
کٹاس راج مندر چکوال میں ہندو مذہب کی تقریبات. بھارت سے آئے ہندو یاتریوں نے ” مہا شو راتری”” کی رسومات ادا کیں۔ بعد ازاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیر اہتما م ہندو یاتریوں کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمن متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر سید عطاء الرحمٰن نے کہا کہ ہندو اور سکھ برادری کی مذہبی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش ڈویلپمنٹ،پروموشن جوش وجذبے سے انجام دے رہے ہیں ۔ تاریخی کٹاس راج مندر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کے لیے ماسٹر پلان تشکیل دیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اقلیتی مذاہب کے افراد کی خدمت اور اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ اور ان کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات کرتا ہےوفاقی وزیر چودری سالک حسین نےہندو یاتریوں کے لیے کٹاس راج مندر سے ملحقہ 36 کمروں پر مشتمل رہائشی بلڈنگ کا افتتاح کیا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

بھارتی جتھ لیڈر رگو کانت نے کہا کہ پاکستان امن کا گہوارہ ہے. پاکستان اقلیتوں کے لیے انتہائی محفوظ ملک ہے جہاں سے وہ ہمیشہ ڈھیروں پیار اور محبتیں سمیٹ کر جاتے ہیں۔ بھارتی ترلوک چند نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پاکستان آکر بے حد محبت اور پیار ملا ہے،ہمیں یہاں تمام تر سہولیات دی جا رہی ہیں،یہاں ہمار ی مذہبی عبادت گاہوں کی خصوصی دیکھ بھال بھی کی جارہی ہے یا تریوں کے لیے کٹاس راج سے ملحقہ رہائشی کمپلیکس کی تعمیر پر ہم حکومت اور متروکہ وقف ا ملاک بورڈ کے چیئرمین سید عطاء الرحمن کے شکر گزار ہیں۔ ہم بھارت کی مختلف ریاستوں سے آ نے ہیں ہم نے کٹاس راج میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔
اس موقع پر ہندو یاتریوں نے پاکستان کو پرُ امن ملک ہے یہاں مذہبی مقامات کا جس طرح تحفظ کیا جا رہا ہے اس پر وہ متروکہ وقف املاک بورڈ اورحکومت پاکستان اور عوام کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے دل میں پاکستان کے لوگوں سے متعلق جو سوچ تھی وہ یہاں سرحد پار کرتے ہی بدل گئی ہے، پاکستانی بہت محبت کرنے والے اور ملنسار لوگ ہیں ۔تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھوکھر ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل شرائن عمر جاوید عوان،سکیورٹی افیسر عاصم چوہدری ، پی آ ر او غلام محی الدین سمیت دیگر افسران موجود تھے
یاتریوں کی آمد کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے سٹیٹ آف دی آرٹ رہائشی کمپلیکس میں رہنے اور کھانے پینے کے انتظامات کیے گئے۔























