
کراچی: (2 مارچ 2025) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ملک میں آزادیٔ اظہار پر بڑھتی ہوئی قدغنوں اور آئین کے برخلاف قانون سازی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کراچی پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام کی آواز دباکر چوروں کے ایک ٹولے کو زبردستی قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کی حفاظت عوام خود کرتے ہیں، مگر پاکستان میں ہمیشہ عوام کے فیصلوں کو دبایا گیا ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں بھی عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا. یورپی ممالک کی مثال دیتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وہاں جمہوریت مضبوط ہے کیونکہ عوام اپنے حقوق کی حفاظت خود کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں آزادیٔ اظہار، صحافت اور سیاسی سرگرمیوں کو مسلسل محدود کیا گیا ہے۔ “آئین کے آرٹیکل 19 کے برخلاف قوانین آج بھی بنائے جا رہے ہیں، جو ملک کے بنیادی نظریے سے متصادم ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ ریاست آئین اور قانون کے مطابق چلتی ہے، لیکن آج پاکستان میں نہ آئینی بالادستی ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی۔
حلیم عادل شیخ نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2025 میں ترامیم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ “عدلیہ کی آزادی کو محدود کرنے کے بعد اب حکومت میڈیا کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ان ترامیم کے ذریعے حکومت پر تنقید کو جرم بنا دیا گیا ہے، اختلافِ رائے رکھنے والوں کو قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور صحافیوں پر مقدمات درج کر کے دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں صحافیوں کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 1990 سے 2024 تک تقریباً 177 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تحقیقاتی صحافت کو ختم کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سخت نگرانی، بڑھتی ہوئی مداخلت، اور سیاسی و سماجی معاملات پر اظہارِ خیال پر پابندیاں جمہوری اقدار کے لیے خطرناک ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے پاکستان کے اسلامی تشخص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زبردستی اور جبر اسلام کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سورہ النساء (4:135) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“حق کی بات کہو، چاہے وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔”
انہوں نے حکمرانوں کو یاد دلایا کہ انصاف اور آزادیٔ رائے کسی بھی مہذب معاشرے کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ اگر انہیں کمزور کردیا جائے تو ملک ترقی نہیں کرتے۔
انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی ہر فورم پر آزادیٔ اظہار اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ “اگر جبر کی پالیسی ترک نہ کی گئی تو عوامی مزاحمت ناگزیر ہوگی۔
جاری کردہ: محمد علی بلوچ، ایڈوائزر ٹو صدر پی ٹی آئی سندھ























