“پیپلز پارٹی کی تنقید: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ بے بس؟”

“ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی معاملات: خالد مقبول صدیقی کی قیادت پر سوالات”

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی قیادت اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حالیہ واقعات نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو اجاگر کر دیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی اور کراچی کے مئیر مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم پاکستان پر تنقید کی ہے۔

حالیہ کابینہ کے توسیع میں مصطفیٰ کمال کو وزیر بنائے جانے کے فیصلے پر خالد مقبول صدیقی کو آخری وقت پر مطلع کیا گیا۔ انہیں صرف یہ بتایا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے ایک اور وزیر کو شامل کیا جا رہا ہے اور انہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ اس واقعے نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے ایم کیو ایم پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خالد مقبول صدیقی ایک بے بس پارٹی سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے اہم فیصلوں میں خالد مقبول صدیقی کو شامل نہیں کیا جاتا، تو وہ کراچی کے مئیر کے اختیارات پر تنقید کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو پہلے اپنے گھر کے معاملات درست کرنے چاہئیں۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان پی ایس پی مافیا کے قبضے میں ہے اور انہیں اپنے بھاؤ کا اندازہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کراچی میں غیر قانونی تجاوزات کے معاملے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کی آڑ میں غیر قانونی تجاوزات قائم کرنا درست نہیں ہے۔

کراچی کے مئیر مرتضیٰ وہاب نے بھی ایم کیو ایم پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی صورتحال خستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات درست کرنے چاہئیں، تب جا کر وہ دوسروں پر تنقید کا حق رکھتے ہیں۔

دوسری جانب، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے طلبہ کی قیادت میں پارٹی کی بنیاد رکھنے کے تاریخی اقدام کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے طلبہ کی قیادت میں ملکی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور قوموں کی ترقی طلبہ کو تربیت اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے سے منسلک ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ایک ایسی تنظیم کو جنم دیا جو اشرافیہ کے لیے آج بھی ڈراونا خواب ہے۔ انہوں نے طلبہ کو قوم کی ترقی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو ہمیشہ تعلیم اور ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی معاملات پر تنقید کے باوجود، خالد مقبول صدیقی نے پارٹی کے نظریات اور اصولوں پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا مقصد ہمیشہ سے عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کی جدوجہد رہا ہے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان تناؤ کراچی کی سیاست میں ایک عام بات ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کراچی کے عوامی مسائل پر تنقید اور جوابی تنقید کی شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں۔

سعید غنی نے کراچی میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو تعلیم پر توجہ دینی چاہیے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کو بروئے کار لانا چاہیے۔

کراچی میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شہر کے مختلف علاقوں میں بین الاقوامی معیار کے اسٹیڈیم اور گراؤنڈز تعمیر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کے لیے اہم ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماوں نے پیپلز پارٹی پر الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ کراچی کے وسائل کو غیر منصفانہ طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے، پیپلز پارٹی اپنے مفادات پر توجہ دے رہی ہے۔

کراچی کی سیاست میں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں، لیکن شہر کے عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آتے۔

خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم پاکستان کے نظریات اور اصولوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے کوشاں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا مقصد کراچی کے عوام کے حقوق کی حفاظت اور ان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔

پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اختلافات کراچی کی سیاست کا اہم پہلو ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تناؤ شہر کے عوامی مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

کراچی کے عوام دونوں جماعتوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہر کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔ شہر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں جماعتوں کو اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔