
شیر افضل مروت کی قومی اسمبلی آمد، حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این اے شیر افضل مروت کی آج قومی اسمبلی میں آمد پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔
شیر افضل کے استقبال کیے جانے پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ حکومتی ارکان کا استقبال شیر افضل مروت کو مروا ہی نہ دے اور شیر افضل مروت سے کہا کہ آپ بھی کوئی ایسی بات نہ کریں کہ آپ کیلئے کوئی مشکل ہو۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ ان کا سوال تو اپنے ہی ساتھیوں سے ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟
پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ جو 10 وکیل بانی پی ٹی آئی سے ملنے جیل جاتے ہیں ان میں سے کیس لڑنے والا ایک ہی ہوتا ہے، باقی 9 وکیل بانی پی ٹی آئی کے کان بھرنے اور پیغام رسانی کیلئے جاتے ہیں۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ جو نامور وکلاء میڈیا پر نظر آتے ہیں، کسی عدالت میں آپ کو یہ وکیل کے طور پر نظر نہیں آئیں گے۔
پہلے تجویز آئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو نتھیا گلی منتقل کیا جائے گا، شیر افضل مروت
ان کا کہنا تھا کہ ان وکلاء نے بنیادی طور پر پیغام رسانی کا کام شروع کیا ہوا ہے، وکلاء جا کر بانی پی ٹی آئی کو شکایات لگاتے ہیں، ایک وکیل کہتا ہے کہ آپ کے خلاف بیان دے دیا گیا، دوسرا وکیل پہلے وکیل کی تائید کر دیتا ہے، تیسرا وکیل دعویٰ کر دیتا ہے کہ میں نے بھی ذرائع سے کنفرم کیا ہے بات درست ہے۔
کیا بانی پی ٹی آئی اتنی جلدی بات پر یقین کر لیتے ہیں؟ صحافی کے اس سوال پر رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ لوگ بانی پی ٹی آئی کے مزاج کو اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔
====================
پاکستان نے ٹرمپ مودی ملاقات کے اعلامیے میں پاکستان سے متعلق حوالے کو گمراہ کن قرار دیدیا
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ملاقات کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان سے متعلق حوالے کو یکطرفہ، گمراہ کن، حیران کن اور سفارتی اقدار کے منافی قرار دے دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان اور امریکا کے تعاون کے باوجود مشترکہ اعلامیے میں ایسا حوالہ آجانا حیران کن ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کسی مشترکہ بیان میں ایسے حوالے کو شامل کروا کر بھارت کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی، محفوظ پناہ گاہوں اور اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور اپنی سر زمین سرحد پار دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے۔























