صدقہئ فطر اورفدیے کی کم ازکم مقدار240روپے فی کس ہے،مفتی منیب الرحمن


صدقہئ فطر اورفدیے کی کم ازکم مقدار240روپے فی کس ہے،مفتی منیب الرحمن
اہلِ ثروت اپنی مالی حیثیت کے مطابق فطرہ ، فدیہ اور کفّارہ اداکریں
مفتی منیب الرحمن نے فطرہ ،فدیہئ صوم اور کفارہئ صوم کا اعلان کردیا ہے، نصاب درج ذیل شرح کے مطابق ہوں گے :
٭گندم کا آٹا دو کلو(چکی والا) : فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ :240/=روپے
٭جَو (چارکلو): فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ : 700/=روپے
٭کھجورعمدہ (چار کلو) : فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ :4000/=روپے
٭کشمش عمدہ ( چار کلو): فطرہ اور ایک روزے کا فدیہ :6400/=روپے

روزہ توڑنے کا کفارہ :60مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا ہے ، نصاب درج ذیل ہے :
٭گندم کا آٹا دو کلو(چکی والا) :14,400/=روپے ٭جَو (چارکلو):42,000/=روپے
٭کھجور (چار کلو) : 240,000/=روپے ٭کشمش ( چار کلو):3,84,000/=روپے
یہ فطرہ، فدیہ اور کفارات کی کم از کم مقدار ہے، ہم نے تمام اجناس کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ جن خوش نصیب افراد کو اللہ تعالیٰ نے وافرنعمتِ دولت سے نوازا ہے ، وہ اپنی حیثیت کے مطابق فطرہ ادا کریں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:”اورجو کوئی خوش دلی سے زیادہ دے ،تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے،(البقرہ:184) ”۔ فدیہ دائمی مریض یا ایسے انتہائی ضعیف العمر افراد کے لیے ہے ، جونہ روزہ رکھنے پر قادر ہوں اور بظاہر اُن کی بحالی کے آثار بھی نہ ہوں۔ عارضی مریض یا مسافر جو مرض یا سفر کے عذر کی بناپر روزہ نہ رکھیں ،ان پر صحت یاب ہونے یا سفر سے واپسی پر اپنی سہولت کے مطابق قضا ہے،فدیہ اس کا بدل نھیںہے ۔جوشخص روزہ رکھ کر کسی عذر کے بغیر توڑ دے ، اس پر کفارہ ہے اوروہ ساٹھ مسلسل روزے اورایک روزے کی قضا ہے ، اگر یہ روزہ رکھنے پر قدرت نہ رکھتاہوتوپھر مالی کفارہ ہے۔
یکم مارچ 2025؁ئ مفتی عبدالرزاق نقشبندی
برائے مفتی منیب الرحمن