
ارمغان کے گھر سے اربوں روپے مالیت کی کرپٹوکرنسی مائننگ مشینیں برآمد
کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے گھر سے اربوں روپے مالیت کی کرپٹوکرنسی مائننگ مشینیں برآمد ہوئی ہیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق، ملزم کے گھر سے برآمد ہونے والی یہ مشینیں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق، کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ملزم ارمغان کے گھر سے 2 کرپٹوکرنسی مائننگ مشینیں برآمد کی گئی ہیں۔ ان مشینوں کی مالیت پاکستان میں 2 ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ ملزم پر غیر قانونی کال سینٹر چلانے اور دھوکے بازی سے کمائی گئی رقم کو کرپٹوکرنسی میں تبدیل کرنے کے الزامات عائد ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم ارمغان غیر قانونی کال سینٹرز سے کمائی گئی رقم کو امریکا میں اپنے کزن کے ذریعے ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا۔ ملزم کا کزن، جو امریکی ڈالر کا ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈر ہے، یہ رقم ارمغان کے کرپٹوکرنسی اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا۔
حکام کے مطابق، ملزم دھوکے بازی سے کمائی گئی رقم کو کرپٹوکرنسی خریدنے اور مائننگ مشینوں کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی بنانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ یہ مشینیں ملزم کی غیر قانونی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔
یہ واقعہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں ملزم ارمغان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ مصطفیٰ عامر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں دوستوں کے ہاتھوں تشدد کے بعد جلا دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملزم ارمغان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی، اور اس کیس کی تفتیش جاری ہے۔
تفتیشی اداروں نے ملزم کے گھر سے برآمد ہونے والی مائننگ مشینوں کو اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کا اہم ثبوت قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی، اور اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کے تمام پہلوؤں کو تفتیش کے دائرے میں لایا جائے گا۔
اس واقعے نے کرپٹوکرنسی کے غیر قانونی استعمال اور مائننگ مشینوں کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کے تمام معاملات کو مکمل طور پر کھنگالیں گے اور اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کے تمام ثبوت جمع کر رہے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے جیوے پاکستان ڈاٹ کام وزٹ کریں: www.jeeveypakistan.com
===========================
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں دوستوں کے ہاتھوں تشدد کے بعد گاڑی میں بٹھا کر جلائے جانیوالے مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں ملزم ارمغان کے 2 ملازمین کے 164کے مکمل بیانات کی کاپی موصول ہوگئی۔
عدالت میں دیے گئے بیان میں گواہ غلام مصطفیٰ نے کہا کہ ارمغان نے جنوری سے پہلے 25 دن کی چھٹی دی تھی، نئے سال کی پہلی تاریخ پر ہم تین بجے دوپہر کو گھر آئے، ہم نیچے والے روم میں رہتے تھے اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی، کھانا باہر سے آتا تھا اور بنگلے کا گیٹ ریموٹ سے کھلتا تھا۔
گواہ غلام مصطفیٰ نے کہا کہ 6 جنوری کو نو بجے رات کو ایک لڑکا آیا اور وہ اوپرچلا گیا، اس لڑکے کی شکل نہیں دیکھی تھی، پھر ہم کمرے میں بیٹھے رہے، ڈیڑھ گھنٹے بعد گالم گلوچ اور دو یا تین فائر کی آوازیں بھی آئیں، ارمغان نے کہا کہ اپنے کمرے میں بیٹھو اور لاک کر لو باہر نہیں نکلنا۔
کراچی پولیس کے سربراہ جاوید عالم اوڈھو نے ارمغان کیس میں پولیس کی نااہلی کا اعتراف کرلیا
غلام مصطفیٰ نے مزید بتایا کہ کچھ دیر بعد باس نے اوپر بلایا اور ہمیں کہا کہ یہ خون صاف کرنا ہے، وہاں خون تھا اور اس لڑکے کا ٹراؤزر بھی پڑا ہوا تھا، وہاں ایک چھوٹے قد کا لڑکا تھا جس نے چشمہ پہنا ہوا تھا، ہم سے خون صاف کروایا اور اس کا ٹراؤز ایک طرف رکھ دیا۔
رات کو دیکھا کہ جس گاڑی میں وہ لڑکا آیا تھا وہ گاڑی نہیں تھی، پھر ہم اپنے کمرے میں سونے چلے گئے لیکن ہمیں نیند فجر تک نہیں آئی، دوپہر ایک بجے ارمغان باہر سے واپس آیا اس کے ساتھ ایک لڑکا تھا، پھر اسی دن باس نے اوپر بلایا اور کہا کہ نشان صحیح سے صاف نہیں ہوئے۔
گواہ غلام مصطفیٰ نے کہا کہ پولیس کی ریڈ ہوئی تو اوپر سے فائرنگ ہو رہی تھی، پولیس اسی رات ہمیں بنگلے پر لے گئی اور ہم نے خون کے نشانات دکھا دیے۔
عدالتی نوٹ میں کہا گیا کہ 164 کے بیان کے بعد گواہ نے ملزم کو شناخت کیا، ملزمان عدالت میں تھے جن کے نام ارمغان اور شیراز تھے، وکلاء صفائی نے بیان پر جرح کا حق محفوظ رکھا۔
ملزم ارمغان کے گھر سے اربوں روپے مالیت کی کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد
دوسرے گواہ زوہیب نے اپنے بیان میں کہا کہ پہلی جنوری کو باس کے گھر آئے تو بہت کچرا تھا، جب کوئی کام ہوتا تھا تو وہ واٹس ایپ پر کال کرتے تھے، جو بھی دوست آتا تھا تو ہمیں اس سے ملنے کی اجازت نہیں تھی، باس نے کہا کہ کوئی کلائنٹ آئے تو مت ملنا، 6 جنوری کو مصطفیٰ نامی شخص اپنی بلیک کار میں گھر کے اندر آیا، ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد گالم گلوچ کی آواز آئی اور فائرنگ کی آواز آئی۔
گواہ زوہیب نے کہا کہ ہمیں باس ارمغان نے کیمرے میں دیکھ کر کہا کہ کوئی بات نہیں ہے، باس نے کہا ایزی ہوجاؤ اور کہا کہ اپنے روم میں جائیں ڈرنے کی بات نہیں، تھوڑی دیر بعد ہمیں اوپر بلایا اور پینے کے پانی کی بوتل منگوائی، باس نے ہمیں کہا کہ یہ خون ہے صاف کرو اور اپنا کام کرو۔
زوہیب نے بتایا کہ وہاں پر ایک اور لڑکا موجود تھا جس نے چشمہ پہنا ہوا تھا، رات کو دیکھا کہ جو گاڑی آئی تھی وہ نہیں تھی، پھر ہم سوگئے، دوپہر ڈیڑھ بجے کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا، دروازہ کھولا تو باس اور ان کے ساتھ چشمے والا لڑکا کھڑا تھا، یہ دونوں اوپر چلے گئے ہم اپنے روم میں واپس گئے، ہم نے دیکھا کہ جو ٹراؤزر ہم نے شاپر میں ڈالا تھا وہ وہاں نہیں تھا۔
مصطفیٰ قتل کیس: جے آئی ٹی بنادی گئی، ارمغان کی گرفتاری، اسلحہ رپورٹ بھی جمع
گواہ زوہیب نے مزید بتایا کہ 8 تاریخ کو جب پولیس مقابلہ ہوا ہم وہیں تھے، جو فائر ہوئے اس کو دیکھ کر ہم باہر نکلے، پھر پولیس نے ہمیں پکڑا اور ہمیں رات کے 2 بجے بنگلے پر لے گئے، جہاں ہم نے خون صاف کیا تھا وہ جگہ ہم نے پولیس کو دکھائی۔
عدالتی نوٹ میں کہا گیا کہ گواہ زوہیب نے ملزم ارمغان اور شیراز کو شناخت کیا جو کمرہ عدالت میں موجود تھے، وکلاء صفائی نے بیان پر جرح کا حق محفوظ رکھا























