ایسی خوراک سے پرہیز کرنا چاہیے جو شوگر بڑھانے یا اسے لبلبہ سے ریلیز کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

لاہور()ریڈیو کلینک میں فیملی فزیشن ڈاکٹر سعید احمد کی شرکت،میزبان اور پروڈیوسر مدثر قدیر تھے۔پروگرام رمضان المبارک میں شوگر کے مریضوں کے حوالے سے آگاہی پر مبنی تھا جس میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید احمد کا کہنا تھا کہ ایسی خوراک سے پرہیز کرنا چاہیے جو شوگر بڑھانے یا اسے لبلبہ سے ریلیز کرنے کا باعث بنتی ہیں۔اس لیے روزہ داروں کو کاربوہائیڈریٹس اور نشاستہ سے بھر پور غذاؤں کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے روزہ رکھنا چاہیے۔روزہ ایک فرضی عبادت ہے جو جسم میں قوت مدافعت پیدا کرکے ایسی بیماریوں کو پیدا ہونے سے روکتا جو انسانی جسم کے لیے نقصان دے ہیں۔ڈاکٹر سعید احمد نے سامعین کی آگاہی کے لیے ایک وقت کے کھانے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اس پراسس کی وجہ سے نہ صرف شوگر کا مرض ریورس ہو جاتا ہے بلکہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد اور دیگر امراض بھی کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر سعید احمد نے بتایا کہ ایسے مریض جن کو شوگر کا مرض ہے ان کی شوگر 70 سے کم نہیں ہونے چاہیے اور جن کو شوگر نہیں ہے ان کی 40 یا 50 سے کم نہیں ہونے چاہیے۔ایسے مریض جن کا شوگر لیول کم ہونے پر جسم کانپنا شروع کردیتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے جگر کے اندر جو شوگر جمع ہوتی ہے ،پٹھوں کے اندر جو شوگر جمع ہوتی ہےں وہ ریزسٹ کرتے ہیں کہتے ہیں ہم نے انسولین ریلیز نہیں کرنی اور دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہتے ہیں اس کو کہو کچھ کھائے مگر آپ کے 15منٹ لیٹ جانے سے یہی اعضا انسولین ریلیز کرکے مسئلہ حل کر دیتے ہیں۔اگر نیم گرم پانی میں ایک چٹکی پنک سالٹ ڈال کر اسے پی لیں تب بھی یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ایک وقت کے کھانے میں دہی یاں انڈوں کے بنے آملیٹ استعمال کریں کیونکہ آپ کے جسم کو ان چیزوں کی ضرورت ہوتی۔
تمام مسلمان روزہ اس طریقے سے رکھیں اور جسمانی بیماریوں سے بھی چھٹکارا حاصل کر ے کے ساتھ جسمانی کمزوری بھی ختم کریں اور ثواب بھی کمائیں کیونکہ اچھی صحت زندگی کا نام ہے۔