشتہ کو کمیپ سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

افغانستان میں جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو شروع شروع میں تو ریڈیو اور ٹیلی وژن اسٹیشن میں خواتین کو کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے ایک وزیر نے ایک خاتون اینکر پرسن کو انٹرویو بھی دیا تھا۔ پھر شاید قندھار گروپ کے رجعت پسندوں نے کابل میں فیصلہ سازی پر بالادستی حاصل کر لی اور ایک دن یہ اعلان ہوا کہ تمام ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن بند کردیے گئے ہیں۔

افغانستان کی مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے صحافی جن میں مرد اور خواتین شامل تھے، حالات سے دلبرداشتہ ہوکر سرحد عبور کر کے اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان پناہ گزینوں نے خود کو اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے دفتر میں رجسٹر کرایا اور امریکا اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ امریکا میںجب تک ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس میں براجمان رہے، تب تک پاکستان میں مقیم پناہ گزین افغان صحافیوں، غیر ملکی این جی اوز میں کام کرنے والے افغان شہریوں اور وہ لو گ جو امریکی اداروں میں کام کرتے تھے، انھیں امریکا کا ویزا دینے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اب ان سب کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے۔

ان میں سے کئی وہ ہیں جو امریکا اور برطانیہ کے اداروں میں کام کرتے تھے۔ امریکا کی اس وقت کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس کیٹیگری میں شامل صحافیوں اور دیگر افراد کو امریکا میں آنے کے لیے ویزے دیے جائیں گے ۔ خاصے افراد امریکا چلے بھی گئے مگر اکثریت ابھی تک امریکا اور یورپ جانے کی منتظر ہے، لیکن اب صدر ٹرمپ کی تبدیل شدہ پالیسی نے ان کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔ ایسے افغان پناہ گزین جن میں صحافی بھی شامل ہیں، تاحال اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ گزشتہ مارچ میں افغان پناہ گزین سینئر صحافی محمود کونجی اور ان کے صاحبزادے کو واپس بھیجنے کے لیے پکڑا گیا تھا۔ محمود کونجی نے Onlineویزہ کے لیے درخواست دی ہوئی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے روحِ رواں اقبال خٹک کی قیادت میں افغان جرنلسٹس سالیڈیرٹی نیٹ ورک کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اقبال خٹک کی تحقیق کے مطابق 300افغان پناہ گزین صحافیوں اور ان کے اہل خانہ یورپی ممالک کے ویزے کے منتظر ہیں، ان کے تمام کاغذات متعلقہ سفارت خانوں میں جمع ہیں مگر ویزہ کا عمل طویل ہونے کی بناء پر وہ تاحال اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ اب وہ بھی مشکلات کا شکار ہیں ۔ بی بی سی نے افغانستان میں خواتین کے حالتِ زار کے بارے میں رپورٹیں تیار کی ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو خواتین تعلیم حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی کا اظہارکرتی ہیں انھیں مدارس میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ایک اور تعلیمی سال لڑکیوں کی تعلیمی اداروں میں موجودگی کے بغیر ختم ہوگیا۔

ایک افغان روشن خیال شخص قاری حامد محمودی نے صحافیوں کو بتایا کہ جب اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے لڑکیوں کے لیے بند ہوتے تھے تو ان کی بیٹی ذمنہ کی ذہنی اور جسمانی حالت خراب ہوگئی۔ انھوں نے سوچا کہ ایک مدرسہ قائم کیا جائے جس میں لڑکیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ بارہویں جماعت تک درسی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ اسی طرح محمودی نے ابتدائی طبی امداد اور دیگر کورسز شروع کرائے، مگر مجموعی طور پر افغانستان میں لڑکیوں کے لیے دینی تعلیم کے مدارس میں بھی ماحول افسردہ ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈز یونیسیف کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی خواتین مخالف پالیسی کی بناء پرکئی لاکھ بچیوں کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے۔

افغانستان کے قونصل جنرل کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں حالات معمول پر آچکے ہیں، اس بناء پر افغان باشندوں کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے مگر وہ خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حق کے حوالے سے کچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ افغانستان میں طالبات کو اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایک طالبہ نے یونیسیف کی ٹیم کو بتایا تھا کہ وہ ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتی تھیں مگر اب طالبان کے مدارس میں جانا پڑگیا ہے جہاں صرف مخصوص کتابوں سے تعلیم دی جاتی ہے اور سیاسی بحث پر پابندی عائد کی گئی ہے، یوں ان بچیوں میں ڈپریشن کے علاوہ کچھ نہیں بچ پارہا۔

حکومت پاکستان نے مالیاتی بحران،غیر ملکی امداد بند ہونے اور سیکیورٹی کی وجوہات کی بناء پر افغان مہاجرین کو ان کے اپنے وطن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا سندھ اور بلوچستان میں بھی خیرمقدم کیا گیا ہے کیونکہ افغان مہاجرین کا بیشتر بوجھ کراچی، حیدرآباد اورکوئٹہ پر ہے۔ البتہ ایسے افغان پناہ گزین جو یورپی ممالک کے ویز ے آنے کے منتظر ہیں ، انھیں انسانی بنیادوں پر جب تک وہ یورپ، امریکا اور کینیڈا وغیرہ نہ چلے جائیں، پاکستان میں قیام کی اجازت ہونی چاہیے۔ پاکستانی حکومت کو انسانیت کی بنیاد پرکچھ فیصلے کرنے چاہئیں۔