سندھ کے ضلع قمبر پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین میں پولیو کے مزید 2 نئے کیسز سامنے آگئے

پاکستان میں پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آگئے، جس کے بعد رواں سال 2025 میں ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 5 ہوگئی۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں انسداد پولیو کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے سندھ کے ضلع قمبر اور پنجاب کے ضلع منڈی بہاالدین میں پولیو کیسز کی نشاندہی کی تصدیق کی ہے۔
رواں سال سندھ سے پولیو کا یہ تیسرا اور پنجاب سے پہلا کیس ہے، جس کے بعد جس کے بعد 2025 میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔
اس سے قبل 2025 میں سندھ کے اضلاع بدین اور لاڑکانہ اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تین کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
گزشتہ سال ملک بھر میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون کے 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، ان میں سے 27 کا تعلق بلوچستان، 23 کا سندھ، 22 کا خیبر پختونخوا اور ایک ایک کا تعلق پنجاب اور اسلام آباد سے تھا۔
=======
پاکستان میں پولیو کیسز کی موجودہ صورتحال اور چیلنجز
پاکستان، جو کبھی اپنی خوبصورت وادیوں، بلند پہاڑوں اور رنگ برنگے ثقافتی تہواروں کے لیے مشہور تھا، آج ایک ایسے خاموش دشمن سے لڑ رہا ہے جو نہ صرف اس کے بچوں کی صحت کو تباہ کر رہا ہے بلکہ ملک کی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ دشمن ہے “پولیو”۔ پولیو، جسے عام طور پر “پولیو مائیلائٹس” کہا جاتا ہے، ایک ایسی بیماری ہے جو چھوٹے بچوں کو اپنا شکار بناتی ہے اور انہیں معذور بنا دیتی ہے۔ یہ بیماری وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے اور یہ وائرس آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے انسان کے جسم میں داخل ہو کر اس کے اعصابی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 1994 میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز ہوا تھا، اور اس وقت سے لے کر اب تک کئی کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، پاکستان اب بھی ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔ 2023 تک، پاکستان میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہماری کوششیں ابھی تک مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
پولیو کے خلاف جنگ میں چیلنجز
پاکستان میں پولیو کے خلاف جنگ میں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا چیلنج ہے “غیر مستحکم سیاسی اور سماجی صورتحال”۔ ملک کے کئی علاقوں میں، خاص طور پر قبائلی علاقوں اور دور دراز کے دیہات میں، پولیو ویکسینیشن مہمات کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ کچھ علاقوں میں لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ پولیو کے قطرے ان کے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں یا یہ کہ یہ مہم کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ یہ غلط فہمیاں اور سازشی نظریات پولیو کے خلاف جنگ کو کمزور کر رہے ہیں۔
دوسرا بڑا چیلنج ہے “غربت اور تعلیم کی کمی”۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان علاقوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے، اور لوگوں کو پولیو جیسی بیماریوں کے بارے میں آگاہی نہیں ہے۔ غربت کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو ویکسین تک پہنچانے کے قابل نہیں ہیں، اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے وہ پولیو کے خطرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
تیسرا چیلنج ہے “حکومتی سطح پر ناکافی اقدامات”۔ اگرچہ حکومت پولیو کے خلاف مہم چلا رہی ہے، لیکن کئی بار یہ مہمات ناکافی ہوتی ہیں۔ ویکسینیشن ٹیموں کو درپیش مسائل، جیسے کہ عدم تحفظ، وسائل کی کمی، اور موثر منصوبہ بندی کی عدم موجودگی، پولیو کے خلاف جنگ کو کمزور کر رہے ہیں۔
پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے تجاویز
پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، ہمیں عوام میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو پولیو ویکسین کے فوائد اور اس کی اہمیت کے بارے میں بتانا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں مقامی سطح پر مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، اور تعلیمی اداروں کو شامل کرنا ہوگا۔
دوسرا، ہمیں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں صحت کے مراکز قائم کرنے چاہئیں تاکہ لوگوں کو ویکسین تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔
تیسرا، حکومت کو پولیو مہمات کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے چاہئیں۔ ویکسینیشن ٹیموں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، اور انہیں ضروری سامان اور تربیت دی جانی چاہیے۔
آخری بات
پولیو کے خلاف جنگ صرف حکومت کی جنگ نہیں ہے، یہ ہم سب کی جنگ ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مہم میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہمیں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے چاہئیں، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں، تو ہم پاکستان کو پولیو سے پاک کر سکتے ہیں۔
پولیو کے خلاف جنگ ہماری قومی ترقی کے لیے اہم ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صحت مند بچے ہی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔ اگر ہم انہیں پولیو جیسی بیماریوں سے بچا لیں، تو ہم ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
ختم شد
Polio Cases
punjab
sindh
Polio Virus























