
گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کی ڈیجیٹائزیشن سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے گا.
قومی شاہراہوں پر ہنگامی طبی امداد کے لیے ریسکیو 1122 کو مزید 45 ایمبولینسز فراہم کرنے کا اعلان
کراچی، 10 فروری ۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی قومی شاہراہوں پر ٹریفک مینجمنٹ اور بڑھتے ہوئے حادثات کے مسئلے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں آئی جی موٹروے پولیس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز، ڈی جی ریسکیو 1122، اور تمام ڈویژنل کمشنرز نے شرکت کی، جہاں سندھ میں روڈ سیفٹی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کو مزید موثر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران ریسکیو 1122 کے حکام نے آگاہ کیا کہ سال 2024 میں سندھ کی قومی شاہراہوں پر 14,426 ٹریفک حادثات پیش آئے، جس سے قومی شاہراہوں پر سخت ٹریفک قوانین اور ایمرجنسی سروسز کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے نمائندوں نے اجلاس میں بتایا کہ سندھ میں 821 کلومیٹر شاہراہیں این ایچ اے کے زیر انتظام ہیں، جن کی بہتر نگرانی اور مرمت کے لیے مزید اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں جامشورو تاں سیہون روڈ کی نامکمل تعمیر کا بھی جائزہ لیا گیا، جو کہ حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس موقع پر این ایچ اے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ اس سڑک کے بقایا 24 کلومیٹر کے تعمیراتی کام کو مارچ 2025 تک مکمل کر لیا جائے گا تاکہ مسافروں کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔موٹروے پولیس کی کم نفری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ موٹروے پولیس کی کمی کے باعث ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا، جس کے نتیجے میں حادثات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس موقع پر آئی جی موٹروے پولیس رفعت مختار نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر سندھ میں موٹروے پولیس کی نفری میں اضافہ کریں گے تاکہ شاہراہوں پر ٹریفک کی نگرانی بہتر بنائی جا سکے اور حادثات کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکے۔چیف سیکریٹری سندھ نے مزید ہدایت دی کہ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کو آئندہ تین ماہ کے اندر ڈیجیٹلائز کیا جائے تاکہ نظام کو شفاف بنایا جا سکے اور ایجنٹ مافیا کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر فٹ گاڑیاں حادثات کی بڑی وجہ ہیں، اور ان کی سخت نگرانی ضروری ہے۔ این ایچ اے کو صوبے میں سڑکوں کے معیار کو بہتر بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری مرمت کی جائے تاکہ شہریوں کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، تمام ٹول پلازوں پر ریسکیو 1122 ایمبولینس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حادثے کی صورت میں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔مزید 45 ایمبولینسز ایک ماہ کے اندر ریسکیو 1122 کو فراہم کی جائیں گی تاکہ قومی شاہراہوں پر ایمرجنسی سروس کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور متاثرین کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ سندھ حکومت قومی شاہراہوں پر ٹریفک کے بہتر انتظام، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ایمرجنسی سروسز کی توسیع کے لیے پرعزم ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون کے ساتھ ان ہدایات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے میں ایک محفوظ اور جدید سفری نظام کو فروغ دیا جا سکے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 177۔۔۔ایف آئی جے

: حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے 773ویں عرس کے موقع پر 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے 773ویں عرس کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے چیف سیکریٹری سندھ اور صوبائی وزیر اوقاف کی زیر صدارت اجلاس
کراچی 10 فروری ۔سندھ حکومت نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے773ویں سالانہ عرس مبارک کے موقع پر سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دے دئے ہیں، یہ روحانی اور مذہبی اجتماع 17 سے 19 فروری تک سیہون شریف میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے 25 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد متوقع ہے۔ اس حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور صوبائی وزیر اوقاف ریاض حسین شاہ شیرازی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں عرس کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے سیکیورٹی، طبی سہولیات، ٹریفک مینجمنٹ، اور عوامی خدمات کے حوالے سے اپنی بریفنگ پیش کی۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے ہدایت دی کہ زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور عرس مبارک کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ 2017 میں درگاہ پر ہونے والے افسوسناک خودکش حملے کے پیش نظر، سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس اور رینجرز نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر جامع سیکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے، جس کے تحت 5000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، بم ڈسپوزل اسکواڈ، اور ریپڈ ریسپانس فورس کی خصوصی ٹیمیں بھی فرائض انجام دیں گی۔ درگاہ کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کیے جائیں گے، جبکہ بائیو میٹرک ویری فکیشن اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ زائرین کی سہولت کے لیے، انڈس ہائی وے پر ہر 30 کلومیٹر پر میڈیکل کیمپ قائم کیے جائیں گے ، جہاں ایمبولینسز اور ماہر طبی عملہ ہمہ وقت موجود ہوگا۔ انہونے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ اضافی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف تعینات کیا جائے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ زائرین کے لیے پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء اور آرام گاہوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت بھاری گاڑیوں کے سیہون میں داخلے پر پابندی ہوگی۔ زائرین کی سہولت کے لیے لال باغ اور آرل واہ میں مخصوص پارکنگ ایریاز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ عوامی نقل و حمل کے لیے متعین مقامات پر بسوں اور دیگر سواریوں کو روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ہائی وے پر ٹریفک پولیس تعینات کی جائے گی تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کیا جا سکے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو خصوصی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز کی سخت جانچ پڑتال کی جائے تاکہ زائرین کو معیاری اور صاف ستھرا کھانا فراہم کیا جا سکے اور کسی بھی غیر معیاری خوراک کی فروخت پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ مضر صحت کھانے کی اشیاء ضبط کر لی جائیں گی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے واضح ہدایت دی ہے کہ فوڈ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری جرمانے اور ہوٹلوں کی بندش جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ عرس کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، حیسکو کو پابند کیا گیا ہے کہ سیہون اور اس کے گرد و نواح میں لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ علاوہ ازیں، سیہون جانے والی اہم شاہراہوں کی مرمت کے کام کو بھی تیز کر دیا گیا ہے تاکہ زائرین کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اوقاف، مذہبی امور، زکوۃ اور عشر ریاض حسین شاہ شیرازی نے عرس کے دوران درگاہ کے اردگرد بھکاریوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ درگاہ کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ زائرین کے لیے زیادہ جگہ مہیا کی جا سکے۔ درگاہ پر جاری ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ زائرین کو ایک بہتر اور روحانی ماحول میسر آسکے۔ سندھ حکومت نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کو ہر ممکن طور پر محفوظ، منظم اور سہولت بخش بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے زائرین سے گزارش کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور اس کے کئے کمپلینٹ مینجمنٹ سیل بھی قائم کیا جائے گا، دی گئی ہدایات پر عمل کریں، اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ یہ عرس سندھ کی صوفی روایت اور روحانی ورثے کا اہم حصہ ہے اور حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ زائرین کو ایک پرامن اور بامقصد روحانی تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
کراچی
مور خہ10فروری 2025
کراچی 10 فروری ۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کے الزامات احتساب سے بچنے اور سیاسی عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے ان کی جاری مہم کا حصہ ہیں، تمام آئینی ترامیم جمہوری عمل سے گزرتی ہیں، ججوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے الزامات گمراہ کن ہیں، بانی پی ٹی آئی خود 2018 میں الیکٹورل انجینئرنگ کے الزامات کے درمیان برسراقتدار آئے۔ آرمی چیف کے نام بانی پی ٹی آئی کے کھلے خط پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں ثاقب نثار کو استعمال کیا، افسوس کی بات ہے کہ سابق چیف جسٹس سابق نثار نے بانی پی ٹی آئی کے لئے ایک کارکن کے طور پر کام کیا، عمران خان ثاقب نثار کے گٹھ جوڑ کو عوام آج تک نہیں بھولی، ثاقب نثار نے جس طرح پانی پی ٹی آئی کے لئے بطور کارکن کام کیا، اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حمایت کھونے کے بعد بانی پی ٹی آئی جمہوری عمل کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اپنے دور حکومت کے دوران بانی پی ٹی آئی نے عدلیہ پر بے جا اثر ڈالنے کی کوشش کی، ان کی موجودہ شکایات منافقانہ ہیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ذاتی سیاسی فائدے کے لیے ریاستی اداروں کو بدنام کرنا غیر ذمہ دارانہ اور قومی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے، بانی پی ٹی آئی جمہوری اداروں کا احترام کریں اور جھوٹے بیانیے کو پھیلانے سے گریز کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ذاتی رنجشوں کی وجہ سے تفرقہ انگیز بیان بازی کی نہیں بلکہ سیاسی پختگی اور استحکام کی ضرورت ہے ۔
ہینڈآؤٹ نمبر 173۔۔۔
ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ10فروری 2025
سندھ حکومت نے سندھ پنک گیمز کا 2025ءکا کراچی سمیت صوبہ کے 30 اضلاع میں شاندار آغاز، افتتاح وزیر کھیل سردار محمد بخش نے کردیا
کراچی 10 فروری ۔سندھ حکومت کے محکمہ یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس کے زیر اہتمام پہلی سندھ پنگ گیمز 2025ء Weekشروع ہوگئی، جس کی رنگارنگ افتتاحی تقریب صدیق میمن اسپورٹس۔ اسکاؤٹ ہال کامپلیکس گلشن اقبال کراچی منعقد ہوئی.مہمان خصوصی وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر نے پہلی سندھ پنک گیمز 2025ء کا افتتاح کیا،افتتاحی تقریب میں سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز عبدالعلیم لاشاری، ڈائریکٹر اسپورٹس سندھ امداد علی ابڑو،ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسر اسماعیل شاہ، فرید احمد، حاجران نواب اور دیگر موجود تھے، 500 سو سے زائد خواتین کھلاڑیوں نے مارچ پاسٹ کرتے ہوئے مہمان خصوصی وزیر کھیل سندھ سردار محمد بخش مہر کو سلامی پیش کی.مہمان خصوصی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کھیلوں میں خواتین کا ٹیلنٹ سامنے لانے کیلئے کراچی سمیت صوبہ کے تمام اضلاع میں سندھ پنک گیمز week شروع کی ہیں،جو کہ 15 فروری تک جاری رہیں گی، یہ لڑکیوں کے لئے ٹیلنٹ کے اظہار کا بہترین موقع ہے، سندھ حکومت نے سندھ پنک گیمز خواتین کے کھیلوں کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم اقدام ہے، ان گیمز کے ذریعے خواتین کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے اور قومی سطح پر اپنی پہچان بنانے کا موقع ملے گا، سندھ پنک گیمز میں صوبہ بھر میں 6 ہزار سے زائد خواتین کھلاڑی حصہ لے رہی ہیں، سندھ کی خواتین کھلاڑی مختلف کھیلوں میں پروفیشنل کھلاڑی بن سکتی ہیں، جبکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی بھی کر سکتی ہیں. سردار محمد بخش مہر کا اسپیشل بچوں کے لئے کھیلوں سے متلعق مزیدکہنا تھا کہ ملک میں پہلی بار سندھ اسپیشل چلڈرن یوتھ کلب بنانے جارہے ہیں،سندھ کے مختلف علاقوں میں قائم کھیلوں کے میدانوں سے قبضے ختم کرانے اور ان کی بہتری کے لئے کام کیا جارہا ہے، سندھ پنک گیمز سے کھیلوں کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا،جبکہ سندھ پنک گیمز کراچی کے کورنگی،ملیر، جنوبی، سینٹرل، ایسٹ سمیت لاڑکانہ، سکھر، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد ڈویژنوں کے تمام اضلاع میں آغاز کردیا گیا ہے، جس میں ایتھیلیٹکس، ٹیبل ٹینس، بیڈ منٹن، فٹبال، کرکٹ، ہاکی، مارشل آرٹ، ونجھ وٹی، رنگ بال، والی بال، باکسنگ، تھرو بال اور کھو کھو گیمز شامل ہیں.
ہینڈآؤٹ نمبر 174۔۔۔آئی ایس
ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401
کراچی
مور خہ10فروری 2025
ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ محمد سلیم خان ریٹائر ہوگئے
کراچی 10 فروری ۔ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ،محکمہ اطلاعات،حکومت سندھ محمد سلیم خان 35 سال 6 ماہ اور 19 دن کی سرکاری ملازمت کے بعد آج ریٹائر ہوگئے،محمد سلیم خان نے جولائی 1989 میں بطور انفارمیشن افسر محکمہ اطلاعات میں ملازمت شروع کی،اپنے طویل کیرئیر کے دوران انہوں نے ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ سندھ،6 گورنرز کے پریس سیکریٹری ،افسر تعلقات عامہ گورنر سندھ،افسر تعلقات عامہ وزیر اعلی سندھ،ڈائریکٹر پریس انفارمیشن،ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ اکاونٹس،متعدد وزراء اور مشیروں کے افسر تعلقات عامہ کے طور پر فرائض انجام دئیے،دریں اثناء محمد سلیم خان نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ذاتی طور پر، واٹس ایپ اور بذریعہ ٹیلی فون مستقبل کے لئے نیک خواہشات کے اظہار پر دوست احباب،بہی خواہوں،اور محکمہ کے افسران و اسٹاف کا شکریہ ادا کیا ۔
https://www.youtube.com/@jeeveypak/videos























