نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد پولیو مہم کے دوران ڈیوٹی دینے والا پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔
فائرنگ کا واقعہ تحصیل ماموند کے علاقہ ڈمہ ڈولہ سیرئی میں پیش آیا۔جہاں پولیو ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار مسمی معمور کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کےقتل کردیا۔
فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کریں گے۔
=====================

غزہ میں 22 فروری سے انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز، ڈبلیو ایچ او
غزہ میں 22 فروری سے انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر پولیو ویکسینیشن مہم 22 فروری سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے جس میں 10 سال سے کم عمر کے 591,000 بچوں کو اس بیماری کے خلاف ویکسین پلائی جائے گی۔
پانچ روز تک جاری رہنے والی اس مہم میں ‘ڈبلیو ایچ او’ اور اس کے شراکت داروں کی ٹیمیں غزہ بھر میں بچوں کو ویکسین دیں گی۔
یہ اقدام گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ کے دوران شروع ہونے والی مہم کا تسلسل ہے جس میں غزہ کے 90 فیصد بچوں کو ویکسین پلائی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران اسرائیل کی جانب سے مختصر وقفوں کے لیے حملے روکے گئے تھے۔ تاہم شمالی غزہ کا محاصرہ ہونے کے باعث بہت سے بچے ویکسین سے محروم رہے۔
گزشتہ سال اگست کے آخری ایام میں غزہ کے سیوریج میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی اور ایک بچہ اس بیماری سے معذور ہو گیا تھا۔
اس سے قبل 25 برس تک علاقے میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
پولیو کے لیے سازگار حالات
‘ڈبلیو ایچ او’ نے کہا ہے کہ جس علاقے میں بچوں کی جسمانی قوت مدافعت کمزور ہو وہاں پولیو پھیلنے اور اس سے معذوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں نکاسی آب کا نظام تباہ ہو جانے کے باعث گنجان آباد پناہ گاہوں میں پولیو وائرس کو پھیلنے کے لیے سازگار حالات میسر آئے ہیں۔
جنگ بندی کے بعد غزہ کے شمالاً جنوباً بڑی تعداد میں لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی سے بھی پولیو کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
غزہ میں پولیو مہم کی قیادت فلسطین کی وزارت صحت کرے گی جسے ڈبلیو ایچ او، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) اور دیگر شراکت داروں کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔
‘ڈبلیو ایچ او’ نے واضح کیا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور مخصوص عمر کے بچوں کو کئی مرتبہ دی جا سکتی ہے جس کے لیے تعداد کی کوئی حد نہیں۔ کوئی بچہ جتنی زیادہ مرتبہ یہ ویکسین لے گا اسے پولیو کے خلاف اتنا ہی زیادہ تحفظ حاصل ہو گا۔ اقوام متحدہ رواں سال اپریل میں فلسطینی بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی ایک اور مہم بھی چلائے گا۔























