
5 فروری کو پولیس کا چھاپہ لگا اوپر سے فائرنگ ہورہی تھی اور ہم اپنے روم میں تھے،
آمنے سامنے فائرنگ ہورہی تھی، فائرنگ میں 2 بندے زخمی ہوگئے تھے، ہم اس وقت چھپ کر باہر نکلے اور چلے گئے تھے، جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے مصطفی قتل کیس میں گواہوں کے سنسنی خیز بیانات، عدالت دفعہ 164 کے تحت بیانات قلمبند کرلیئے۔ کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو پولیس نے مصطفی عامر اغوا و قتل کیس میں دو گواہوں اور ملزمان ارمضان اور شیراز کو پیش کیا۔ جہاں گواہوں نے بیانات قلمبند کرائے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کو آگے لایا جائے۔ ملزمان کھڑے ہو جائیں۔ گواہ نے کہا کہ غلام مصطفی نام ہے میرے والد کا نام عابد ہے۔ حیدرآباد کا رہائشی ہوں۔ مجھے ڈیفنس میں بنگلہ نمبر 35 کام پر لگایا تھا۔ گواہ نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ اس میں باس رہتے تھے اوپر والے فلور پر نام ارمغان ہے۔ وہاں میں صفائی کا کام کرتا تھا۔ نیو ایئر کو 2 بجے کال آئی مجھے گھر بلایا تھا، میں میں نے منع کردیا۔ دوسرے دن یکم جنوری کو ہم 3 بجے بنگلے پر آئے تو دیکھا۔ گھر بھکرا ہوا تھا 30 سے 40 لوگ آئے ہوئے تھے۔ ہمارا کھانہ بھی باس آن لائن منگاتے تھے

ہم نیچے رہتے تھے۔ جب کام ہوتا تھا تو باس ہمیں بلاتے تھے۔ گھر کا گیٹ ریموٹ سے کھلتا تھا۔ ہمیں باہر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ 6 جنوری کو رات 9بجے ایک لڑکا آیا، بلیک ٹراوذر میں جو اوپر چلا گیا۔ اس دوران وکلا صفائی نے تفتیشی افسر کی مداخلت پر اعتراض کیا۔ عابد زمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر تفتیشی افسر نے کوئی بات کرنی ہے تو پیچھے جائے۔ تفتیشی افسر گواہ کو پریشرائز کررہا ہے۔ عدالت نے گواہ سے استفسار کیا لڑکا دیکھنے میں کیسا تھا۔ گواہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ دبلا پتلا تھا اوپر چلا گیا کچھ دیربعد گالم گلوچ کی آواز آئی۔ پھر کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی۔ باس نے کیمرہ پر دیکھ کر ہمیں اوپر بلایا۔ ہمیں کمرے میں رہنے کا کہا گیا اور کہا کہ ڈرو نہیں۔ تھوڑی دیر بعد باس نے اوپر بلایا اور کہا کہ کپڑا اور شاور لیکر آؤ۔ میں اوپر چلا گیا باس کے پاس ایک لڑکا چھوٹے قد کا چشمہ لگایا ہوا موجود تھا۔ ہم سے باس نے خون صاف کرایا۔ ایک لڑکا بلیک ٹراوزر میں موجود تھا لال پھول والا لیکن یہ وہ لڑکا نہیں تھا جو آیا تھا۔ خون صاف کرکے رات ایک بجے ہم کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ جب میں نے دیکھا رات ایک بجے تو جو لڑکا آیا تھا اس کی گاڑی اور وہ موجود نہیں تھا۔ ہم اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گئے لیکن نیند نہیں آرہی تھی فجر تک جاگتے رہے۔ فجر میں نیند آئی ہے ہمیں ایک بجے دن اٹھے تو زور زور سے کھڑکیاں اور دروازہ پیٹ رہے تھے۔ گیٹ کھولا تو 2 لوگ موجود تھے ایک چشمہ والا اور ایک ہمارا باس۔ باس نے ہم سےپوچھا گیٹ کیوں بند کیا تھا میں نے کہا کہ مجھے لگا آپ سو گئے ہیں۔ باس نے کہا ٹھیک ہے نیچے جاکر آرام کرو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اسی دن باس نے ہم دونوں کو اوپر بلایا۔ باس نے کہا کہ یہ نشان ٹھیک سے صاف نہیں ہوئے سہی سے صاف کرو اور وہ ٹراوزر موجود نہیں تھا۔ ہمارے باس نے ایک سے دو دن بعد ہمیں چھٹی دے دی تھی۔ پھر ہمیں باس نے 3 تاریخ کو کال کی تھی۔ 5 فروری کو پولیس کا چھاپہ لگا اوپر سے فائرنگ ہورہی تھی اور ہم اپنے روم میں تھے۔ آمنے سامنے فائرنگ ہورہی تھی۔ فائرنگ میں 2 بندے زخمی ہوگئے تھے۔ ہم اس وقت چھپ کر باہر نکلے اور چلے گئے تھے۔ 10 تاریخ کو آئے سامان کےلئے کپڑوں کیلئے ہمیں پولیس نے پکڑ لیا۔ پولیس نے ہم سے پوچھ گچھ کی اور ہم نے سب بتادیا کہ ایسا واقعہ ہوا۔ پولیس اسی رات ہمیں بنگلے پر لے کر گئی ہے۔ موقع واردات پر پولیس کو خون کے نشانات بتائے۔ قالین میں 2 دھاگے تھے بلیک اور وائٹ۔ قالین ہٹایا تو خون کے نشانات موجود تھے۔پولیس نے وہاں سیمپل لئے اور میں نے گولیوں کے نشانات بھی دیکھائے۔ اور ہمیں اسی
رات تھانے لیکر گئے پھر پولیس نے ہم سے نمبر لے کر ہمیں چھوڑ دیا۔ اس بعد پولیس نے ہمیں کال کرکے بلایا اور آج میں یہاں موجود ہوں۔ گواہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو 164 کا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ملزم ارمغان کو شناخت کیا۔ عدالت میں موجود دوسرے گواہ نے بھی ملزمان کو گواہی میں شناخت کرلیا۔ عدالت استفسار کیا نام کیا ہے عمر کیا ہے۔ گواہ نے بتایا زوہیب نام ہے عمر 17 سال ہے۔ میں باس ارمغان مے پاس کام کرتا ہوں۔ حیدر آباد میں رہتا ہوں۔ تفتیشی افسر نے عدالت میں آکر بتایا کہ ملزم ارمغان کا والد پہلے گواہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جو دھمکیاں دے رہا ہے اس کیخلاف قانونی کارروائی کریں۔ گواہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں باس کے گھر کام پر لگا تھا ہم سے کہا گیا تھا وہاں فیملی ہے لیکن وہاں فیملی نہیں تھی۔ یکم جنوری کو چھٹی کے بعد آیا تھا۔ گھر میں بہت کچرا اور گھر بھکرا ہوا تھا۔ ہمیں انھوں نے روم دیکھا رکھا تھا ہم صفائی کرنے کے بعد وہاں سے چلے جاتے تھے اور ہمیں اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جو بھی کوئی دوست آتا یا کوئی آتا تھا ہمیں اس سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔روم میں ہی اپنا زیادہ تر وقت گزارتے تھے۔
5 جنوری کو میں کپڑے دھوئے اور پریس کیئے اور کپٹرے اوپر لے گئے۔ وہاں پر لڑکی بھی بیٹھی ہوئی تھی کپٹرے رکھ کر میں بیچے آگیا۔ 6 جنوری کو بلیک گاڑی آئی جس میں مصطفی نامی شخص تھا۔ جب وہ اندر آیا تو ہم نے آتے ہوئے دیکھا اس نے چہرا ڈھانکا ہوا تھا، اور ٹوپی والی شرٹ پہنی تھی وہ اوپر چلا گیا۔ وہ اوپر گیا تو آوازیں آنے لگیں گالم گلوچ کی۔ کچھ دیر بعد دو سے تین فائر کی آواز آئیں۔ جیسے فائر کی آواز سنی ہم مین گیٹ کی طرف بڑھے۔ باس نے ہمیں کیمرہ دیکھ کر تسلی دی کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ باس نے کہا کہ جاکر اپنے روم میں سو جاؤ۔ تھوڑی دیر بعد باس نے اوپر بلایا اور ہانی کی بوتل منگائی پینے کےلیے اور ہم سے کپڑے اور شاور منگایا۔ ہم سے کہا کہ یہ خون صاف کرو اور روم میں جاکر آرام کرو۔ چھوٹے قد کا لڑکا چشمہ لگایا ہوا ساتھ تھا موٹا تھا سامنے آئے گا پہنچان لوں گا۔ رات کو ایک بجے کھانے کے لئے اٹھے تو ہمیں سناٹا لگا ہمیں لگا باس سو گئے ہیں۔ ہم نے رات چاول کھائے اور تمام دروازوں پر کنڈی لگائی اور سو گئے۔ کنڈی لگانے کے بعد باہر دیکھا تو کالے رنگ کی گاڑی جو آئی تھی وہ موجود نہیں تھی۔ صبح ظہر کی نماز کےلئے 1:30بجے اٹھا تو روم کی کھڑکی زور زور پیٹنے کی آوزیں آرہی تھیں ہم ڈر گئے۔ جب میں دروازہ پر دیکھا تو باس اور چشمہ والا لڑکا موجود تھے۔ یہ دونوں اوپر چلے گئے میں واپس روم میں آگیا۔ بعد میں باس نے دوبارہ بلا کر اوپر کی صفائی کروائی۔ وہاں پر ایک ٹراوزر بھی تھا اسکو ہم نے تھیلی میں ڈال کر رکھ دیا۔ باس نے ہمیں چھٹی دے دی تھی۔ 3 تاریخ حیدر آباد سے واپس آیا اور گھر کے کام میں لگ گیا۔ 8 تاریخ کو پولیس مقابلہ ہوا میں وہاں موجود تھا۔ فائرنگ ہورہی تھی ہم وہاں سے چھپ کر نکل گئے۔ ہمیں 10 تاریخ کو پولیس نے پکڑا اور جائے وقوعہ پر لے گئے۔ ہم نے جہاں سے خون صاف کیا تھا اس کی نشاندہی کرائی۔ کارپیٹ ہٹایا تو وہاں خون کے نشانات موجود تھے پولیس نے وہاں سیمپل لئے۔ جہاں جہاں خون کے نشان تھے پولیس نے وہ حصہ کالین کا کاٹا اور لفافے مین رکھ لیا۔ پولیس نے ہمارا بیان لیا اور ہمیں چھوڑ دیا بعد میں 25 تاریخ کو بلایا تھا۔ چشم دید گواہوں کے بیانات کے بعد ملزم ارمغان نے گواہ زوہیب اور تفتیشی افسر کو انگوٹے کے ذریعے تھنزب کا نشان بنایا۔ ملزم ارمغان کمرہ عدالت میں تفتیشی افسر اور گواہ پر ہنستا رہا۔
لڑکا دیکھنے میں کیسا تھا عدالت کا استفسار
دبلا پتلا تھا اوپر چلا گیا کچھ دیربعد گالم گلوچ کی آواز آئی گواہ کا بیان
پھر کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی گواہ کا بیان
باس نے کیمرہ پر دیکھ کر ہمیں اوپر بلایا گواہ کا بیان
ہمیں کمرے میں رہنے کا کہا گیا اور کہا کہ ڈرو نہیں گواہ کا بیان
تھوڑی دیر بعد باس نے اوپر بلایا اور کہا کہ کپڑ اور شاور لیکر آو گواہ کا بیان
میں اوپر چلا گیا باس کے پاس ایک لڑکا چھوٹے قد کا چشمہ لگایا ہوا موجود تھا گواہ کا بیان
ہم سے باس نے خون صاف کرایا گواہ کا بیان
ایک لڑکا بلیک ٹراوزر میں موجود تھا لال پھول والا لیکن وہ لڑکا نہیں تھا جو آیا تھا گواہ کا بیان
خون صاف کرکے رات ایک بجے ہم کھانا کھانے بیٹھ گئے گواہ
جب میں نے دیکھا رات ایک بجے تو جو لڑکا آیا تھا اس کی گاڑی اور وہ موجود نہیں تھا گواہ کا بیان























