ہائی رسک اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع

بلوچستان میں پولیو کے ہائی رسک اضلاع کوئٹہ، چمن، پشین اور قلعہ عبد اللّٰہ میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم آج سے شروع ہو گئی۔
مہم کے دوران بچوں کو انسدادِ پولیو کے حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جائیں گے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر حکام کے مطابق کوئٹہ بلاک میں شامل چاروں ہائی رسک اضلاع کی 78 یونین کونسلز میں انسدادِ پولیو کی خصوصی مہم 27 فروری تک جاری رہے گی۔
مہم کے دوران 4 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسی نیشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

سندھ: رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز 3 فروری سے ہوگا
طبی ماہرین کے مطابق بلوچستان کے کئی اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجود گی برقرار ہے۔
اس صورتِ حال میں والدین بچوں کو ایف آئی پی وی کے ٹیکہ جات لازمی لگوائیں، یہ ویکسین پولیو وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔
پاکستان میں پولیو ویکسینیشن مہمات: چیلنجز اور نئے اقدامات
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، فروری 2025 تک پاکستان میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں ابھی تک کافی نہیں ہیں۔ حکومت اور عالمی ادارے پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن اس سفر میں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔
پولیو کی موجودہ صورتحال
فروری 2025 تک، پاکستان میں پولیو کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے علاقوں سے ہیں۔ یہ علاقے پولیو وائرس کے لیے ہائی رسک زون تصور کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
پولیو مہمات کے چیلنجز
پولیو ویکسینیشن مہمات کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج ویکسین کے بارے میں غلط فہمیوں اور منفی پروپیگنڈا ہے۔ کچھ علاقوں میں والدین ویکسین کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سیکیورٹی مسائل، خاص طور پر دور دراز اور قبائلی علاقوں میں، ویکسینیشن ٹیموں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
ہائی رسک علاقوں میں نئے اقدامات
پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور عالمی اداروں نے ہائی رسک علاقوں میں نئے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم اقدام “فکسڈ پوسٹس” کا قیام ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے کے لیے لے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی رہنماؤں اور مذہبی اسکالرز کو بھی مہمات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ عوام کو ویکسین کے فوائد کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔
ٹیکنالوجی کا استعمال
پولیو مہمات میں ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھایا گیا ہے۔ جیو ٹیگنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے ویکسینیشن ٹیموں کو ہائی رسک علاقوں کی بہتر نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، موبائل ایپس کے ذریعے والدین کو ویکسینیشن کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
عالمی تعاون اور مستقبل کا ویژن
پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کو عالمی اداروں جیسے کہ WHO، یونیسف، اور بِل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ان اداروں کی مدد سے پاکستان میں ویکسینیشن مہمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وسائل اور تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ مستقبل میں، حکومت کا ہدف ہے کہ پولیو وائرس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے اور پاکستان کو پولیو فری ملک بنایا جائے۔
پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس سفر میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، تاکہ پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
#پولیو_مہم #پاکستان #صحت #ویکسینیشن























