
شہر میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے مہاجر قومی موومنٹ متحرک ہوگئی، چئرمین آفاق احمد نے کہا ہے کہ آرمی کے ٹینک الخالد سے زیادہ وزن ڈمپرز کا ہے دن کے اوقات میں ہیوری ٹریفک پر پابندی عائد کرنے کا ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں، موٹر سائیکل سوار ایک ایک میٹر سفید کپڑا خرید لیں۔ ڈیفنس میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا کہ شہر میں ٹریفک حادثات کا جائزہ لینے کے لیے وکلا اور مرکزی کمیٹی کے زمہ داران ہر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے جلد عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ رینجرز کو سندھ بھر میں پولیسنگ کا اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ طویل عرصے سے کراچی میں تعینات رینجرز اگر صوبے میں تعینات ہوگی تو یقینی طور پر امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ آفاق احمد نے کہا کہ جب گرفتار ہوا تو بہت ساری اطلاع کورٹ میں ملیں۔ بتایا گیا کہ فاروق ستار اور سلیم حیدر، مصطفیٰ کمال، الطاف صاحب نے میری گرفتاری کی مذمت کی اور رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ اطلاع ملی تو ایسا لگا 1986 میں جی رہا ہوں جب سب ایک تھے۔ یہ وقت نہیں میں سیاسی صورتحال کو الفاظ دوں۔ جو بچوں کے ساتھ ناانصافیاں ہو رہی ہیں اس کا حل صرف اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے وکلا جو مہاجر نہیں تھے وہ سب میرے کیس میں فعال تھے۔ اگر آفاق احمد کوئی لسانی سیاست کر رہا ہوتا تو وہ میرے کیس کی پیروی نہیں کرتے۔ وکلا اور مہاجر قومی موومنٹ کی مرکزی قیادت اس شہر کے معاملات میں متحرک رہے گی۔ ہم حکومت کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ سندھی اور مہاجر کی دشمنی کا تاثر دیا جاتا ہے، تاثر دینے والی جماعت پیپلزپارٹی نہیں ہے، جس پیپلز پارٹی کو ہم جانتے ہیں وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تھی۔ موٹر سائیکل ان ٹینکر کے ویل کے نیچے آ جاتی ہے۔ ہم حکومت کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ شہر میرا ہے یہاں کمانے کے لیے نہیں آیا۔ اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ اس شہر میں ڈمپر آزادی کے ساتھ گھوم رہے ہوتے ہیں۔ واٹر ٹینکر کو بنیادی ضروریات کی اشیاء قرار دیکر سڑکوں پر چلنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ 6 ویلر کے علاؤہ کوئی بھی گاڑی نہیں چلانے دی جائے۔ میں جیل سے نکل کر جاں بحق ہونے والوں کے گھر گیا۔ جیل کے اندر غیر مہاجر لوگوں نے نعرے لگائے۔ کل کٹی پہاڑی گیا وہاں میرے حق میں نعرے لگے، جماعت اسلامی ہمیشہ یوٹرن لیتی ہے۔ آج ایشو کو آفاق احمد نے ٹیک اپ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بڑی عجلت کا مظاہرہ کیا، ڈمپر مافیا کے مطالبے پر میرے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔ جیل میں مجھے اے ٹی سی کی عدالت میں جانا پڑا۔ جن لوگوں نے کوشش کی تھی اس عمل کو لسانی رنگ دیا جائے آفاق کا بدنام کیا جائے۔ مجھے غیر مہاجر قیدیوں کے بیچ سے لے جایا گیا انہوں نے مجھے حوصلہ دیا۔ ہم ہر آئینی قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کرینگے۔ بچوں کا تعلیمی معیار اس شہر میں بہت اچھا ہے۔ انٹرمیڈیٹ کا 37 فیصد نتیجہ بنایا گیا، لاڑکانہ کا 87 فیصد انٹرمیڈیٹ کا نتیجہ بنایا گیا۔ آپ جان بوجھ کر میرے بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے تھے۔ اس شہر میں دندناتے ہیوی ٹریفک کیخلاف آئینی اور قانونی جنگ لڑینگے۔ اس شہر نے لوگ اپنے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں جب گرفتار ہوا سلاخوں کے پیچھے پابند سلاسل کر دیا گیا تو تمام لوگوں سے کٹ گیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم شہر میں کیا ہوتا رہا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید و بند کی سعوبدتیں برداشت کرنا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ ٹینکر مافیا کے مطالبے کچھ مزید افراد جیلوں میں ٹھوسے گئے تھے۔ ہماری تکلیف ڈمپر اور ٹینکرز کے نیچے آ کر مر جانے والوں کے اہلخانہ کے جتنی نہیں ہیں۔ اس شہر میں یہ تاثر یہ شہر ظلم و زیادتی برداشت کرے گا۔ گرفتاری سے قبل صحافیوں کے پاس اطلاعات آ رہی تھی کہ میں گرفتار ہو رہا ہوں۔ میں مطمئن تھا میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ شہر کے لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے آواز بلند کی۔ سندھ میں ہیوی ٹریفک دن میں چلانے کی مخالفت کی تھی۔ سندھ میں چوکیاں بیچی گئی ہیں اور پیسے لیکر ڈمپرز چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ شہر میں ڈمپرز اور ٹینکرز جو جل رہے ہیں دن میں ان پر پابندی عائد کی جائے حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں۔ سندھ حکومت کے کسی نمائندے نے کہا اب ہم فٹنس سرٹیفکیٹ مانگیں گے۔ فٹنس کا مطلب بریک لگنا نہیں ہوتا، حادثات میں سب سے زیادہ جا بحق ہونے والے موٹر سائیکل سوار تھے۔ آفاق احمد نے کہا کہ شہر میں 45 لاکھ موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں۔ تمام موٹر سائیکل سوار ایک ایک میٹر سفید کپڑا خرید کر رکھ لیں آگے کا لائحہ عمل بتائیں گے۔ جتنے سیاسی قائدین ہیں جنہوں نے میری گرفتاری کی مذمت کی سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا کے تمام ایکٹیوسٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس موقع پر جاوید چھتاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم آفاق احمد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 جس میں ہیوی ٹریفک کا موجود ہے۔ حکومت سندھ ہمارے ساتھ مذاق کررہی ہ۔ہمارے پاس جو ٹینکر بنے ہیں یہ ٹینکر کے لیے نہیں بنے تھے۔ ڈرائیور کا میڈیکل، تھرڈ پارٹی انشورنس اور وزن فٹنس پر ہونا چاہیے۔ پولیس والے صرف موٹر سائیکل والوں کو چیک کرتے ہیں۔ اگر ڈمپر فٹنس نہیں دیتے اور تو ہماری ٹیم آواز اٹھائے گی۔























