سندھ انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ 2023 (ECBC-2023) ایک سرسبز اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرے گا، ناصر شاہ

کراچی14 فروری۔ پائیدار شہری ترقی کی جانب ایک اہم قدم – وزیر برائے توانائی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ 2023 (ECBC-2023) کا باضابطہ طور پر آغاز کردیا۔ وزیر توانائی نے اپنے خطاب میں تمام قومی اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کاوشوں کا اعتراف کیا اور پائیدار ترقی کیلئے سندھ حکومت کی لگن کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ای سی بی سی کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ توانائی کے تحفظ کے حوالے سے ہماری وسیع تر کوششوں کے کلیدی پائیدار ترقیاتی اہداف اور توانائی کی کارکردگی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) کی جانب سے بلڈنگ انرجی ریسرچ سینٹر (BERC) کے تعاون سے کراچی میں منعقد تقریب نے پالیسی سازوں، صنعت کے ماہرین، اور اسٹیک ہولڈرز کو سندھ میں توانائی سے موثر تعمیراتی طریقوں کی جانب راستہ ہموار کرنے کیلئے اکٹھا کا۔ ای سی بی سی2023 کا اجراء توانائی کے چیلنجوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے عزم میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔ توانائی کی بچت کیلئے سخت معیارات قائم کرنے سے اس کوڈ سے عمارتوں میں توانائی کی طلب کو 30 فیصد تک کم کرنے کی امید ہے جو ماحول اور معیشت دونوں کے لیے خاطر خواہ فوائد کی پیشکش کرتی ہے۔ تقریب کا آغاز NEECA کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر سردار معظم کے خطاب سے ہوا جنہوں نے پاکستان کے توانائی کے مستقبل کیلئے ای سی بی سی2023 کے وسیع تر مضمرات پر روشنی ڈالی ،یہ ضابطہ پاکستان کے توانائی کیلئے ایک گیم چینجر ہے۔ یہ ہماری شہری منصوبہ بندی اور تعمیراتی طریقوں میں توانائی کی کارکردگی کو مربوط کرنے

کے ہمارے عزم کی نمائندگی کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کیلئے ایک پائیدار مستقبل کو یقینی بناتا ہے۔‘‘ اس جذبے کی بنیاد پر SEECA کے منیجنگ ڈائریکٹر سید امتیاز علی شاہ نے ضابطہ اخلاق کو اپنانے میں سندھ کی قیادت اور ملک بھر میں اسی طرح کی کوششوں کی ترغیب دینے کی صلاحیت پر زور دیا ’’سندھ کو ای سی بی سی 2023 کے نفاذ میں راہنمائی کرنے پر فخر ہے۔‘‘ تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے یہ اقدام ہمارے تعمیر کے طریقے کو بدل دے گا، توانائی کی بچت، ماحولیاتی تحفظ اور ہمارے صوبے اور قوم کے لیے اقتصادی فوائد کو یقینی بنائے گا۔‘‘ اس تقریب میں تکنیکی پیشکشیں بھی پیش کی گئیں جن کا مقصد ECBC-2023 کے عملی نفاذ کا خاکہ پیش کرنا تھا اور اس سے منسلک تعمیل والے ٹولز/ سافٹ ویئر جو ضابطہ کی پابندی کو آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ اس تقریب نے صنعت کے پیشہ ور افراد اور پالیسی سازوں کے لیے قابل قدر بصیرتیں پیش کیں جس میں موثر عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔ ترقیاتی شراکت داروں کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے GIZ پاکستان کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جناب ارشاد خان نے تعاون کے جذبے کی تعریف کی جس کی وجہ سے یہ کامیابی حاصل ہوئی”یہ سنگ میل شراکت کی طاقت کو واضح کرتا ہے۔‘‘ ایک ساتھ مل کر ہم ایک زیادہ پائیدار اور توانائی سے بھرپور مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ECBC-2023 کا آغاز نہ صرف سندھ کو پائیدار شہری ترقی میں سب سے آگے ہے بلکہ دوسرے صوبوں کے لیے بھی اس کی تقلید کے لیے ایک معیار قائم کرتا ہے۔ اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے ذریعے پاکستان اپنی توانائی کی کارکردگی اور موسمیاتی اہداف کو حاصل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے جس سے ایک سرسبز اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 201۔۔۔ایم آیس آیس

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ14 فروری 2025

درخواست برائے ٹکرز

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے ریڈ لائن منصوبے کی پیش رفت کو تیز کرنے اور تمام رکاوٹوں کے فوری خاتمے کی ہدایات

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ریڈ لائن بی آر ٹی پر اعلیٰ سطحی اجلاس

اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمشنر کراچی حسن نقوی، سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو، بورڈ آف ڈائریکٹرز (BoD) کے رکن سروش لودھی، بین الاقوامی کنسلٹنٹس اور دیگر متعلقہ حکام شریک

اجلاس میں سیکریٹری پی اینڈ ڈی نجم شاہ نے آن لائن شرکت کی

اجلاس میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا

ریڈ لائن کے تعمیراتی مسائل، یوٹیلیٹیز کی منتقلی اور بائیو گیس پلانٹ کا قیام پر گفتگو

سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو نے اجلاس کو منصوبے کی پیش رفت اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی

ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا ایک اہم منصوبہ ہے، حکومت اس کے بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے، شرجیل انعام میمن

یوٹیلیٹیز کی منتقلی سمیت تمام چیلنجز کے حل کے لئے حکام تندہی سے کام کر رہے ہیں، شرجیل انعام میمن

تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تاکہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے، شرجیل انعام میمن

منصوبے میں غیر ضروری تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، عوام کو درپیش دشواریوں کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، شرجیل انعام میمن

منصوبے پر سخت مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ اس کی ہموار تکمیل یقینی بنائی جا سکے، شرجیل انعام میمن

ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں ایک انقلابی تبدیلی لائے گا اور شہریوں کو ماحول دوست اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرے گا، شرجیل انعام میمن

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ14 فروری 2025

کراچی 14 فروری ۔کراچی میں ٹرانسپورٹرز کے مختلف ایسو سی ایشنز پر مشتمل ایک وفد نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی قیادت میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ سے ملاقات کی اور مسائل سے متعلق آگہی دی۔ ملاقات میں شہر میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سیکریٹری ایکسائز محمد سلیم راجپوت، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمشنر کراچی حسن نقوی، سی سی پی او کراچی جاوید عالم اڈھو، اور ڈی آئی جی ٹریفک سمیت دیگر اہم حکام شریک تھے۔ جبکہ ٹرانسپورٹ وفد میں لیاقت محسود، حاجی مقصود محسود ، حاجی یوسف ، حاجی خیر الزمان محسود ، طارق گجر ، حاجی بادشاہ خان محسود ، ملک یاسین نیازی ، جان عالم محسود ، حاجی عمردراز باجوڑی ، عبدالحمد بنگش ، حاجی طور خان ، سردار سلامت ، کفیل خان اور دیگر شریک ہوئے ۔ ملاقات کے موقع پر ٹرانسپورٹرز نے صوبائی وزراء کو شہر میں داخلے کی مخصوص اوقات پر عائد پابندیوں کے حوالے سے پریشانی سے متعلق آگہی دی۔ سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے شرکاء کو حکومت کی جانب سے ایک گھنٹہ اضافی وقت دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بڑی گاڑیاں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک شہر میں داخل ہو سکیں گی، جس سے انہیں آپریشنز میں زیادہ لچک ملے گی، سندھ حکومت ٹرانسپورٹرز کو درپیش چیلنجز کو سمجھتی ہے، اور ہم ان کے ساتھ مل کر ان مسائل کے حل کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے داخلے کے اوقات میں اضافے کا یہ فیصلہ ٹرانسپورٹرز کے بوجھ کو کم کرنے اور آپریشنز کو آسان بنانے کے لیے ایک چھوٹا قدم ہے، تمام بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ تمام ٹرانسپورٹرز، بشمول دیگر صوبوں سے آنے والی گاڑیاں، اپنے گاڑیوں کو سندھ میں رجسٹر کرائیں اور ان کی فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ ملاقات کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز ایسے اقدامات سے گریز کریں جو ٹریفک میں خلل ڈالیں، عوامی پریشانی کا باعث بننے والے کسی بھی اقدام کو سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کراچی کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ ٹریفک کو روکے جانے جیسے عوامی زندگی کو متاثر کرنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا، میں تمام ٹرانسپورٹرز سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان مسائل کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں، کیونکہ ان مسائل کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملاقات کے موقع پر ٹرانسپورٹرز کے رہنماؤں نے حکومت کی طرف سے ان کے مسائل کے حل کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ داخلے کے اوقات میں اضافے سے ہمارے لاجسٹک چیلنجز میں کمی آئے گی۔ ٹرانسپورٹرز نے صوبائی وزراء کو یقین دہانی کروائی کہ ہم حکومت کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کیے جائیں۔ ٹرانسپورٹرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 202۔۔۔

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ14 فروری 2025

کراچی 14 فروری ۔وزیرِاعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی و چیئرپرسن اسٹیوٹا جنید بلند کا اسٹیوٹا کے ریجنل دفتر حیدرآباد کا اچانک دورہ، غیر حاضری پر 13 ملازمیں کے خلاف کارروائی کی ہدایات۔وزیرِاعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی و چیئرپرسن سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) جنید بلند نے اسٹیوٹا کے ریجنل دفتر حیدرآباد کا اچانک دورا کیا۔ دورے کے دوران، جنید بلند نے حاضری رجسٹر کا جائزہ لیا اور 13 ملازمین کو غیر حاضری کی حالت میں پایا، اس اچانک دورے کا مقصد حاضری کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔چیئرمین جنید بلند نے غیر حاضر ملازمین کے خلاف فوری انکوائری شروع کرنے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ، “یہ رویہ عدمِ نظم و ضبط اور جوابدہی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔”انہوں نے ہدایت دی کہ تمام ریجنل دفاتر میں حاضری کی نگرانی کو سخت کیا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔ انکوائری کے نتائج کی روشنی میں اسٹیوٹا کے قوانین کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی۔جنید بلند نے پی پی پی اور حکومتِ سندھ کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تعلیمی اور ٹیکنیکل اداروں میں شفافیت اور انتظامی کارکردگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوابدہی کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اچانک دورے وقتاً فوقتاً کیے جاتے رہیں گے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 203۔۔۔اے کے

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ14 فروری 2025

کراچی 14 فروری ۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ریڈ لائن منصوبے کی پیش رفت کو تیز کرنے اور تمام رکاوٹوں کے فوری خاتمے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ریڈ لائن بی آر ٹی پر اعلی سطح کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمشنر کراچی حسن نقوی، سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو، ٹرانس کراچی کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکے رکن سروش لودھی، بین الاقوامی کنسلٹنٹس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ جبکہ سیکریٹری پی اینڈ ڈی نجم شاہ نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ریڈ لائن کے تعمیراتی مسائل، یوٹیلیٹیز کی منتقلی اور بائیو گیس پلانٹ کا قیام پر گفتگو کی گئی ۔ اجلاس میں ٹرانس کراچی کے سی ای او طارق منظور چانڈیو نے منصوبے کی پیش رفت اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی۔ اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا ایک اہم منصوبہ ہے، حکومت اس کے بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹیز کی منتقلی سمیت تمام چیلنجز کے حل کے لئے حکام تندہی سے کام کر رہے ہیں، تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تاکہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ منصوبے میں غیر ضروری تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، عوام کو درپیش دشواریوں کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، منصوبے پر سخت مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ اس کی ہموار تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں ایک انقلابی تبدیلی لائے گا اور شہریوں کو ماحول دوست اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرے گا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 204۔۔۔