آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا وژن؟

ون پوائنٹ
نوید نقوی
=========


پاکستان بالخصوص پنجاب پولیس کا عوام الناس سے تعلق روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے، بلکہ یوں کہوں کہ پنجاب پولیس اور عوام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کسی بھی گورنمنٹ کا سافٹ امیج برقرار رکھنا پولیس پر منحصر ہے کیونکہ پولیس ہی امن وامان قائم کرنے کے لیے نہ صرف ذمہ دار ہے بلکہ اندرونی سلامتی کا سارا دارومدار ہی پولیس کی کارکردگی سے جڑا ہے۔ پولیس ایک بڑا ادارہ ہے جس میں ہر قسم کے آفیسرز اور اہلکار موجود ہیں۔ قیام پاکستان سے پولیس تشدد کے مختلف واقعات ہوتے تھے مگر صرف پرنٹ میڈیا ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی کوئی خبر لگ جاتی تھی. مگر جب سے سوشل میڈیا آیا ہے، اب ایسی کوئی بھی خبر چھپ نہیں سکتی کیونکہ ہر ہاتھ میں فون ہے اور ہر فون میں کیمرہ ہے۔
پچھلے چند سالوں سے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب پولیس میں کرپشن اور عوام کے ساتھ پولیس تشدد کے واقعات بہت زیادہ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس وقت پولیس ملازمین کسی کے گھر میں گھس کر چادر اور چاردیواری کو پامال کریں، غیر قانونی حراست میں رکھیں، ہاف فرائی یا فُل فرائی کریں کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں تھا۔

لیکن جب سے ڈاکٹر عثمان انور نے آئی جی پنجاب کا عہدہ سنبھالا ہے، اُنہوں نے پنجاب پولیس کی ویلفیئر کے لیے بے تحاشہ اقدامات کیے اور پولیس ملازمین پر ترقیوں اور انعامات کی بارش کردی۔ پنجاب پولیس کے ملازمین کو جتنے نقد انعامات دیئے گئے اور جتنی ترقیاں دی گئیں تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی دور حکومت کے بعد جب پنجاب اسمبلی تحلیل کی گئی، سید محسن رضا نقوی پنجاب کے نگران وزیراعلی بنے تو ڈاکٹر عثمان انور کو 23 جنوری 2023 کو پنجاب کا انسپکٹر جنرل آف پولیس بنا دیا گیا۔ آئی جی پولیس بنتے ہی ڈاکٹر عثمان انور نے کمال مہربانی کرتے ہوئے فورس پر ترقیوں اور انعامات کی بارش کر دی، لیکن یہ سب کرنے کے ساتھ ساتھ کرپٹ اور منہ زور ملازمین کو سزائیں بھی دیں۔ آئی جی صاحب نے محکمے میں احتساب کے عمل کو کڑا رکھا تاکہ آپ کا حد سے زیادہ پیار ملازمین کو منہ زور نہ بنا دے۔ سیانے بزرگ ٹھیک ہی فرما گئے ہیں کہ اپنی اولاد کو کھلاؤ سونے کا نوالہ، دیکھو شیر کی آنکھ، یہ سچ ہے کہ کسی زمانے میں آئی جی پولیس کا ایک ڈر، خوف اور رعب ہوتا تھا، آئی جی کے سامنے پیش ہونے سے پہلے کانپتے ہوئے افسران اور ماتحت قُرانی آیات اپنے اُوپر پڑھ پڑھ کر پھونکتے تھے مگر اب آئی جی آفس میں ملازمین اپنے بچے اور بیویاں لاتے ہیں۔ جہاں انہیں پروموشن رینک لگائے جاتے ہیں اور آئی جی کی جپھی بھی اُنہیں نہ صرف مفت میں ملتی ہے بلکہ چارجنگ کا کام بھی کرتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ آرگنائزکرائم یونٹ کے ملازمین یا تو منشیات فروشی کا کام کرتے ہیں یا جھوٹے مقدمات درج کر کے کروڑوں روپے وصول کرتے تھے، المختصر دیوانی معملات میں لوگوں کو اُٹھا کر ریکوریاں کروانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا، لیکن جناب عثمان انور صاحب جب سے پنجاب پولیس کے کپتان بنے ہیں، ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی، جس کا صاف مطلب ہے کہ انہوں نے کالی بھیڑوں کا صفایا کر دیا ہے یا ان کو اچھا بننے پر مجبور کیا ہے۔ اب جبکہ پنجاب میں مریم نواز شریف کی حکومت کو بھی ایک

سال مکمل ہو چکا ہے، ان کے انقلابی اقدامات کی بدولت پورے پنجاب میں پولیس سے متعلق خوشگوار تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے، اگر محکمہ پولیس پر نظر دوڑائی جائے تو پولیس کی فلاح و بہبود اور ترقی، نئے تھانوں اور پولیس دفاتر کی تعمیر سمیت جرائم کی کمی کے حوالے سے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب نے ایف آئی آرز کے فوری اندراج کی ہدایت کی، جس پر عملدرآمد جاری ہے اور شہریوں کی شکایات میں واضح کمی ہوئی ہے۔ پنجاب پولیس نے صنفی جرائم کی روک تھام کے لیے Never Again مہم کا آغاز کیا، ورچوئل پولیس اسٹیشنز اور ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کا قیام عمل میں لانا آئی جی پنجاب کے سنہرے اقدامات میں سے ایک ہیں۔ سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے سینکڑوں مقامات پر عوام کو فری انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کی جارہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کا ایک اہم مقام ہے اس لیے ان کی سیکیورٹی یا سیفٹی اہم ترین ہے اس لیے ان کو فوری مدد پہنچانے کے لیے لاہور میں Button Panic نصب کیے گئے ہیں۔ پچھلے دنوں میرا تھانہ شیدانی جانا ہوا، پرانی اور بوسیدہ عمارات کی جگہ نئی اور جدید سہولیات سے آراستہ بلڈنگ دیکھ کر حیران رہ گیا تو ایس ایچ او جناب یونس عباسی صاحب نے فرمایا کہ پنجاب کا ہر تھانہ ایسے ہی بدل چکا ہے۔ سال 2024 میں 599 تھانوں کو اسپیشل انیشیئٹو پولیس اسٹیشنز پروٹوکول پر منتقل کیا گیا، اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں 39 اسمارٹ پولیس اسٹیشنز کی تعمیر کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔ رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں 19 نئی پولیس چوکیاں بنانے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسپیشل برانچز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سنٹر اور پیپر لیس کمپیوٹرائزڈ سسٹم رائج کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب اپنے جوانوں کو اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے ہیں اس لیے انہوں نے کچے میں ڈیوٹی سر انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی منظوری حاصل کی اور خود فرنٹ لائنوں پر جا کر حوصلہ افزائی کرنا ان کا پسندیدہ کام ہے۔ صوبے بھر میں ہر ضلع میں منشیات فروشوں، اشتہاریوں سمیت دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مہم شدت سے جاری ہے اور اس کا اثر بھی ہوا ہے کہ جرائم میں حیرت انگیز کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2024 میں پولیس ملازمین کی ویلفیئر کے لیے دو ارب 32 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ دوران سروس وفات پانے والے اہلکاروں و افسران کے لیے دو ارب 48 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ پولیس ملازمین و اہلخانہ کے علاج معالجے کے لیے 28 کروڑ 19 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ پولیس ملازمین کے بچوں کی تعلیم کے لئے 78 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کیے گئے، یاد رہے کہ صرف گزشتہ سال میں شہداء کی فیملیز کے لیے 170 پلاٹس اور تین کروڑ 60 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ دوران ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں کے لیے 8 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کا جوان مردی سے مقابلہ کرنے والے 295 افسران و اہلکاروں کو غازی کا فرجہ دیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب کمپلینٹ سنٹر 1787 پر پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف موصول ہونے والی ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد شکایات کا فوری ازالہ کیا گیا اور میثاق سینٹرز پر ایک لاکھ کے قریب غیر مسلم شہریوں کو سروسز فراہم کی گئی ہیں۔ منظم جرائم پر قابو پانے کے لیے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور صاحب انقلابی اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ نہ صرف مبارک باد کے مستحق ہیں بلکہ ان کو پاکستان کا سب سے بڑا ایوارڈ دے کر خراجِ تحسین پیش کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ زندہ قومیں اپنے ہیروز کی قدر کس طرح کرتی ہیں۔