خیبر: انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید، پولیو مہم روک دی گئی

ضلع خیبر میں دہشتگردوں نے انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے والی ٹیم پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار عبدالخالق شہید ہو گئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال کے مطابق آج سے ضلع بھر میں 7 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ڈی پی او کے مطابق تھانہ حدود جمرود کے علاقے بکر آباد میں گھات لگائے دہشتگردوں نے انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے والے ٹیم پر غوندی کے قریب اچانک فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں پولیو ٹیم کو سیکورٹی فراہم کرنے والے پولیس اہلکار عبدالخالق موقع پر شہید ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے باعث انسداد پولیو ٹیم میں حصہ لینے والا دیگر عملہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا جبکہ موٹر سائیکل سوار حملہ آور فرار ہو گئے، جائے وقوعہ سے 30 بور کے دو خول ملے ہیں۔

ڈی پی او کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی اور دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں کر دیں۔

محکمہ صحت کام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے بکر آباد سے انسداد پولیو ٹیم کو واپس بلاکر انسداد پولیو مہم کو مؤخر کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر کی طرح ضلع خیبر میں بھی آج سے 7 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں پولیو کے 945 ٹیمیں حصہ لے رہی ہے جو کہ 2 لاکھ 8 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
https://urdu.geo.tv/latest/394810-
====================================

خبرنامہ نمبر 801/2025
چمن 3فروری: ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ساتھ روزہ انسداد پولیو مہم کے پہلے روز پولیو افسران کے ساتھ ایوننگ ریویو اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اس دوران پولیو افسران نے انسداد پولیو مہم کے پہلے روز کے حوالے سے ڈی سی چمن کو تفصیلی معلومات فراہم کیے اجلاس میں ضلع چمن کے تقریباً تمام پولیو ٹیموں کے متعلقہ افسران و نمائندوں اور انتظامیہ کے افسران شریک تھے۔ڈی سی چمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے

کہا کہ 5 سال تک کے تمام بچوں کو پولیو ویکسین ہر حال میں پلائی جائیں انہوں نے کہا کہ حالیہ ساتھ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران چمن کے تمام علاقوں میں چپے چپے تک پولیو ویکسین پانچ سال کی بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے ضرور پلائی جائیں اور اس حوالے سے غفلت لاپرواہی اور سستی کا مظاہرہ کرنے والوں افسران اور اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ ہم اپنے آئندہ نسل کو لاچارگی کسمپرسی اور معذوری کا شکار ہوتے

ہوئے نہیں دیکھ سکتے انہوں نے کہا کہ ساتھ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران تمام مکتبہ فکر، علماء کرام اور اساتذہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور پانچ سال تک کی بچوں کو پولیو ویکسین پلائیں۔

خبرنامہ نمبر 802/2025
چمن 3فروری:ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت انکی آفس میں اے ڈی سی چمن فدا بلوچ، ڈی ایچ او، ایم ایس چمن ہسپتال، میڈیکل اسپیشلسٹ اور نادرا ٹیکنیکل ممبر کے کمیٹی میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے ٹیسٹ پاس کرنے والے سٹوڈنٹس سے انٹرویو لیا گیا اور انکی اسناد اور دیگر تمام ضروری کاغذات چیک کی گئیں اجلاس میں تمام ٹیسٹ پاس کرنے والے سٹوڈنٹس کی تمام کاغذات اور دیگر ضروری کوائف کا ایک ایک کرکے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈی سی چمن نے کہا کہ رپورٹ کی مکمل تیاری کے بعد کمیٹی متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ ارسال کری گی۔

خبرنامہ نمبر 803/2025
چمن 3فروری:ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ساتھ روزہ انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بچے کو پولیو قطرے کے پلانے سے کیا۔اس دوران ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید خان اچکزئی، ڈاکثر اسدصافی، ڈاکٹر محمد اختر اور کمیونیکشن آفیسر اشرف خان بھی موجود تھے۔ڈی سی چمن نے ساتھ روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلاکر کیا۔اس موقع پر ڈی سی چمن نے پولیو ٹیموں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ چمن سے پولیو کا مکمل خاتمہ تب ممکن ہے جب پولیو ٹیموں کے تمام سٹاف مہم کے دوران پانچ سال تک کی بچوں کو ہر حال میں پولیو کے قطرے پلائیں انہوں نے کہا کہ اس حوالیسے اگر پولیو ٹیموں کی کسی ممبر نے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا تو اس کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ڈی سی چمن نے قبائلی عمائدین علماء کرام مشران پڑھے لکھے اور تمام ذیشعور لوگوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور پولیو وائرس کی خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں مزید برآں ایڈی سی چمن فدا بلوچ اور اے سی چمن امتیاز علی بلوچ نے انسداد پولیو مہم کے دوران مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں کی سیکورٹی اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا اس دوران اے ڈی سی چمن اور اے سی چمن نے مختلف علاقوں میں علیحدہ علیحدہ بچوں کے فنگر پرنٹس چیک کیں اور گھروں پر پولیو مارکنگ کو بھی دیکھ لیا انہوں نے وہاں پر موجود لوگوں کو پولیو ویکسین کی افادیت اور فائدوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں انہوں نے لیویز افسران و اہلکاروں کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پولیو ٹیموں کے ساتھ آخر وقت تک موجود رہیں اور انھیں اکیلا نہ چھوڑا جائے اور ڈیوٹی کے دوران الرٹ اور چوکنا رہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں مروت قومی جرگہ نے اداروں کی غیرسنجیدگی کے باعث ضلع بھر میں پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

جرگہ کا کہنا ہے کہ 9 جنوری سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 10 ملازمین یرغمال ہیں، لیکن 26 دن گزرنے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں خاموش ہیں۔

حکام کے مطابق پولیو مہم کے بائیکاٹ کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد بچوں کے ویکسین سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔

مروت قومی جرگہ کے مطابق، آج کے بائیکاٹ کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف کمیٹیاں فعال کر دی گئی ہیں تاکہ مہم مکمل طور پر روکی جا سکے۔

Lakki Marwat

polio campaign

Polio Campaign Boycott

KPK Polio

کوئٹہ: بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکارکرنے والے 5 والدین کو گرفتار کرلیا گیا، اےسی نے پولیو ٹیم کے ہمراہ دورہ بھی کیا۔

تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے ڈراپس پلانے سے انکار کرنے والے متعدد والدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سندھ میں پولیو ویکسین پلوانے سے انکار کے 98 فی صد کیسز کراچی سے کیوں؟
انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں اےسی ماریہ شمعون نے 2 دن پہلے پولیو ٹیم کے ہمراہ سریاب کےعلاقوں کا دورہ بھی کیا۔

ضلعی انتطامیہ نے بتایا کہ انکاری والدین سے بات کرکے 15 بچوں کو پولیو کی ویکسین پلائی گئی، متعدد بار سمجھانے کے باوجود بھی انکار پر 5 والدین کو گرفتار کرلیا ہے۔

=========================

وزیراعظم نے رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا
February 2, 2025

وزیراعظم شہبازشریف نے بچوں کو قطرے پلا کر رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مہم میں کروڑوں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے ،پچھلے سال پاکستان میں پولیو کے 77کیسز سامنے آئے،رواں سال ایک کیس سامنے آ چکا ہے۔

محکمہ ریلویز کو پچھلے مالی سال 88 ارب روپے کی آمدن

ہمیں ہر قیمت پر پاکستان سے پولیو کا خاتمہ کرنا ہے ،افغانستان میں بھی باہمی سپورٹ سے پولیو کا خاتمہ ہو گا،انسداد پولیوکیلئے تعاون پر ڈبلیو ایچ او اور یونیسف سمیت تمام شراکت داروں کے مشکور ہیں۔

مشترکہ کوششوں کی بدولت ہی پولیو کا خاتمہ ممکن ہے،انسداد پولیو کیلئے بل گیٹس فاونڈیشن اور سعودی عرب کی حمایت پر شکرگزار ہیں،انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا کر اس مرض سے محفوظ رکھیں۔

قبل ازیں وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیوعائشہ رضا فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی نگرانی میں پولیو کے خاتمے کیلئے کام کر رہےہیں۔

سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ:بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے کمی متوقع

انسداد پولیو کیلئے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہےہیں ،بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت پرعزم ہے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرمختار بھرتھ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ سال مختلف حصوں سے پولیو کے کیسز سامنے آئے ،رواں سال پولیو کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔

چیمپئنز ٹرافی 2025 کے فزیکل ٹکٹس کی فروخت کا کل سے آغاز

پولیو کیسز میں کمی حکومت کے پولیو فری پاکستان کے عزم کا عکاس ہے ،حکومت ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔
===============

ین ای او سی نے کہا کہ متاثرہ بچے میں21دسمبرکوپولیو کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ سال 2024میں کراچی ایسٹ سے2 پولیو کیس رپورٹ اور سندھ بھر سے 20 پولیو کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔

این ای او سی کے مطابق سال 2024 میں بلوچستان 27، کے پی 21 پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

خیال رہے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیو کیخلاف جنگ میں افغانستان پاکستان سے آگے نکل گیا، جہاں کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں صرف افغانستان اور پاکستان میں پولیو کیسز سامنے آرہے ہیں، گزشتہ سال افغانستان میں صرف 25 اور پاکستان میں 68 کیسز رپورٹ ہوئے۔

پاکستان میں کیسز کے تشویشناک حد تک اضافے پر وزیراعظم شہبازشریف نے نوٹس لیا ہے، اور پولیو کے خاتمے کیلئے نئی ٹیم تشکیل دی ہے، تاکہ پولیو وائرس کی روک تھام کی جاسکے۔
===================

پاکستان میں گزشتہ 10 برسوں میں کتنے پولیو کیس رپورٹ ہوئے؟
پاکستان میں پہلی بار 21 فٹ لمبے ’مگرمچھوں‘ کی فارمنگ کا آغاز، ویڈیو دیکھیں

دولہے کی انوکھی حرکت پر دلہن والوں نے شادی منسوخ کر دی

غباروں کے درمیان ہزاروں فٹ بلندی پر چہل قدمی کا عالمی ریکارڈ، سسنی خیز ویڈیو

مرغا اور مرغی کی انوکھی شاہانہ شادی، دولہا دلہن کو پارلر سے تیار کرایا!
پولیو کیس
اسلام آباد: وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک میں 411 پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں چلائی گئی انسدادِ پولیو مہمات کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دس برسوں کے دوران نصف پولیو کیس خیبرپختونخوا سے سامنے آئے ہیں، کے پی سے 207، سندھ سے 92 پولیو کیس، بلوچستان سے 80، پنجاب سے 30، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا، جب کہ آزاد کشمیر سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

دس برسوں میں 50.4 فی صد پولیو کیس کے پی، 22.1 سندھ سے رپورٹ ہوئے، 19.7 فی صد پولیو کیس بلوچستان، 4۔7 فی صد پنجاب، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے 0.2 فی صد پولیو کیس رپورٹ ہوئے، دس برسوں میں اسلام آباد سے واحد پولیو کیس رواں برس سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 2015 میں 54، 2016 میں 20 پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے، 2017 میں 8، 2018 میں 12، 2019 میں 147، 2020 میں 84 پولیو کیس، 2021 میں ایک، 2022 کے دوران 20، اور 2023 کے دوران 6، جب کہ رواں سال 59 پولیو کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔

1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 400,000 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کے ان اقدامات میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو معلومات کے حصول اور تجزیے کا معیاری نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان سے تاحال اس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔
========================

ملک کے مزید 26 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق
ماحولیاتی نمونے 6 سے 15 جنوری کے دوران حاصل کیے گئے
ملک کے مزید 26 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق
pakistan polio 2024
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملک بھر کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

قومی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے اور یہ نمونے 6 جنوری سے 15 جنوری کے دوران حاصل کیے گئے تھے۔

کراچی کے مختلف اضلاع بشمول سینٹرل، ایسٹ، کورنگی، ملیر، ساؤتھ، ویسٹ اور کیماڑی میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع بدین، گھوٹکی، حیدرآباد، جیکب آباد، قمبر، میرپورخاص، سجاول اور سکھر کے سیوریج میں بھی وائرس پایا گیا۔

خیبرپختونخوا میں ایبٹ آباد، باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور پشاور کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

بلوچستان کے اضلاع چمن، لورالائی اور کوئٹہ جبکہ پنجاب کے اضلاع لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں بھی پولیو ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

Polio
Health