ایم پی پی کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ کراچی سمیت سکھر اور حیدر آباد میں بھی ڈور ٹو ڈور اور پاکستان کے تمام صوبوں کشمیر گلگت بلتستان میں بھی کارنر میٹنگ جاری۔

ایم پی پی کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ کراچی سمیت سکھر اور حیدر آباد میں بھی ڈور ٹو ڈور اور پاکستان کے تمام صوبوں کشمیر گلگت بلتستان میں بھی کارنر میٹنگ جاری۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی آمد میں بھی زیادہ دیر نہیں۔ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سینئر مرکزی رہنما ارشد صدیقی اور نگراں تنظیمی کمیٹی کراچی نہال صدیقی کی ہدایت پر عامر علی، فاروق ملک، آصف قدوس، سلیم احمد، سیف یار خان۔ارشد احمد خان و دیگر نے کراچی میں ڈاکٹر عشرت العباد کا پیغام عام کردیا ہے۔ جبکہ سیدہ فردوس، ڈاکٹر صفیہ، یسرب خان اور دیگر نے تمام صوبوں میں ورکنگ کرلی ہے۔ آرگنائزر سیدہ فردوس نے اسلام آباد میں ایم پی پی کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ جبکہ آفتاب شاہ سکھر اور اپر سندھ میں حیدر آباد میں سینئر سیاست داں دو سال سے کام کر رہے ہیں۔ خصوصی رپورٹ
ڈاکٹر عشرت العباد ملک کے لئے ناگزیر ہیں۔ وہ ملک میں مایوسی، عدم استحکام، معاشی اصلاحات نوجوانوں کو صلاحیت کے مطابق روزگار فراہم کرنے اور شرافت اور عداوت کے ساتھ سیاسی عمل کا حصہ بنیں گے۔نمائندے سے میڈیا سیل کے انچارج محمد رضوان خان کا موقف
کراچی (بیورو رپورٹ) ایم پی پی کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ کراچی سمیت سکھر اور حیدر آباد میں بھی ڈور ٹو ڈور اور پاکستان کے تمام صوبوں کشمیر گلگت بلتستان میں بھی کارنر میٹنگ جاری۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی آمد میں بھی زیادہ دیر نہیں۔ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سینئر مرکزی رہنما ارشد صدیقی اور نگراں تنظیمی کمیٹی کراچی نہال صدیقی کی ہدایت پر عامر علی، فاروق ملک، آصف قدوس، سلیم احمد، سیف یار خان۔ارشد احمد خان و دیگر نے کراچی میں ڈاکٹر عشرت العباد کا پیغام عام کردیا ہے۔ جبکہ سیدہ فردوس، ڈاکٹر صفیہ، یسرب خان اور دیگر نے تمام صوبوں میں ورکنگ کرلی ہے۔ آرگنائزر سیدہ فردوس نے اسلام آباد میں ایم پی پی کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ جبکہ آفتاب شاہ سکھر اور اپر سندھ میں حیدر آباد میں سینئر سیاست داں دو سال سے کام کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عشرت العباد براہ راست تمام ساتھیوں سے ملک بھر میں رابطے میں ہیں۔ انکے صاحب زادے پورے پاکستان میں دورہ مکمل کرکے جا چکے ہیں اور ڈاکٹر عشرت العباد کی واپسی کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہیں۔ قومی سیاست میں انکی جماعت میں اہم ترین شخصیات شمولیت کریں گی جنکا تعلق پورے ملک سے ہوگا اور وہ قومی سیاست میں ریاست پہلے سیاست بعد میں کی روایت رکھیں گے۔ افواج پاکستان اور اداروں کے خلاف مہم سازوں کو ناکام بنانے میں انکی جماعت اہم کردار ادا کرے گی۔ ایم پی پی میڈیا سیل کے انچارج محمد رضوان خان نے رابطہ پر کہا کہ ہمارا ہوم ورک مکمل ہے ہماری مرکزی کمیٹی نے سندھ میں اور تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ کشمیر، گلگت بلتستان، میں بھی کام کرلیا ہے ہم نے قومی سوچ میری پہچان پاکستان کو 24کروڑ عوام کا نعرہ بنادیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد ملک کے لئے ناگزیر ہیں۔ وہ ملک میں مایوسی، عدم استحکام، معاشی اصلاحات نوجوانوں کو صلاحیت کے مطابق روزگار فراہم کرنے اور شرافت اور عداوت کے ساتھ سیاسی عمل کا حصہ بنیں گے۔ انکا نام ملک کی بہترین شخصیات میں پوتا ہے وہ سابق گورنر سندھ اور نشان امتیاز ہیں۔ انکی معتدل مزاجی اور شرافت ملک کو ایک نئی راہ دے گی۔ بین الاقومی سرمایہ کاری میں انکی شخصیت پر اضافہ ہوگا۔ کراچی کو اسکا حق ملے گا۔ پاکستان میں ایک قوم پاکستانی قوم، قائد اعظم کا فرمان اتحاد، یقین، تنظیم ڈاکٹر صاحب کی بنیادی سوچ ہے۔

======================

کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور متحدہ آفیسرز ایکشن کمیٹی کا ذاولفقار شاہ اور نعیم جمال سمیت تمام مزدور رہنماؤں کو شاندار دھرنے، مظاہرے اور پاور شو پر مبارکباد
ڈاکٹر عشرت العباد(ایم پی پی)، مہاجر قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ن)، مختلف تنظیموں کی حمایت کا خیر مقدم۔ SCUGملازمین اور افسران کی کوٹے سے بڑھ کر تعیناتی قبول نہیں
ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کئے جائیں ریٹائرڈ ملازمین کے کیسوں کو سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ایک ماہ میں نمٹایا جائے۔ حق کی آواز بلند کرنے والوں کو معطل کرنے کی مذمت۔ فوری بحال کیا جائے۔ میونسپل کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ۔ میئر کراچی کو بلاول بھٹو گری ہینڈ دیں۔ کے ایم سی ٹی ایم سیز ملازمین کے ریٹائرڈ ملازمین کو اٹینڈ کریں۔ سسٹم افسران کو ہٹایا جائے۔ حلف نامے اور Under Taken دینے والے افسران کا احتساب کریں گے۔ منظر وارثی۔ سیدہ رباب جعفری، محمد اظہر، فرخ مجید

کراچی ( ڈسٹرکٹ رپورٹر) متحدہ آفیسرز ایکشن کمیٹی اور کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور متحدہ آفیسرز ایکشن کمیٹی ذاولفقار شاہ اور نعیم جمال سمیت تمام مزدور رہنماؤں کو شاندار دھرنے، مظاہرے اور پاور شو پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔ منظر وارثی۔ سیدہ رباب جعفری، محمد اظہر، فرخ مجید نے ڈاکٹر عشرت العباد(ایم پی پی)، مہاجر قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ن)، مختلف تنظیموں کی حمایت کا خیر مقدم۔ SCUGملازمین اور افسران کی کوٹے سے بڑھ کر تعیناتی قبول نہیں کرتے۔ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کئے جائیں ریٹائرڈ ملازمین کے کیسوں کو سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ایک ماہ میں نمٹایا جائے۔ حق کی آواز بلند کرنے والوں کو معطل کرنے کی مذمت۔ فوری بحال کیا جائے۔ میونسپل کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ۔ میئر کراچی کو بلاول بھٹو گری ہینڈ دیں۔ کے ایم سی ٹی ایم سیز ملازمین کے ریٹائرڈ ملازمین کو اٹینڈ کریں۔ سسٹم افسران کو ہٹایا جائے۔ حلف نامے اور Under Taken دینے والے افسران کا احتساب کریں گے۔ منظر وارثی کی زیر صدارت اجلاس میں متفقہ طور پر بلدیہ کراچی کے میونسپل کمشنر کی برطرفی کی قرارداد اور انکے ملازمین وافسران دشمن اقدامات کی مذمت کی گئی۔ انکا کام میئر کو گمراہ کرنا اور ذاتی عناد کی بنیاد پر نشانہ بنانا رہ گیا ہے۔ انکی زہریلی گفتگو کے ثبوت موجود ہیں۔ کلک کی انکی انکوائری کیوں رکوائی گئی؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے انہیں ٹینڈرز اور گھپلوں میں کے ایم سی انتظامیہ سمیت تحقیقات کے لئے حکم دیا۔ کے ایم سی میں جعلی ڈی پی سیز، جعلی تقرریاں اور سسٹم افسران کی تقرریاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ اجلاس میں قانونی ٹیم کو فوری اعلی سطح پر خطوط، لیگل نوٹس اور کے ایم سی کی نا ہلی سے زمینیں چھننے پر محکمہ قانون اور متعقہ محکموں کے خلاف کاروائی کے لئے بھی حکمت عملی طے کی گئی۔ قانون سے نا بلد محکمہ قانون کے افسران کو ریٹائرمنٹ کیس میں عدالتی فیصلوں کے برعکس کیس روکنے پر سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم، لیگل ایڈوائزر، انکے دست راست افتخار اور دیگر کے خلاف بھی قانونی ٹیم کو کاروائی کی ہدایت کی گئی جبکہ پنشنرز کے کیس میں فریق بننے پر اتفاق کیا گیا۔ 280کی جگہ 500،SCUGملازمین کی بجٹ میں پوسٹیں رکھنے کی مذمت اور انتظامیہ کے خلاف قانونی کاروائی کی منظوری دی گئی۔ مذید براں بحیثیت پرنسپل اکاونٹ افسر اور سربراہ محکمہ جات ریکوریز نہ کرانے پر میونسپل کمشنر کے خلاف ریفرنس کرنے کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔ اسوقت میئر کراچی کی کاوشوں سے صرف ایم یو سی ٹی کی ریکوری ہو رہی ہے۔ باقی کارکردگی آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود دس فیصد بھی نہیں۔ جو میونسپل کمشنر کی ذمہ داری ہے۔
جبکہ ڈاکٹر سیف الرحمان اور سید شجاعت حسین نے ریٹس ریوائس کرکے کے ایم سی کو اربوں کا فائدہ دیا جو میونسپل کمشنر برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ میئر کو ناکام بنانے کے لئے انکا کردار ادارے کی تباہی کا مظہر ہے۔ اجلاس میں کے ایم سی ونگ نے بتایا کہ قانون سے نابلد محکمہ قانون کے افسران انکوائریز جو انکی خود کی بھی چل رہی ہیں کو جواز بنا کر ملازمین کی تقرریاں روک دی جاتی ہیں جبکہ 4,4ایف آئی آر اور نیب زدہ افسران ڈائریکٹر ہیں۔ اور بہت سے سارے واجبات لے کر جا چکے ہیں۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق اگر ریفرنس بھی ہو تو ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات نہیں روک سکتے۔ میئر کراچی ایکشن لیں۔ ہم عدم تعاون کی صورت میں عدالتوں سے رجوع کرکے توہین عدالت کی کاروائی کرائیں گے۔ ایکشن کمیٹی نے کمیٹی بھی تشکیل دی جو نعیم جمال اور ذولفقار شاہ کے ساتھ ملکر مستقبل کالائحہ عمل بنائے گی۔ جبکہ معطل کئے گئے ان ملازمین و افسران کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا جنہیں حق کی آواز اٹھانے پر معطل کیاگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
======================

مہاجر رہنما و صدرآزاد راٗئٹرز فورم پاکستان کے صدر رضوان احمد فکری کا آفاق احمد کو خراج تحسین۔ انکی رہائی پر مہاجر قوم کی خوشی دیدنی ہے۔ حادثات میں جاں بحق ہونے والے تمام قومیتوں کے گھروں پر جا کرجیل سے گھر جانے کے بجائے تعزیت نے گرفتار کرنے والوں کی متعصب ذہنیت پر کالک مل دی۔ آفاق احمد نے ثابت کردیا کہ مہاجر تنگ نظر نہیں
اپنی قوم کے لئے جدوجہد کا مقصد قومی سیاست سے دوری ہرگز نہیں انکی قومی سوچ انہیں ممتاز لیڈر بنا چکی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی دشمن سوچ کی حامل ہے۔ رضوان فکری

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) مہاجر رہنما و صدرآزاد راٗئٹرز فورم پاکستان کے صدر رضوان احمد فکری نے کہا ہے کہ آفاق احمد کو خراج تحسین۔ انکی رہائی پر مہاجر قوم کی خوشی دیدنی ہے۔ حادثات میں جاں بحق ہونے والے تمام قومیتوں کے گھروں پر جا کرجیل سے گھر جانے کے بجائے تعزیت نے گرفتار کرنے والوں کی متعصب ذہنیت پر کالک مل دی۔ آفاق احمد نے ثابت کردیا کہ مہاجر تنگ نظر نہیں۔ اپنی قوم کے لئے جدوجہد کا مقصد قومی سیاست سے دوری ہرگز نہیں انکی قومی سوچ انہیں ممتاز لیڈر بنا چکی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی دشمن سوچ کی حامل ہے جسکو آفاق احمد پر تنقید کرتے وقت شرم آنی چاہئے۔ انکا مہاجر فوبیا انہیں لے ڈوبے گا۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں دوبارہ الیکشن کرالئے جائیں
تو مہاجر قومی موومنٹ جو فارم 45پر نہیں جیت سکی اسکی عوامی مقبولیت کے آگے جماعت اسلامی ڈھیر ثابت ہوگی۔ پیپلز پارٹی بھی اپنی اصلاح کرلے کراچی پر قبضہ زیادہ دبن برقرار نہیں رہ سکے گا۔ کراچی کی اصل جماعتوں کی آنکھین کھل چکی ہیں۔ اب وہ کراچی کے اداروں میں لسانیت اور مخصوص افراد کی برتری کی کوششوں کے باوجود اپنے اتحاد سے ساری منفی سوچوں کو ناکام بنائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔