
جنوبی وزیرستان میں وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ڈبلیو سی سی آئی) کے صدر اور 2 کسٹم افسران کو اغوا کر لیا گیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ناصر خان نے بتایا کہ ڈبلیو سی سی آئی کے صدر سیف الرحمٰن، کسٹم سپرنٹنڈنٹ نثار عباسی اور انسپکٹر خوشحال افغانستان کے ساتھ انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پر کسٹم آفس سے واپس آرہے تھے کہ انہیں اغوا کر لیا گیا۔
اغوا کاروں نے ان کی گاڑی روکی اور انہیں زبردستی نامعلوم مقام پر لے گئے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے فوری تحقیقات شروع کردی ہیں تاہم ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔
خبر فائل ہونے تک تینوں افراد کے ٹھکانے کا پتہ نہیں چل سکا تھا، مقامی تاجر برادری نے اغوا پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وانا ٹریڈ یونین اور ڈبلیو سی سی آئی نے اغوا کی شدید مذمت کی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیاں تینوں افراد کی بازیابی کے لیے فوری کارروائی کریں۔
تاجروں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات نے کاروباری ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دھمکی دی کہ اگر حکومت امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں ناکام رہی تو وہ احتجاج میں سڑکوں پر نکلیں گے۔
مقامی لوگوں نے سیکیورٹی فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام اور تاجر برادری اور شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔
==================
جہلم کے علاقے بھرٹہ میں ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ کے نیتجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس نے بتایا کہ مقتولین میں ماں، بیٹا، بیٹی اور داماد شامل ہیں، جمیل گجر نے اپنے بھائی ظہیر گجر کے ساتھ مل کر فائرنگ کی، دونوں پارٹیوں میں چند روز قبل بھی جھگڑا ہوا تھا۔
ڈی پی او نے جائے وقوع کا دورہ کیا جبکہ کرائم سین یونٹ بھی موجود ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مار رہے ہیں۔
ادھر، آئی جی پنجاب عثمان انور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ ڈی پی او جہلم کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
عثمان انور نے ہدایت کی کہ ملزمان کی گرفتاری کیلیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔
آج چکوال میں تھانہ نیلہ کے گاؤں گگھ میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جہاں زمین ہتھیانے کی غرض سے بہن کو قتل کر دیا گیا۔
زمین ہتھیانے کی غرض سے عرصہ دراز سے حبس بے جا میں رکھے گئے لڑکی کی لاش برآمد ہوئی جبکہ بھائی کو بازیاب کروا لیا گیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال سے زرعی زمین ہتھیانے کی غرض سے ایک ویران گھر میں بند رکھے گئے بہن بھائی کو بازیاب کروانے کیلیے جب 12 فروری کی شام نیلہ پولیس نے چھاپہ مارا تو کمرے سے لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کی لاش 8 سے 10 دن پرانی تھی جبکہ ملحقہ کمرے سے اس کے بھائی کو بازیاب کر لیا گیا جو خوف کی وجہ سے ابھی تک کچھ بول نہیں رہا
======================
کراچی سے لاپتہ ہونے والے نوجوان کے حوالے سے بڑی پیشرفت
لاپتہ نوجوان
کراچی : ڈیفنس فیز 5 سے لاپتہ ہونے والے نوجوان اویس اکبر سے متعلق پولیس کو بڑی کامیابی مل گئی، مذکورہ نوجوان حیدرآباد سے بازیاب کرلیا گیا۔
اس حوالے سے ساؤتھ زون پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 سے لاپتہ ہونے والا نوجوان اویس اکبر حیدرآباد سے مل گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ نوجوان کے والد نےگزشتہ ہفتے 6 فروری کو درخشاں پولیس اسٹیشن میں بیٹے کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔
پولیس کو دیئے گئے والد کے بیان کے مطابق اویس اکبر ڈپریشن کا شکار اور یکم فروری سے لاپتہ تھا، ایف آئی آر کے اندراج کے بعد مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز کی جانچ پڑتال کی گئی، اسپتالوں، مزارات اور دیگر مقامات پر بھی تلاش کیا گیا۔
بعد ازاں پولیس کو حیدرآباد سے ایک اطلاع موصول ہوئی کہ مذکورہ نوجوان اویس اکبر کو وہاں دیکھا گیا ہے، جس کے بعد کراچی پولیس بھی حرکت میں آگئی۔
تھانہ درخشاں کی ایک ٹیم نے فوری طور پر حیدرآباد روانہ ہوکر نوجوان کو بازیاب کیا، نوجوان اویس اکبر کو کراچی لاکر اس کے اہلخانہ کے حوالے کردیا گیا، مزید تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں : لاپتہ ہونے والا 20 سالہ نوجوان تشدد کے بعد قتل
یاد رہے کہ کراچی میں 3 فروری کو لاپتہ ہونے والے 20 سالہ نوجوان کو تشدد کے بعد قتل کردیا گیا۔
کراچی پولیس کے مطابق 3 فروری کو لاپتہ ہونے والا 20 سالہ الیاس نوجوان دو روز قبل بے ہوشی حالت میں ملا تھا جس کے بعد دوران علاج دم توڑ دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دو روز قبل الیاس کلفٹن کے قریب بیہوشی کی حالت میں ملا تھا، گزشتہ روز 20 سالہ الیاس نے جناح اسپتال میں دوران علاج دم توڑا ہے۔























