
لاڑکانہ مشہور بزرگ سائين مظہر جان جانان رح کے سالانہ عرس میں پیر مٹھا ثانی خصوصی خطاب کرتے ہوئے
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ) سندھ کی مشہور و معروف درگاہ حضرت پیر مٹھا سائیں رح میں ولی کامل حضرت محمد مظہر جان جانان رح کا 26 واں سالانہ عرس نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ اس موقع پر سجادہ نشین پیر عبدالغفار نقشبندی نے کہا کہ سندھ کے نامور ولی حضرت سائیں محمد مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیعت کا ذکر کیا ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تھے۔ آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور خلفاء راشدہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کی نسبت بڑی سعادت مندی ہے، نسبت والی شخصیات متقی ، ساحب ولایت، پرھیزگار اور تقویٰ کی سعادت مندی حاصل کرنے والے بن گئے اور نیکی کی راہ کو عام کرتے رہے، اور جو بھی انہی کے نقش قدم پر چلا وہ اللہ کے پیارے پسندیدہ افراد میں شامل ہوگئے، وہ دنیا کی برائیوں سے آزاد و حسد، غیبت سے پاک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دربار عالیہ میں مدرسہ کا قیام اور شاندار مسجد کی تعمیر سمیت کئی اور مثالی کام کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے حکمران، امرا، سیاستدان اور دنیا دار خود آتے تھے مگر سائیں محمد مظہر جان جانان رح کبھی کسی دنیا دار سے دنیا کے معاملات نہیں پوچھے اور وہ خاموشی سے جماعت غفاریہ میں رہتے تھے۔
ان کے حکم پر انجمن تیار کی گئی، جس میں سندھ کے نامور علماء کرام علامہ امین الدین سیال خلیلی ، علامہ عبدالوہاب نقشبندی، پروفیسر ڈاکٹر شجاع احمد عباسی اور کثیر تعداد میں نیک، متقی، پرہیزگار لوگوں نے جماعت کی خدمت کی۔ عرس مبارک میں سندھ کے مشہور و معروف علماء کرام علامہ محمد ابراہیم خلیلی، علامہ ندیم احمد مہیسر، قاری حافظ محمد قاسم خلیلی، علامہ سید محمد شاہ غفاری ، مفتی علامہ عبدالحلیم چانڈیو، مولانا عبدالرب سندھی ، پنجاب سے مفتی اقبال احمد ضامی، مولوی غلام مرتضیٰ، خلیفہ ڈاکٹر شجاع احمد عباسی، پروفیسر اسرار احمد آریجو اور دیگر نے صحبت اولیاء اللہ میں رہنے کے فوائد پر روشنی ڈالی۔ جبکہ مشہور نعت خواں بدر الدین مگسی و دیگر نے نعتیں پڑھ کر تمام عاشقان رسول کو جھوما دیا. آخر میں درود و سلام مصطفےٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام، شمع بزم ھدایت ہے لاکھوں سلام عقیدت سے پیش کیا گیا.























