ماحولیاتی تبدیلی، سیلاب، اور آبی وسائل کی لوٹ مار نے سندھ کے وجود اور کروڑوں انسانوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

پریس کانفرنس – محنت کش عورت ریلی 2025

نعرہ: “طبقاتی مزاحمت: دریائے سندھ، زمین اور ماحول پر ڈاکہ زنی کے خلاف ”
سندھ کی 5,000 سالہ تہذیب کو حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، سیلاب، اور آبی وسائل کی لوٹ مار نے سندھ کے وجود اور کروڑوں انسانوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انڈس ڈیلٹا کی تباہی، زرعی زمینوں کا سمندر برد ہونا، اور پانی کی قلت جیسے مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں، فصلوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے، اور غذائی بحران جنم لے رہا ہے۔

سندھ نے ہمیشہ آبی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ کالا باغ ڈیم کو عوامی جدوجہد نے روکا، اور اب دریائے سندھ کے پانی کی چوری پر مبنی نئے منصوبے بھی سندھ کی زمینوں کو بنجر بنانے کی سازش ہیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر زرعی زمینوں پر قبضہ، ماحولیاتی تباہی، اور جبری بے دخلی جیسے مسائل سب سے زیادہ مظلوم طبقات،عورتوں، بچوں، اور بزرگوںکو متاثر کر رہے ہیں۔
محنت کش عورتوں نے 8 مارچ کو سندھ دشمن آبی منصوبوں، زمینوں پر قبضے، اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف جدوجہد کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ ہزاروں ہاری اور مزدور عورتیں “محنت کش عورت ریلی” میں شرکت کریں گی، جس میں سیلاب، ہیٹ ویو، اور دیگر آفات سے متاثرہ افراد بھی اپنی آواز بلند کریں گے۔
ریلی کا شیڈول:
آغاز: یوتھ آڈیٹوریم، کراچی
وقت: 8 مارچ، سہ پہر 3 بجے
اختتام: آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی

پریس کانفرنس کے توسط سے تمام عوام دوست، سندھ دوست اور ماحول دوست تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ محنت کش عورت ریلی میں شرکت کرکے سندھ کی تباہی کے منصوبوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

شرکاء:
اسد اقبال بٹ (چیرپرسن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان)، ناصر منصور (جنرل سیکرٹری نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن) ، طاہر خان KUJ
زہرا خان (جنرل سیکرٹری ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن)، ایڈووکیٹ محمد غلام رحمان کورائی (جنرل سیکرٹری کراچی بار ایسوسی ایشن)،
فاطمہ مجید (سینئر وائس چیرپرسن پاکستان فشر فوک فورم)، کامی چودھری (ہجڑا فیسٹیول)،
حانی واحد بلوچ ( چیرپرسن زند مان ویلفئیر ایسوسی ایشن )، ایگری کلچر جنرل ورکرز یونین)،
جمیلہ عبد الطیف (جنرل سیکرٹری ہوم بیسڈ چوڑی ورکرز یونین)، سائرہ فیروز (جنرل سیکرٹری یونائینڈ ہوم بیسڈ ورکرز یونین) ،
(رہنما ٹیکسٹائل و گارمنٹ ورکرز یونین)
=====================================

) سندھ ہائیکورٹ نے سندھ مدرستہ الاسلام کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب الدین سہرائی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے۔ جسٹس فیصل کمال عالم اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 28 فروری 2025 کو ڈاکٹر عجب علی لاشاری کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ ڈاکٹر لاشاری کی درخواست میں سندھ مدرستہ الاسلام کے وائس چانسلر کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی ہے کیونکہ درخواست گزار کو غیر قانونی طور پر معطل کیا گیا تھا اور درخواستگزار کا قصور یہ تھا کہ اس نے یونیورسٹی سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈاکٹر لاشاری کی درخواست کے مطابق ہائر ایجوکیشن کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ایچ ڈی ایجوکیشن کے طلبہ کو آصف حسین سمو (ٹیچرز ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر) پڑھا رہے تھے جو خود پی ایچ ڈی نہیں تھے۔ اس معاملے پر فیصلہ دیا گیا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں پر سختی سے عمل کیا جائے لیکن وائس چانسلر نے اس پر توجہ نہیں دی اور اس کے برعکس رپورٹ کرنے والے فیکلٹی ممبر کو معطل کر دیا۔ نیشنل ایکریڈیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NACTE) کے چیئرمین نے واضح کیا کہ غیر پی ایچ ڈی اساتذہ کو ڈاکٹریٹ پروگرامز میں پڑھانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے طلبہ کی ڈگریاں مستقبل میں تسلیم نہیں کی جائیں گی اور یونیورسٹی کے پروگرام معطل ہوسکتے ہیں۔ وائس چانسلر نے اس پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے اساتذہ کو کلاسز لینے کی اجازت دی اور رپورٹ کرنے والے فیکلٹی ممبر کو معطل کر کے ہائر ایجوکیشن کی پالیسیوں کی خود خلاف ورزی کردی۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ مذکورہ تمام معاملے پر عدالت عالیہ نے وائس چانسلر کے غیر قانونی اقدام پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے 20 اکتوبر 2024 کو یونیورسٹی انتظامیہ کو حکم دیا کہ درخواستگزار کو بحال کیا جائے اور عدالت کی اجازت کے بغیر درخواستگزار کیخلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اس کے باوجود وائس چانسلر اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی چنڑ، ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر کے سامنے بے بس رہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں ناکام رہے جس سے طلبہ کے مستقبل اور سندھ مدرستہ الاسلام کی ساکھ کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
==============

جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے بوٹ بیسن پر بااثر شخص کا شہری پر تشدد کے مقدمے میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت کے روبرو بوٹ بیسن پر بااثر شخص کا شہری پر تشدد کیس میں 5 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے تمام ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ ملزمان میں جلات خان، حسین نوا، علی جان، سجاد اور دیگر شامل ہیں۔ وکیل صفائی نے موقف دیا کہ تفتیش مکمل ہوچکی ہے، لہذا انہیں جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جائے۔ جو لوگ گرفتار کیے وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ مقدمہ کا مرکزی ملزم شاہ زین مری مفرور ہے۔ ملزمان کیخلاف تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
================

مآطفی اغوا و قتل کیس میں نیا موڑ، ملزم شیراز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے پھٹ پڑا، ملزم نے بتایا کہ اعترافی بیان کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مصطفی اغوا و قتل کیس میں ملزم شیراز کو کو پولیس نے 164 کے بیان کے لیئے پیش کیا۔ عدالت نے ملزم کو کہا سوچ سمجھ کر بیان دینا خون کا معاملہ ہے۔ ملزم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو کہا کہ اعترافی بیان کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ملزم نے بتایا ہے کہ اس سے کہا گیا کہ اگر اعتراف کرو گے تو کم سزا ملے گی۔ ملزم کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کا گواہ ہے، اس کے سامنے ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو قتل کیا۔ ملزم نے بتایا کہ وہ بے بس اورلاچارتھا اس لئےکچھ نہیں کرسکا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس نے آج تک جو پولیس کو بتایا وہ گواہ بن کر بتایا تھا۔ تفتیشی افار کا کہنا تھا کہ ملزم کا آج کا بیان ہمارے حق میں گیا ہے۔ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے سامنے قتل ہوا۔ ملزم شیراز کا کہنا تھا کہ میں ملزم نہیں چشم دیدید گواہ ہوں۔ میں واحدچشم دید گواہ ہوں جس کے سامنے ارمغان نے مصطفی عامر کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا، میں وقوعہ کے وقت بے بس تھا۔ مجھے اس کیس میں پھنسایا جارہا ہے۔ ارمغان نے لوہے کے راڈ سے مصطفی کو مارا پھر اسے گن پوائینٹ پر بلوچستان لے کر گیا۔ بلوچستان لے جاکر گاڑی سمیت جلا دیا۔ ملزم کے اس بیان پر عدالت نے تفتیشی افسر کی ملزم شیراز کی اعترافی بیان کی درخواست مسترد کردی۔ اس کے بعد پولیس ملزم کو لے کر کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس پہنچی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی ہدایت پر ملزم خصوڈی عدالت میں پیش کرنا تھا۔ واضح رہے کہ ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت نمبر 2 کو اس مقدمے میں ریمانڈ کے اختیارات دیئے تھے۔ جب پہلی مرتبہ ملزمان کا ریمانڈ دیا گیا اس کے بعد خصوصی عدالت نمبر 2 کے جج ریٹایرڈ پوگئے۔ اس کے خصوصی عدالت نمبر 3 کو ریمانڈ کا اختیار سونپا گیا۔ خصوصی عدالت نمبر 3 کے جج بھی ریٹائرڈ ہوگئے۔ احکامات کے مطابق ملزم کو خصوصی عدالت نمبر 3 کی لنک عدالت میں پیش کیا گیا لیکن وہاں عدالتی عملے نے کسی بھی کارروائی سے انکار کردیا۔ تمام تر صورتحال کے بعد ملزم کو منتظم عدالت لے جایا گیا۔ تاکہ ملزم کو پیش کرکے جوڈیشل ریمانڈ کرایا جائے۔ لیکن وہاں پر بھی پولیس کو کامیابی نہ ہوئی۔ منتظم عدالت کے عملے نے کہا کہ احکامات کے مطابق ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالتی وقت ختم ہونے باعث ملزم کو پولیس دوبارہ اپنے ہمراہ لے گئی۔
===================