
ارمان صابر
ویلنٹائن ڈے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جو محبت کا دن کہلاتا ہے۔ لوگ اس دن اپنے محبوب کو تحفے دیتے ہیں، اس کے ساتھ آؤٹنگ کرتے ہیں، ڈنر کرتے ہیں۔ غرض کہ ویلنٹائن کا دن محبوب کے نام ہوتا ہے۔
اب تو امریکا سمیت دنیا بھر میں یہ تہوار منایا جاتا ہے اور اس دن صرف امریکی افراد تحفے تحائف پر اوسطاً بیس ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔
لیکن یہ تہوار امریکا سے نہیں بلکہ مورخین کا کہنا ہے کہ یورپ کے ملک روم سے شروع ہوا۔ کوئی چھ سو سال قبل مسیح میں رومیوں کے ہاں ایک رسم ہوا کرتی تھی جسے لوپرکیلیا کہا جاتا تھا اور اسے پندرہ فروری کو منایا جاتا تھا۔
اس رسم کے دوران وہ اپنے دیوتا کو بکرے کی بلی چڑھاتے اور پھر دو مرد شادی شدہ عورتوں کو اس بکرے کی کھال کے ٹکڑوں سے مارتے تھے۔ اس زمانے میں خواتین میں یہ خیال عام تھا کہ اس طرح عورت جلد حاملہ ہوجاتی ہے اور پیدائش میں آسانی ہوتی ہے۔
رومیوں کے ہاں اسی دن مردوں اور عورتوں کے جوڑے بنانے کا بھی تہوار ہوتا تھا یعنی خواہشمند خواتین اپنے نام لکھ کر ایک جار میں ڈالتی تھیں جنہیں شادی کے خواہشمند مرد نکالتے تھے اور یوں نام نکلنے پر ان کے جوڑے بنائے جاتے تھے۔ اس وقت رومیوں کو یہ یقین تھا کہ یہ جوڑے ان کے دیوتاؤں نے بنائے ہیں۔
یہ دن رومیوں کے ہاں موسم بہار کی آمد کے تہوار کے طور پر بھی منایا جاتا تھا۔
پابندی

دن گزرتے رہے اور پھر روم میں عیسائی مذہب پروان چڑھنے لگا۔ اور بالآخر پانچویں صدی عیسوی کے آخر تک یعنی 496 عیسوی میں پوپ گیلیسئس اول نے اس تہوار پر پابندی لگا دی۔ اور اسے سینٹ ویلنٹائن کی یاد سے منسوب کر دیا۔
اب یہ سینٹ ویلنٹائن کون ہیں، اور پوپ نے یہ دن ان کے نام کیوں منسوب کیا؟
اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے کئی پادری اپنا نام ویلنٹائن رکھتے تھے۔
ہسٹری ٹی وی نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق قدیم روم میں ویلنٹائن نام بہت مشہور تھا۔ اور اس نام سے کم و بیش پچاس مختلف قصے جرے ہیں۔
لیکن فوربس میگزین کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو ویلنٹائن پادریوں کی کہانی کامن ہے یعنی دونوں ویلنٹائن کی کہانیوں میں کچھ حد تک مماثلت ہے۔
ان دونوں سے متعلق روایات موجود ہیں کہ وہ طبیب تھے، دونوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو چودہ فروری کو سزائے موت دی گئی تھی اور دونوں کی تدفین بھی ایک ہی سڑک کے ساتھ ہوئی۔
تاریخ میں دونوں کے بارے میں ابہام موجود ہے اور یہ بات واضح نہیں کہ دونوں کہانیاں ایک ہی پادری کی ہیں یا یہ دو الگ الگ پادری تھے یا پھر یہ دونوں حقیقت میں تھے ہی نہیں اور یہ صرف قصے کہانیاں ہی ہیں۔
ایک اور ویب سائٹ اوٹاوا ایجوکیشن کے مطابق ایک کہانی میں اس وقت قدیم روم کا بادشاہ کلاؤڈیئس ٹو چاہتا تھا کہ اس کی فوج میں شامل جوان اپنی تمام تر توجہ ڈیوٹی پر دیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اس نے فوجیوں کو شادی کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اس زمانے میں ویلنٹائن نامی ایک کیتھولک پادری تھا اور وہ بادشاہ کے اس حکم کو ناقابل قبول اور بائبل کی تعلیمات کے منافی سمجھتا تھا لہذا وہ بادشاہ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجیوں کی شادیاں کراتا رہا۔
بادشاہ کو جب معلوم ہوا تو اس نے پادری ویلنٹائن کو اس گستاخی پر قید کردیا اور اسے چودہ فروری کو سزائے موت دے دی۔ ویلنٹائن اپنے عقائد اور مذہب پر ثابت قدم رہنے کے باعث اپنی موت کے بعد سینٹ قرار پایا۔
ایک اور کہانی ویلنٹائن اور جیلر کی بیٹی جولیا کی لو اسٹوری کے گرد گھومتی ہے۔ مظلوم عیسائیوں کی مدد کرنے پر گرفتار ویلنٹائن کو قید کے دوران جیلر کی بیٹی جولیا سے محبت ہوجاتی ہے۔ جیلر کی بیٹی بینائی سے محروم ہوتی ہے۔ ایک دن ویلنٹائن، جولیا کے ساتھ مل کر دعا کرتا ہے، اور خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ جولیا کی بینائی بحال ہو جاتی ہے۔
اپنی سزائے موت سے ایک روز پہلے وہ جولیا کے نام پیغام لکھتا ہے کہ ویلنٹائن کی جانب سے پیار اور نیچے اپنے دستخط کرتا ہے۔ اپنی موت کے بعد وہ عاشقوں کے پیر کی حیثیت سے مشہور ہوجاتا ہے۔ اور اسی لیے اسے سینٹ ویلنٹائن کہا جاتا ہے۔
رومیوں کی یہ داستان صدیوں سینہ بہ سینہ جاری رہی پھر بھی چودہویں صدی کے آخر تک تاریخ میں ویلنٹائن ڈے منانے کے کوئی شواہد نہیں ملتے۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پھر یہ ویلنٹائن ڈے آیا کہاں سے؟
دراصل چودہویں صدی عیسوی میں ایک انگریز شاعر جیفری چوسر نے ایک نظم لکھی، جس کا عنوان تھا پرندوں کی پارلیمنٹ۔
یہ نظم کون سے سن میں لکھی گئی اس پر تاریخ دانوں کا اختلاف ہے لیکن نظم لکھے جانے پر اتفاق ہے۔ بعض جگہ ہے کہ یہ 1375 عیسوی میں لکھی گئی اور بعض جگہ لکھا ہے کہ یہ 1382 عیسوی میں لکھی گئی۔
بہرحال چوسر نے نظم میں لکھا کہ اس دن پرندوں کا مجمع ہوتا ہے جہاں وہ اپنے ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں اور یہ چودہ فروری یعنی ویلنٹائن کے دن ہوتا ہے۔
تاریخ کے پنوں میں ملتا ہے کہ یہ نظم ویلنٹائن ڈے منانے کا آغاز ثابت ہوئی۔ اس نظم کے بعد امرا اور معززین میں چودہ فروری کو محبت کے پیغامات بھیجنے کا رواج عام ہونے لگا۔
کہا جاتا ہے کہ پہلا ویلنٹائن پیغام فرانس کے ڈیوک آف آرلینز، چارلس نے اپنی قید کے دوران لکھا تھا۔ انگلینڈ سے جنگ کے دوران وہ گرفتار ہوتے ہیں انہیں پچیس سال کے لیے قید کر دیا جاتا ہے۔ وہ شاعر بھی تھے اور جیل سے اپنی اہلیہ کو 1415 عیسوی میں پہلا ویلنٹائن پیغام لکھتے ہیں۔ اس میں وہ اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں میری نرم مزاج ویلنٹائن، میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ جب پچیس سال بعد چارلس قید سے آزاد ہو کر فرانس پہنچے تو ان کی اہلیہ اس دنیا میں نہیں رہی تھیں۔
مورخین اسے قدیم ترین ویلنٹائن پیغام گردانتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ جاری رہا اور لوگ اپنے محبوب کو اس دن کی مناسبت سے تحفے بھیجتے رہے۔
اٹھارہ سو ساٹھ کی دہائی میں کیڈبری چاکلیٹ کے مالک جون کیڈبری نے اس دن کی مناسبت سے دل کے ڈیزائن والے باکس میں چاکلیٹ فروخت کرنا شروع کردیں جو لوگوں کا پسندیدہ گفٹ آئٹم بن گیا۔
ویلنٹائن ڈے منانے کا جنون پھیلتے پھیلتے جب امریکا پہنچا تو وہاں کاروباری افراد نے اسے کاروبار سے محبت کا دن سمجھا اور اس دن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا سوچا۔ 1913 میں ہال برادرز نے پہلی بار کمرشل پیمانے پر ہال مارک ویلنٹائن کارڈ متعارف کرائے۔
بس پھر کیا تھا، رومانوی پیغامات اور پھولوں کے ساتھ ویلنٹائن کینڈی، خوبصورت ٹیڈی بیئرز، ڈائمنڈ جیولری، رومینٹک ڈنرز اور جانے کیا کیا مارکیٹ میں آنے لگا۔
سنہ دوہزار چوبیس میں امریکیوں نے ویلنٹائن ڈے کے تحفے خریدنے پر پاکستان کے مجموعی بجٹ کا ایک تہائی یعنی چھبیس ارب ڈالر خرچ کیا تھا۔ پاکستان کا دو ہزار چوبیس پچیس کا مجموعی سالانہ بجٹ لگ بھگ اڑسٹھ ارب ڈالر بنتا ہے۔
سوسائٹی آف امریکن فلورسٹ کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار چوبیس میں دو سو بیس ملین یا بائیس کروڑ گلاب خریدے گئے تھے، اس کے علاوہ پینتیس ملین یعنی ساڑھے تین کروڑ چاکلیٹ ڈبے خریدے گئے اور ایک ارب ویلنٹائن کارڈز بھیجے گئے۔
عجیب رسمیں
ویلنٹائن ڈے اب دنیا کے بیشتر ممالک میں منایا جاتا ہے۔ جاپان میں اس دن خواتین مردوں کو چاکلیٹس دیتی ہیں۔ اور ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی چودہ مارچ کو وہاں وائٹ ڈے منایا جاتا ہے جس میں مرد عورتوں کو سفید پیکنگ میں چاکلیٹس یا جیولری دیتے ہیں۔
اور جنوبی کوریا میں سنگل مرد اس سے اگلے ماہ یعنی چودہ اپریل کو بلیک ڈے مناتے ہیں، اور نووڈلز کھاتے ہیں۔
ڈنمارک میں مرد، عورتوں کو بے نام تحفے بھیجتے ہیں اور اگر جس نے تحفہ بھیجا ہے اس کا نام خاتون بوجھ لیتی ہے تو اسے بعد میں ایسٹر ایگ کا تحفہ دیا جاتا ہے۔
فلپائن میں ویلنٹائن کے دن سرکاری سرکاری سطح پر اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور نوجوان جوڑے اس تقریب میں شرکت کر کے شادی کرنا پسند کرتے ہیں۔
فن لینڈ اور ایسٹونیا میں ویلنٹائن ڈے دوستی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اور امریکی اس دن اپنے پالتوں جانوروں سے اظہار محبت کے طور پر انہیں مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے تحفے دیتے ہیں۔
جہاں ایک جانب پوری دنیا میں ویلنٹائن ڈے منایا جاتا وہیں پاکستان سمیت بعض ممالک میں ویلنٹائن ڈے منانے پر سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر پابندی ہے۔ ان میں سعودی عرب، ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا، برونائی دارالسلام، قطر، صومالیہ، موریطانیہ اور افغانستان شامل ہیں۔
ان ممالک میں ویلنٹائن ڈے کو مغربی دنیا کی تہذیب کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس دن کو منانے پر پابندی اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو ہزار سترہ میں ایک شہری کی درخواست پر لگائی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں عوامی مقامات اور سرکاری دفاتر میں ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کردی تھی۔
عدالت نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو بھی ویلنٹائن کی کوریج کرنے سے روک دیا تھا۔ عدالت نے پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی ہدایت کی تھی کہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینلوں کی نگرانی کرے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔
پاکستان میں ٹی وی چینلز نے بھی ویسے حد ہی کر دی تھی۔ ویلنٹائن ڈے پر طویل پروگرامز، نیوز پیکجز اور نشریات مسلسل چلتی رہتی تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ ملک میں ویلنٹائن کی تیاری کے سوا اب کوئی کام نہیں ہو رہا۔
دیگر ممالک میں ویلنٹائن ڈے
امریکیوں کے بارے میں تو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ وہ اس دن تحفے تحائف پر پچیس چھبیس ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ میں بھی لوگ ویلنٹائن ڈے خوب شوق سے مناتے ہیں اور تحفے تحائف پر ڈھائی ارب بھات خرچ کرتے ہیں۔
برطانیہ، اسپین، آئرلینڈ، ہانگ کانگ اور انڈیا میں بھی لوگ ویلنٹائن ڈے پر کافی خرچہ کرتے ہیں۔
ان ممالک کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن اب محبت سے زیادہ کاروباری دن بن چکا ہے۔
اس دن ویلنٹائن کی پراڈکٹس پر محبت کا رنگ چڑھا کر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔
اگر آپ اس بارے میں وڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی کلک کیجئے۔























