جیکب آباد میں زمین کے تنازع پر کھوسہ برادری کے دو گروپوں میں تصادم، تین افراد قتل، ڈی آئی جی لاڑکانہ نے نوٹس لے لیا۔

جیکب آباد رپورٹ ایم ڈی عمرانی
جیکب آباد میں زمین کے تنازع پر کھوسہ برادری کے دو گروپوں میں تصادم، تین افراد قتل، ڈی آئی جی لاڑکانہ
نے نوٹس لے لیا۔ تفصیلا ت کے مطابق جیکب آباد کے کریم بخش کھوسو تھانہ کی حدود قصبہ محمد مراد کھوسو میں زمین کے تنازع پر کھوسہ برادری کے دو گروپوں میں تصادم ہو گیا، دونوں فریقین نے جدید اسلحہ سے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین افراد قتل ہو گئے ہیں قتل ہونے والوں میں ذوالفقار کھوسو، بابا عرف بابے کھوسو اور آفتاب کھوسو شامل ہیں،اطلاع پر پولیس جائے وقوعہ پہنچ کر لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے تعلقہ ہسپتال ٹھل منتقل کیں، جہاں دونوں فریقین کے لوگوں کے نہیں پہنچنے پر کھوسہ اتحاد کے رہنماؤں نے لاشیں وصول کیں، واقع کا ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے نوٹس لے لیا ہے اور ایس ایس پی جیکب آباد صدام خاصخیلی کو کشیدگی روکنے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں، واقعہ کے بعد دونوں فریقین کے لوگ علاقہ چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے پہنچ کر گھروں میں موجود سامان اٹھا لیا ہے، تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔ واضح رہے کہ زمین کے معاملے پر چچازاد بھائیوں میں خونی تصادم ہوا۔

جیکب آبادجے یو آئی سندھ نے دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ پر کسی صورت کینالوں کو قبول نہیں کیا جائے گا، کالاباغ ڈیم کے خلاف بھی جے یو آئی نے ایوانوں کے اندر اور باہر میدان میں جدوجہد کی اب بھی ہر فورم پر کینالوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے، سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے سندھ کا امن و امان ابتر ہوچکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے جے یو آئی سندھ کی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جمعیت علمائے اسلام سندھ کی مجلس شوریٰ کا اہم اجلاس جامعہ عبداللہ بن مسعود میں صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس میں پورے صوبے سے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں مولانا محمد صالح، مفتی سعود افضل ہالیجوی، عبدالزاق لاکھو، حاجی عبدالمالک ٹالپر، ڈاکٹر اے جی انصاری، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو، مولانا محمد غیاث، مولانا عبدالکریم عابد، سمیع اللہ سواتی سمیت شوریٰ کے ارکان، علما کرام، مفتیان نے شرکت کی، اجلاس میں مشاورت کے بعد جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے فیصلوں کا اعلان کیا اور کہا کہ دریا سندھ پر بننے والی نہروں کو جے یو آئی ایک بار پھر مسترد کرتی ہے کالا باغ ڈیم کے خلاف بھی شرعی فتویٰ جے یو آئی نے دیا تھا اور سندھ کی تقسیم کے خلاف بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، جزائر، وسائل، کارونجھر کی فروخت کے خلاف جے یو آئی کی جدوجہد بھی سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ کراچی کی ڈھائی کروڑ عوام پانی کو بوند بوند کو ترس رہی ہے سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، سکھر اور لاڑکانہ میں مغرب کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ اور دیگر اضلاع میں اسٹریٹ کرائم عروج پر ہے کچے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی پکے کے ڈاکو کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ، ڈی جی رینجرز بتائیں اربوں روپے خرچ کرنے بعد آپریشن کا نتیجہ کیا نکلا؟ انہوں نے اعلان کیا کہ پانی اور امن امان سمیت دیگر بڑھتے ہوئے مسائل کے خلاف 20 فروری کو تحصیل اور ٹاؤن ہیڈکوارٹرز میں جبکہ 25 فروری کو ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ضلعی سطح پر پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوں گے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے بڑھتے مسائل پر رمضان المبارک کے بعد سندھ میں عوامی مارچ نکالیں گے جو سندھ کے ہر ضلع سے گزرے گا اور آخری جلسہ کراچی میں ہوگا۔ عوامی مارچ میں سندھ کے بڑھتے ہوئے مسائل کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی انہوں نے کہا کہ 2026 جنوری کے آخری ہفتے میں 3 روزہ بہت بڑا اجتماع منعقد کیا جائے گا جس میں خانہ کعبہ کے امام اور مسجد نبوی کے امام کی آمد متوقع ہیں اجتماع کی تاریخ اور مقام کا اعلان صوبائی مجلس عاملہ جلد کرے گی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کی عید کے بعد کراچی میں سندھ بھر کے قبائلی سرداروں، سیاسی، مذہبی، قوم پرست سربراہوں پر مشتمل قومی جرگہ منعقد کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں ہماری 10 سے زائد چھینی گئی نشستوں کا فیصلہ 6 مہینوں میں سنایا جانا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود ٹریبونلز ایک پیشی بھی نہیں رکھی جس کا فیصلہ جلد کیا جائے، اجلاس میں سندھ اسمبلی کا نافذ کیا گیا زرعی ٹیکس اور پیکا آرڈیننس کو بدترین ظلم اور کالا قانون سمجھتے ہیں آئی ایم ایف کے دباؤ پر لگائے جانے والے ٹیکس کو واپس لیا جائے۔