
دی یونیورسٹی آف لاہور میں آفس آف سسٹینبلٹی کے زیر اہتمام ٴٴوضو کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے سسٹمٴٴ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف ، ڈائریکٹر آفس آف سسٹیبلٹی عمارہ اویس ،سینئر ڈائریکٹر پروگرامز ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ڈاکٹر مسعود ارشد نے وضو کے پانی کو دوبار قابل استعمال بنانے کے سسٹم کا افتتاح کیا ۔تقریب میں ڈبلیو ڈبلیو ایف اور یونیورسٹی آف لاہور کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے جس کے تحت دونوں ادارے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ملکر کام کریں گے ۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر فریش واٹر پروگرام ڈبلیو ڈبلیو ایف سہیل علی نقوی ،پروفیسر ڈاکٹر ایناپوپکواایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف انوائرمنٹل سیفٹی اینڈ پروڈکٹ کوالٹی مینجمنٹ روس ، پروفیسر ڈاکٹر اولیگ وی سائفن ایسوسی ایٹ پروفیسر انوائرمنٹل انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ پروگرام ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی تھائی لینڈ ، ڈاکٹر ذاکر غلام ذاکر حسن سیال ڈائریکٹر اریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اریگیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ، پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم ڈیپارٹمنٹ آف سول انجینئرنگ یونیورسٹی آف لاہور سمیت سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کر تے ہوئے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف لاہور پرائیویٹ سیکٹر کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہونے کے ناطے جہاں ریسرچ ورک پر خصوصی طور پر فوکس کرتی ہے وہیں ایسے ایشوز کو بھی اجاگر کرنے میں پیش پیش رہتی ہے جس سے ملکی فائدہ ہو۔ وضو کے پانی کو دوبارہ استعمال کر نے کا سسٹم نصب کرنے سے یونیورسٹی آف لاہور میں پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے گا ۔ اسی طرح ملک بھر کی مساجد کے ساتھ ایساسسٹم نصب کر دیا جائے تو پانی کی بہت زیادہ بچت ہو سکتی ۔ ڈائریکٹر آفس آف سسٹیبلیٹی عمارہ اویس نے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پانی کے ضیا ع کو روکنا اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانا بلا شبہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ہمیں ملکی سطح پر پانی کی قلت کا سامنا ہے لیکن اسکے باوجود ہم لوگ پانی ضائع کرنے سے پرہیز نہیں کرتے ۔ یونیورسٹی آف لاہور نے وضو کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے سسٹم نصب کیا ہے جو دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی مشعل راہ ہوگا۔ ہم یونیورسٹی کے بائیو گیس سے اتنی گیس بناتے ہیں کہ یہاں چلنے والے کیفے کو گیس کی سپلائی کبھی معطل نہیں ہوئی اور اسی پلانٹ سے روزانہ 80ہزار افراد کے لیے کھانا بنایا جاتا ہے ۔ تقریب میں غیر ملکی و ملکی سپیکرز نے پینل ڈسکشن میں حصہ لیا اور اپنے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کیے ۔تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر آفس آف سسٹیبلٹی عمارہ اویس نے شرکائ میں شیلڈز تقسیم کیں ۔























