
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی جنوری 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی۔ آئینی بینچز نے ایک ماہ میں صوبے بھر میں ایک ہزار 7 سو 65 مقدمات نمٹائے۔ دو رکنی آئینی بینچز نے ایک ماہ ایک ہزار 5 سو 45 مقدمات نمٹائے، یکم جنوری سے 31 جنوری تک سنگل بینچز نے 220 مختلف مقدمات نمٹائے، پرنسپل سیٹ کراچی میں 4 آئینی بینچز نے ایک ماہ میں ایک ہزار 252 مقدمات نمٹائے، سرکٹ بینچ سکھر نے ایک ماہ میں 74 مقدمات نمٹائے، حیدر آباد سرکٹ بینچ نے 117 مقدمات نمٹائے، لاڑکانہ سرکٹ بینچ نے 45 جبکہ میر پور خاص سرکٹ بینچ نے 57 مقدمات نمٹائے۔سنگل بینچز نے کراچی، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور میر پور خاص سرکٹ بینچز نے مختلف مقدمات کی سماعت کی۔
==================
کراچی (15 فروری): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےسندھ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمر کی حد میں رعایت کے قوانین اور ور دو بلز سندھ سول کورٹس (ترمیمی) بل 2025 اور سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹز لاز (ترمیمی) بل جن پر گورنر سندھ نے اعتراض اٹھا کر واپس بھیج دیا تھا ، کی منظوری دی ۔ ہفتہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، قائم مقام چیف سیکرٹری مصدق خان اور متعلقہ سیکرٹریز نے شرکت کی۔
تفصیلی غور و خوض اور گفت وشنید کے بعد سندھ کابینہ نے سندھ سول سرونٹس (عمر کی بالائی حد میں نرمی) کے قوانین کی منظوری دی اور سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ (SGA&CD) کو ہدایت کی کہ وہ نئے قوانین کو نوٹفی فائے کریں تاکہ وہ حضرات جو سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواستیں جمع کراتے ہیں انہیں عمر کی مد میں رعایت مل سکے۔
نئے قواعد کی دفعات: کابینہ کے فیصلے کے مطابق عمر کی بالائی حد میں عمومی رعایت کا اطلاق حسب ذیل مختلف زمروں کے امیدواروں پر ہوتا ہے،
* دو سال کی مسلسل سروس کے ساتھ سرکاری ملازمین پانچ سال تک کی رعایت کے اہل ہوں گے، جو متعلقہ انتظامی محکمہ کی طرف سے دی جائے گی۔
* عام امیدواروں کو انتظامی محکمہ کی طرف سے دو سال تک اورSGA &CD کی طرف سے پانچ سال تک کی رعایت حاصل ہوگی۔
* ویڈو /چلڈرن ڈیزیز سول سرونٹ سے مراد ایسے افراد جن کے والدین دورانِ سروس فوت ہو ئے وہ بھی پانچ سال تک کی رعایت کے اہل ہوں گے، جو کہ انتظامی محکمہ کی طرف سے دی گئی ہے۔
* خصوصی افراد، طلاق یافتہ خواتین اور بیوہ بھی پانچ سال تک کی رعایت کے حقدار ہوں گے، جو انتظامی محکمہ کی طرف سے دی گئی ہے۔
مزید برآں، بیواؤں اور طلاق یافتہ خواتین کو عمر میں رعایت کے لیے درخواست دیتے وقت متعلقہ سرٹیفکیٹ، جیسے ڈیتھ سرٹیفکیٹ (بیواؤں کے لیے) یا طلاق نامہ (طلاق شدہ خواتین کے لیے) پیش کرنا ہوگا۔
قواعد نمبر 5 کے مطابق عام امیدواروں کو عمر میں چھوٹ مجبوری اور معقول جواز کی بنیاد پر دی جائے گی۔ ان وجوہات میں طبی مسائل، والدین یا شریک حیات کا انتقال ، قدرتی آفات، تقرریوں میں تاخیر، بھرتیوں پر پابندی اور دیگر اہم وجوہات شامل ہیں جن کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
کابینہ نے بھرتیوں میں طویل تاخیر اور درخواستوں کی بڑی تعداد کو تسلیم کرتے ہوئے، سندھ حکومت نے تقرری یا بھرتی کے قواعد میں ترمیم کرکے عمر کی حد میں پانچ سال اضافی ریاعت کی منظوری دی ہے۔ عمر میں رعایت تمام محکموں پر لاگو ہوتی ہے ماسوائے پولیس اور سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے کی طرف سے منعقدہ مشترکہ مسابقتی امتحان (CCE) کے ۔ یہ نرمی 1 جنوری 2025 سے 31 دسمبر 2026 تک دو سال کی ابتدائی مدت کے لیے نافذ العمل رہے گی۔
سندھ سول کورٹس (ترمیمی) بل 2025: کابینہ کو بتایا گیا کہ اسمبلی سے منظور کیا گیا حالیہ ترمیمی بل گورنر سندھ نے سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض کے ساتھ واپس کردیا ہے۔
گورنر نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئین پاکستان کے آرٹیکل175(2)کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتیں صرف قانون کے ذریعے عطا کردہ دائرہ اختیار کا استعمال کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ایچ سیز کا اصل دائرہ اختیار جو 1866 کے لیٹرز پیٹنٹ کی شق 9 سے ماخوذ ہے، اسے کراچی میں ایک مخصوص مالیاتی ویلیو کے مطابق سول مقدمات کی سماعت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سندھ سول کورٹس آرڈیننس 1962ضلعی عدالتوں کو واضح اختیار دیتا ہے لیکن ایس ایچ سیز کے دائرہ اختیار کومتاثر نہیں کرسکتا۔
تفصیلی بحث کے بعد کابینہ نے بل کو منظور کرتے ہوئے کہا کہ 2025 کا مجوزہ بل آئین کے آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ یہ بل سندھ سول کورٹس آرڈیننس 1962 سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں پیشگی اعتراضات کے بغیر متعدد بار ترمیم کی گئی ہے۔
کابینہ نے مزید غو ر کیا کہ ایس ایچ سی میں مقدمات کا انباربہت زیادہ ہے، صرف چند بینچ سول معاملات کی سماعت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ضلعی عدالتوں میں ججوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو جلد ہی نتائج فراہم کر سکتا ہے۔ سی پی فیصلہ نمبر 5913کے 2018(غلام اصغر پٹھان کیس) اس بات کو بالکل واضح کرتا ہے جب ایس ایچ سی پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا اوربالآخر کیس دوبارہ منتقل کرنے کی سفارش کرنی پڑی۔
عدالتی اختیارات کے حوالے سے کابینہ نے نشاندہی کی کہ میری ٹائم معاملات ایس ایچ سیز کے دائرہ اختیار میں ہیں، جبکہ املاک کے مقدمات خصوصی ٹربیونلز کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں اور بینکنگ کے معاملات کو مخصوص بینکنگ عدالتیں نمٹاتی ہیں۔ صوبائی مقننہ نے فوری اورموثرانصاف کی فراہمی کی خاطر اس ترمیم کو نافذ کیا۔
یو اینڈ بی بل: کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبائی اسمبلی نے سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹی ٹیوٹ لاز (ترمیمی) بل منظور کر لیا ہے جو سرکاری جامعات میں وائس چانسلر کی تقرری کے لیے اہلیت کے معیار کو بڑھاتا ہے۔ اس بل کو ابتدائی طور پر یونیورسٹیز اور بورڈز ڈپارٹمنٹ نے سرچ کمیٹی کے ذریعے تجویز کیا تھا اور 4 دسمبر 2024 کو صوبائی کابینہ کی منظوری سے قبل ہی اس پر جامع طورپر غور و خوض کیا گیا تھا۔ قائمہ کمیٹی کے مزید جائزہ اور ترمیم کے بعد صوبائی اسمبلی نے 31 جنوری 2025 کو بل کی منظوری دی۔
بل کو منظوری کے لیے گورنر سندھ کو بھیجا گیا مگر انہوں نے اس پر اعتراض اٹھایا، خاص طور پر وائس چانسلر کے امیدواروں کے لیے پی ایچ ڈی کی شرط ختم کرنے سے متعلق ۔ گورنر نے فیڈرل ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے رہنما خطوط کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلرز کو ممتاز ماہر تعلیم ہونا چاہیے، ترجیحاً پی ایچ ڈی کے ساتھ۔
بحث کے دوران اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ U&B ڈپارٹمنٹ کی طرف سے تجویز کردہ اصل بل کے مطابق امیدواروں کو متعلقہ شعبے میں ماسٹر ڈگری، ترجیحی طور پر پی ایچ ڈی، اکیڈمیا، سول سوسائٹی، تحقیق، یا قائدانہ کردار میں 15 سال کے تجربے کے ساتھ ساتھ تحقیق اور اشاعت میں ایک ممتاز ریکارڈ کا حامل ہونا ضروری ہے۔ قائمہ کمیٹی نے تجربات کے ان تقاضوں کو واضح کرنے کے لیے ترامیم کی تجویز پیش کی اور اسی بنیادی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اسمبلی نے منظور کیا ہے۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ اصل بل میں کہا گیا ہے کہ وائس چانسلر کے طور پر منتخب ہونے والے کیڈر کے افسر کو سول سروس سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے اس میں ترمیم کرکے یہ واضح کیا کہ افسر کو یا تو استعفیٰ دینا ہوگا یا پھر سروس سے ریٹائرمنٹ لینا ہوگا، اس انفرادی کیس پر منحصر ہے جسے اسمبلی نے بھی پاس کیا۔
یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اصل بل میں عمر کی کوئی حد نہیں بتائی گئی۔ تاہم، قائمہ کمیٹی کی ترمیم میں کہا گیا کہ عام امیدواروں کی عمر 62 سال سے کم، ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کی عمر 63 سال سے کم اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کی عمر 67 سال سے کم ہونی چاہیے، جسے اسمبلی نے منظور کیا۔
کابینہ نے بل کی منظوری دیتے ہوئے ضروری کارروائی کے لیے اسمبلی کو بھیج دیا۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ























