چین نے امریکہ کو چونکا دینے والی نئی جنریشن ٹرانسپورٹ کا آغاز کر دیا ہے۔


چین نے امریکہ کو چونکا دینے والی نئی جنریشن ٹرانسپورٹ کا آغاز کر دیا ہے۔

چین، جو دنیا بھر میں اپنی ترقی اور ٹیکنالوجی کے لیے مشہور ہے، اب ایک بار پھر دنیا کو حیران کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ چین نے حال ہی میں کئی جدید ترین ٹرانسپورٹ کے ذرائع متعارف کروائے ہیں جو نہ صرف مستقبل کی سواریاں لگتی ہیں، بلکہ انہوں نے دنیا بھر کے ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان ایجادات میں ایسی گاڑیاں، ٹرینیں اور ڈرون شامل ہیں جو زمین، پانی اور ہوا میں بھی کام کر سکتے ہیں۔

چین کی سب سے حیرت انگیز ایجادات میں سے ایک “اسکائی ٹرین” ہے۔ یہ ٹرین عام ٹرینوں سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ یہ زمین پر نہیں بلکہ ہوا میں چلتی ہے۔ اس ٹرین کو پل کے نیچے لٹکا کر بنایا گیا ہے، اور یہ اپنی منفرد ڈیزائن کی وجہ سے سیاحوں اور مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس ٹرین کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اور یہ شہر کے اندر ٹریفک جام سے پاک سفر فراہم کرتی ہے۔

چین میں ایک اور دلچسپ ایجاد “ہونڈا کا کمپیکٹ موبائل” ہے، جو ایک چھوٹا سا الیکٹرک وہیکل ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف 18.7 کلوگرام وزنی ہے اور اسے کہیں بھی آسانی سے لے جایا جا سکتا ہے۔ یہ وہیکل ایک چارج میں 19 سے 25 کلومیٹر تک سفر کر سکتا ہے، اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 24 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کی سادہ ڈیزائننگ اور آسانی سے چلانے کی صلاحیت نے لوگوں کو اس کا دیوانہ بنا دیا ہے۔

چین کی ایک اور شاندار ایجاد “بی وائی ڈی گونگ وانگ U8” گاڑی ہے۔ یہ گاڑی نہ صرف زمین پر چلتی ہے، بلکہ یہ پانی پر بھی سفر کر سکتی ہے۔ اس گاڑی میں ایک ہائیڈرولک سسٹم نصب ہے جو اسے 150 ملی میٹر تک اوپر اٹھا سکتا ہے، جس سے اس کی زمین سے فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ گاڑی ایک ہی جگہ پر کھڑے ہو کر 360 ڈگری گھوم سکتی ہے، جو اسے شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے لیے مثالی بناتی ہے۔

چین کی ایک اور دلچسپ ایجاد “نیو9” الیکٹرک کار ہے۔ یہ کار نہ صرف تیز رفتار ہے، بلکہ اس میں ایک ہائیڈرولک سسپنشن سسٹم بھی نصب ہے جو کار پر جمی برف کو خود بخود صاف کر دیتا ہے۔ اس کار کی زیادہ سے زیادہ رفتار 255 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اور یہ اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہو رہی ہے۔

چین میں ڈرون ٹیکنالوجی بھی بہت ترقی کر چکی ہے۔ “گنگ 26s” نامی ڈرون ایک ایسی ہی ایجاد ہے جو چین کے بڑے شہروں میں ٹیکسی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ ڈرون صرف دو افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے بنایا گیا ہے، اور یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ کم شور کرتا ہے۔ اس ڈرون کی مدد سے شہری ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔

چین کی ایک اور دلچسپ ایجاد “یاماہا کا خودکار موٹر سائیکل” ہے۔ یہ موٹر سائیکل نہ صرف خود چلتی ہے، بلکہ یہ اپنے مالک کو فالو بھی کرتی ہے۔ اس میں ایک خودکار بیلنس سسٹم نصب ہے جو اسے گرنے سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ موٹر سائیکل چہرے کی پہچان کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، جو اسے اور بھی منفرد بناتی ہے۔

چین میں “ریڈرونگ کینگرو” نامی ایک اور دلچسپ روبوٹک وہیکل بھی ایجاد کیا گیا ہے۔ یہ وہیکل ایک کینگرو کی طرح نظر آتا ہے، اور اس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ وہیکل نہ صرف گروسری کی چیزیں لے جا سکتا ہے، بلکہ اسے گھر کے اندر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اور یہ اپنی منفرد ڈیزائننگ کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

چین کی ایک اور شاندار ایجاد “روبو ٹیکسی” ہے۔ یہ وہیکل دونوں سمتوں میں چل سکتا ہے، اور اس میں چار افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اس وہیکل میں کئی سینسرز نصب ہیں جو اسے محفوظ اور غلطیوں سے پاک بناتے ہیں۔ یہ وہیکل شہری ٹرانسپورٹ کے لیے ایک بہترین حل ہے۔

چین کی یہ ایجادات نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک انقلاب ہیں، بلکہ یہ دنیا کو یہ بتا رہی ہیں کہ مستقبل کی ٹرانسپورٹ کس طرح ہو گی۔ چین کی یہ کوششیں نہ صرف ماحول کو بچانے میں مددگار ہیں، بلکہ یہ لوگوں کے لیے سفر کو آسان اور پرلطف بنا رہی ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=ohnXMKlc25Q