
تحریر: سہیل دانش
==============
بھٹو صاحب نے ایوب خان جیسے مضبوط حکمران سے ٹکر لی۔ اُنہیں اندازہ تھا کہ ریڈیو ٹیلی ویژن اخبارات اِن کے ساتھ نہیں ہیں بیوروکریسی اِن کے ساتھ نہیں ہے۔ فوج اِن کے ساتھ۔ نہیں صرف مغربی پاکستان کے عوام کی اکثریت اُن کے ساتھ تھی۔ سقوط مشرقی پاکستان کا سیاہ داغ پاکستان کے دامن پر لگا۔ بھٹو صاحب کواقتدار ملا تو مکمل ملا۔ 20 دسمبر 1971 کوپورا پاکستان اُن کے ساتھ تھا اِن کے مخالفین بھی عوام کا جوش و جذبہ دیکھ کر ٹھنڈا پڑگئے تھے۔ جو 1927 سے 1971 تک مسٹر بھٹو کی تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا تھا۔ تاریخ نے اِس عرصے میں اِس شخصیت سے جو کام لینا تھا لے لیا۔ 1971 کے بعد وہ دور آیا جب تاریخ بڑی بے رحمی سے انہیں چیلنج کررہی تھی یہ دُرست ہے کہ وہ کوئی انقلاب برپا نہ کرسکے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اُنہوں نے خواہ محض الفاظ کے ذریعے عوام اور نچلے طبقے میں جو بیداری اور شعور پھیلایا وہ اُن کے کارناموں میں سب سے نمایاں ہے اُنہوں نے عوامی شعور کے سیلاب کا بند کھول دیا جو آج بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور تاریخ مسٹر بھٹو کے اس کردار کو فراموش نہیں کرسکتی اُن کے اندر تیسری دنیا کی قیادت کرنے کی خواہش اور عزم موجود تھا۔ بھٹو کی خوبی یہ تھی کہ وہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے تھے وہ Sense of Timing سے سرشار تھے وہ اپنے اِردگرد بہت سی اندرونی اور بین الاقوامی چیلنجوں کی آہٹون کو محسوسس کررہے تھے یہ بھی دُرست ہے کہ مسٹر بھٹو اپنے تمام تر وعدوں اور نظریات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوجاتے تو پاکستان ایک مضبوط ملک بن جاتا لیکن اُن سے غلطی یہ ہوئی کہ اُنہوں نے اپنی پارٹی کی تنظیم اور حکومت پر بالادستی جیسے کاموں پر توجہ نہ دی بھٹو صاحب سے

توقع تھی کہ وہ بیوروکریسی کے قابو پر میں نہیں آئیں گے اور اُن کی اِس صلاحیت کی بدولت پاکستان میں پہلی بار سرکاری ڈھانچے پر جمہوری ڈھانچے کو فوقیت حاصل ہوجائے گی۔ حکمران کے طور پر بھٹو صاحب ایک سال تو آزاد چل جائے لیکن پھر رفتہ رفتہ بیوروکریسی کا گھیرا اُن کے گرد تنگ ہوتا گیا پھر وہ ساتھی اُن سے دور ہوتے گئے جو عوام کا مزاج جانتے تھے عوام کے مسائل جانتے تھے چونکہ بھٹو سوشلسٹ معیشت کے حامی تھے لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکی لالی نے اسلام کے نام پر بھٹو کو مجبور کیا کہ وہ سوشلسٹ معیشت کے راستے سے ہٹ جائیں پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی سوشلسٹ معیشت پر متفق ہونے کے باوجود آپس میں مفاہمت پیدا نہ کرسکے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی المیہ تھا۔ پاکستان کا آئین متفقہ طور پر بننا بھٹو کی بڑی کامیابی تھی۔ لیکن ہمارا لمیہ ہے کہ کہ آئین ہوتے ہوئے بھی ہمارے ملک میں سب کچھ ہوتا رہا پھر بھٹو کے اقتدار کے 6 سال میں خصوصی معاونین سیکریٹری مشیر اور او ایس ڈی کی ایسی دیواریں کھڑی کردی گئیں جن کے سبب بھٹو عوام سے دور ہوتے چلے گئے 1973 تک بھٹو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار کافی حد تک بلند کرچکے تھے مسلم ممالک میں بھٹو کی حیثیت ایک ترجمان کی سی ہوگئی یہ وہ دور ہے جب عربوں میں سیاسی بیداری آرہی تھی پاکستان اسلامی سربراہ کانفرنس کا میزبان بننے میں اچانک کامیاب نہیں ہوگیا تھا اِس کے پس منظر میں ایک طویل نظریاتی اور طویل سفارتی جدوجہد تھی امریکی نواز بیوروکریسی کے ستونوں نے بھٹو صاحب ک چاروں طرف گھیرا ڈال لیا تھا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بھٹو صاحب کو انتخابات بھی بالواسطہ طور پر کسی غیر ملکی دباؤ کے

تحت کروانے پڑے تھے۔ صیہونی اور امریکی لابی کی پوری کوشش تھی کہ پیپلز پارٹی دوتہائی اکثریت حاصل نہ کرسکے۔ بھٹو صاحب نے ساری کوشش دوتہائی اکثریت کے لے کی اسی میں وہ کچھ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہئے تھے۔ بھٹو صاحب یہ ضرور بھانپ گئے تھے کہ امریکی لابی الیکشن کے بعد پاکستان میں اپوزیشن کی تحریک کے لئے ایڑھی چوٹی کا زورلگارہی ہے تاکہ بھٹو کو ناکام کیا جائے۔ بھٹو ایک جینئس انسان تھے وہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ضرور تھے خوبصورت لباس زیب تن کرتے تھے لیکن وہ سندھ کے ایک وڈیرے بھی تھے۔ اقتدار ملنے کے بعد اُن کا خیال تھا کہ وہ اتنے مقبول ہیں کہ وہ 25 سال ملک پر حکومتکوسکتے ہیں وہ کہتے تھے کہ نوجوان میری پارٹی کے رنگ کی ٹائیاں اور لڑکیاں اِس رنگ کے چوٹیلے باندھتی ہیں۔ اُنہیں یہ بھی گمان تھا کہ نوجوان فوجی آفیسرز اپنے پرس میں اُن کی تصویر رکھتے ہیں اِس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معمار تھےاور اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر 1977 میں دوبارہ فیئر اور فری الیکشن ہوجاتے تو بھٹو بآسانی وزیراعظم بن سکتے تھے۔ سوال پھر بھی یہ ہے کہ بھٹو کا اقتدار کیوں ختم ہوا۔ کیا وہ سی آئی اے کا شکار ہوئے؟ کیا وہ سازشوں کا شکار ہوئے؟ کیا اِن کی اپنی غلطیاں اُنہیں لے بیٹھیں؟ کیا اُن کے ساتھیوں کے غلط روئیے سے اُن کے اقتدار کا سورج غروب کرگئے یہ بھی تاریخ کی ایک سچائی ہے یکہ جس وقت جنرل ضیاء الحق مارشل لاء کے نفاذ کے فرمان افروز پر دستخط کررہے تھے امریکہ اور سعودی عرب کے سفیر میز پر اُن کے سامنے بیٹھے تھے۔ پھر بھٹو صاحب پھانسی کے پھندے تک کیسے پہنچے۔ یہ ایک داستان ہے جو ہر کوئی جانتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھٹو کا اقتدار ختم ہوا ہے۔ بھٹو کا دورختم نہیں ہوا۔























