قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز تین فروری سے ہوگا ، 7 فروری تک جاری رہے گی

ننکانہ صاحب:یکم فروری 2025

ننکانہ صاحب میں قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز تین فروری سے ہوگا ، 7 فروری تک جاری رہے گی

مہم کے دوران ضلع میں 02 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسیئن کے قطرے پلانے کا ہدف

انسداد پولیو مہم اور ڈینگی کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو کی زیر صدارت اجلاس

ڈپٹی کمشنر کی محکمہ صحت و دیگر اداروں کو انسدادپولیو مہم موثر اور کامیاب بنانے کی ہدایت

ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی تک خطرہ برقرار ہے۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز انسداد پولیو مہم کی خودنگرانی کریں۔ڈی سی ننکانہ

پولیو کےخاتمے کی کوششوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے۔ڈی سی ننکانہ

ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے مائیکرو پلانز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ڈی سی محمد تسلیم اختر راو

ٹرانزٹ پوائنٹس پر ویکسیئن کے قطرے پلانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں، اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت

سی او ہیلتھ نے پولیو مہم کی تیاریوں بارے اجلاس کو بریفنگ دی

پولیو ٹیموں کی ٹریننگ کے عمل کو مکمل کر لیا گیا ہے۔بریفنگ

انسداد پولیو مہم کیلئے 30 ٹرانزٹ، 72 فکسڈ، 1096 ہزار موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں. بریفنگ

مجموعی طور پر 1198 ٹیمیں 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا قومی فریضہ سرانجام دیں گی

ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے لیے ہاٹ سپاٹ مقامات کی چیکنگ یقینی بنائی جائے۔ڈی سی ننکانہ

ڈینگی ٹیمیں ان ڈور ، آوٹ ڈور مقامات کی چیکنگ کرکے مطلوبہ اہداف حاصل کریں۔ڈپٹی کمشنر ننکانہ

مچھر کی افزائش کا باعث بننے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔محمد تسلیم اختر راو

متعلقہ محکموں کے حکام ، پولیو کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی

=======================

حکومت سندھ، محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے سماجی انصاف کے دن کے موقع پر آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا

کراچی یکم فروری ۔حکومت سندھ ، محکمہ انسانی حقوق کے زیر اہتمام سماجی انصاف کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق سے متعلق آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی قیادت وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق وزیر راجویر سنگھ سودھا نے کی۔ڈبلیو ایچ او نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ مہم ایک ایونٹ سے آگے بڑھے گی اور اسی طرح کے اقدامات پورے سندھ میں کیے جائیں گے۔انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر آگاہی سیشن منعقد کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کمیونٹیز کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔محکمہ انسانی حقوق کی سیکریٹری محترمہ تحسین فاطمہ نے کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کے لئے افراد کی حوصلہ افزائی کی اور محکمہ کی طرف سے صوبے میں تمام شہریوں کو مفت قانونی امداد کی خدمات کی فراہمی کے ذریعے مکمل حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔واک میں ڈپٹی کمشنر ملیر، ونگ کمانڈر سلیم اللہ انار،جناب افضل بھٹی، ایس ایس پی (جینڈر، کرائم اینڈ ہیومن رائٹس سیل)، محترمہ شہلا قریشی، چیئرپرسن سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، جناب اقبال دیتھو،ایس ایچ او کلیم، ڈی ایس نذیر خاصخیلی، کمیونیکیشن اسپیشلسٹ ٹی آئی سی، محترمہ کرن زبیر اور لاجوانتی، ایس او ڈییو، جناب اسیک ابڑو، ایس او جی اے، جناب سعید سومرو، ریسرچ اسسٹنٹ، محترمہ نازیہ ناز، نمائندہ 1122 محکمہ صحت، ڈی ای او، ٹی ای،علامہ اقبال کالج ضلع ملیر کے اساتذہ، سرکاری سکولوں اور کالجوں کے طلباء، سول سوسائٹی کے ممبران اور یونیورسٹی کے طلباء نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔”حق کی آواز سب کے ساتھ” کے نعرے کے ساتھ، واک میں سب کے لئے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لئے ریاست کی ذمہ داری پر زور دیا گیا۔یہ نہ صرف آگاہی کی ایک کوشش تھی بلکہ لوگوں کو اپنے حقوق کی وکالت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی تھا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمیشن آفس کے سینئر افسران نے کہاکہ محکمہ پولیس اور ہیومن رائٹس ڈپارٹمنٹ نے انسانی حقوق کی پاسداری اور خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے اقدامات پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں پرجوش شرکت دیکھنے میں آئی اور طلباء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے تاکہ سماجی انصاف کا پیغام پھیلایا جا سکے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور اسے انسانی حقوق کی آگاہی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔مختلف تقاریر اور مظاہروں نے اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہونے اور سب کے لئے انصاف کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر راجویر سنگھ سودھا نے یقین دلایا کہ حکومت سندھ صوبے میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انصاف کو یقینی بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام کرکے اس مہم کو جاری رکھنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔مزید برآں، اس اقدام کو دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا تاکہ وسیع پیمانے پر رسائی اور آگاہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہینڈآؤٹ نمبر139۔۔۔

مور خہ یکم فروری 2025

کراچی یکم فروری ۔ سندھ حکومت محکمہ کھیل کی جانب سے تین روزہ یوتھ کانفرنس کے دوسرے روزمعروف گلوکارشہزاد رائے کااظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری خواہش ہےکہ یہ سندھ حکومت کا یوتھ کمپلیکس ایک کمیونٹی سینٹر بن جائے،کوشش کریں کہ اپنی زندگی میں سوال ضرور کریں چیلنج ضرور قبول کریں، اپنے بزرگوں اور استادوں سے اس وقت تک پوچھیں جب تک بات سمجھ نہ آئے، سندھ حکومت نے یوتھ کانفرنس کا انعقاد کرکے نوجوانوں کی اچھی حوصلہ افزائی کی ہے. یوتھ کانفرنس سے معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اظہارخیال کرتے ہوئے نوجوانوں کو پاکستانی ڈرامہ نہ دیکھنے کا مشورہ دے دیا. انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کا مقصد صرف شادی ہے اور کچھ نہیں، ایسا نہیں ہے لڑکیاں بہت کچھ کر سکتی ہیں، جو میڈیا پر بتایا جاتا ہے اس سے ذہن کو مفلوج کیا جاتا ہے.ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ جو ہمیں ملک ملا تھا وہ ہم آپ کو نہیں دے رہے،جو معاشرہ ہمیں ملا تھا وہ آپ کو نہیں دے رہے جس کے لئے معذرت کررہے ہیں، معیشت بہت اچھی چل رہی تھی جو اب نہیں ہے، ہم نے جو کیا وہ آپ نے نہیں کرنا، ہمارے ملک کے نوجوانوں نے سچ کا ساتھ نہیں دیا. اس موقع پر سیکریٹری کھیل امور نوجوانان عبدالعلیم لاشاری، ڈائریکٹر امداد علی ابڑو اور دیگر موجود تھے. اس کے علاوہ اتوار کی صبح نوجوانوں کو کراچی کی قدیمی جگہوں کا دورہ کرایا جائے گا اور شام کو فیرئیر ہال میں اختتامی تقریب رکھی گئی ہے.

ہینڈآؤٹ نمبر138۔۔۔آئی ایس

مور خہ یکم فروری 2025

صدر مملکت آصف علی زرداری کا سابق وزیر عبداللہ بلوچ سے ان کے صاحبزادے کے انتقال پر اظہار تعزیت

کراچی یکم فروری ۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق وزیر عبداللہ بلوچ سے ان کے صاحبزادے کے انتقال تعزیت کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے ٹیلی فون کرکے ٹریفک حادثے میں ابراہیم بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔صدر مملکت نے رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ اور ترجمان حکومت سندھ مصطفی عبداللہ بلوچ سے بھی ان کے چھوٹے بھائی کی وفات پر تعزیت کی۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ایم این اے شازیہ مری، پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی،ایم این اے نذیر بھوگیو، ایم این اے صادق میمن،ایم این اے رمیش لال، ایم این اے شگفتہ جمانی، ایم این اے رمیش کمار، ایم این اے خیل داس کوہستانک، ایم این اے حفیظ الدین، ایم این اے حکیم بلوچ،ایم این اے شرمیلا فاروقی، ایم این اے شاہدہ رحمانی، ایم این اے نفیسہ شاہ، ایم این اے خورشید جونیجو، ایم این اے غلام علی تالپور،ایم این اے ذوالفقار بچانی، ایم این اے آغا رفیع اللہ، ایم این اے حکیم بلوچ، سابق وزیر لال بخش بھٹو، ایم این اے رسول بخش چانڈیو، قادر پٹیل، میر غلام علی تالپور، ایم پی اے سعید غنی ،ایم پی اے سلیم بلوچ، ایم پی اے راجہ رزاق، ایم پی اے عذرا پیچوہو، ایم پی اے سعدیہ جاوید، سابق وزیر منظور وسان، ایم پی اے ہالار وسان،سندھ حکومت کے ترجمان نادر گبول، سمیتا افضل، وحید ہالیپوٹو، سکھدیو ہیمنانی،میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی میئر سلمان مراد، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی غلام مصطفی ٰ شاہ نے سابق وزیر عبداللہ بلوچ سے ان کے بیٹے اور ایم این اے ناز بلوچ اور ترجمان سندھ حکومت مصطفیٰ عبداللہ بلوچ سے ان کے چھوٹے بھائی ابراہیم بلوچ کی ناگہانی اور افسوسناک موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔۔

ہینڈآؤٹ نمبر 133۔۔۔

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ یکم فروری 2025

صوبائی وزیر سعید غنی کا ٹرانسفارمیشن چائلڈ ری ہیبلیٹیشن کا دورہ

کراچی یکم فروری ۔صوبائی وزیر برائے بلدیات سعید غنی نے ٹرانسفارمیشن چائلڈ ری ہبلیٹیشن سینٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں پر توجہ دینا ہم سب کی بنیادی ذمےداری ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر معاشرے میں ان کو ان کا جائز مقام اور حقوق دلائیں۔ اس موقع پر انہوں نے ٹرانسفارمیشن کے بانی ڈاکٹر عمران یوسف اور انکی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس لگن و محبت سے کام کررہے ہیں۔ وہ قابل تعریف ہے اور اللہ تعالیٰ آپکو اسکا اجر بھی دیگا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عمران یوسف نے صوبائی وزیر سعید غنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد ان کے اور ان کی ٹیم کے لئے عزت کا باعث ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے بچوں کو تحائف بھی تقسیم کیے جبکہ صوبائی وزیر برائے بلدیات سعید غنی کو ادارے کی جانب سے شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 134۔۔۔

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ یکم فروری 2025

ترجمان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا وضاحتی بیان

کراچی یکم فروری ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ترجمان نے بعض عناصر کی جانب سے جمشید ٹاؤن کے پلاٹ نمبر 878/JM1، ضلع شرقی پر ہونے والی انہدامی کارروائی سے متعلق پھیلائی جانے والی من گھڑت اطلاعات کو مسترد کردیا ہے۔ ترجمان کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر چوتھی منزل کی خلافِ ضابطہ تعمیرات کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا ہے اور کارروائی مکمل قانونی طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی گئی۔ترجمان نے مزید کہا کہ کچھ مخصوص عناصر، ڈمی اخبار اور سوشل میڈیا سے وابستہ نام نہاد افراد، عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہدامی کارروائی برائے نام کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔اگر کوئی شک و شبہ ہو تو وہ خود موقع پر لے جا کر تصدیق کر سکتا ہے کہ کارروائی مکمل ہوئی ہے۔ ایس بی سی اے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا جھوٹے پروپیگنڈے کے آگے نہیں جھکے گی اور فیک نیوز چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 135۔۔۔ایس ڈی

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ یکم فروری 2025

صدر مملکت آصف علی زرداری کا سابق وزیر عبداللہ بلوچ سے ان کے صاحبزادے کے انتقال پر اظہار تعزیت

کراچی یکم فروری ۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق وزیر عبداللہ بلوچ سے ان کے صاحبزادے کے انتقال تعزیت کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے ٹیلی فون کرکے ٹریفک حادثے میں ابراہیم بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔صدر مملکت نے رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ اور ترجمان حکومت سندھ مصطفی عبداللہ بلوچ سے بھی ان کے چھوٹے بھائی کی وفات پر تعزیت کی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 136۔۔۔

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ یکم فروری 2025

تعلیم کا تصور تخلیق اور استعمال مجموعی تحفظ کے طور پر ہونا چاہیے۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کی کراچی میں یوتھ کانفرنس میں شرکت

اس ملک میں درست اعداد و شمار کے تحت ہمیں گنا بھی نہیں جاتا، مسائل گنوانے کی نوبت کو بعد میں آتی ہے۔ سردار شاہ

کراچی یکم فروری ۔ تعلیم کے نظام میں چیلینجز کے حوالے مختلف اسٹیک ہولڈر نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تعلیم کا تصور تخلیق اور استعمال مجموعی تحفظ کے طور پر ہونا چاہیے اس سے مستقبل میں نوجوانوں کے لیے ایک راہ متعین ہوگی اور معاشرتی سطح پر ہم ترقی کر سکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج محکمہ کھیل و امور نوجوانان سندھ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی یوتھ کانفرنس “21 ویں صدی کے نوجوانوں کے مسائل اور انکے حل” کے ایک سیشن کے دوران پینلسٹ کے طور پر کہی، سیشن کا موضوع “تعلیم کے نظام میں خلا” رکھا گیا تھا، پینلسٹ میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ، نامور صحافی وسعت اللہ خان، دانشور جامی چانڈیو، ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر انڈس ریسورس سینٹر صادقہ صلاح الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ

اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ تعلیم تحفظ کا احساس دلاتی ہے۔ ہم تعلیم کو سب کے لیے تحفظ کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ جب ہمارا نوجوان خود کو محفوظ محسوس کرے گا، تب ہی وہ ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر دوسروں کے تحفظ کا بھی خیال رکھ سکے گا۔ وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ملک میں تعلیم کے حوالے درپیش چیلینجز کی اصل وجہ ریاست کی سالوں پرانی وہ پالیسیز ہیں جس میں تعلیم کا شعبہ اصل معنی ترجیح میں کبھی ہی نہیں رہا، جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے دنوں میں جان بوجھ کر سندھ کی تعلیم کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم اب بھی آئینی حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، صوبائی سطح پر تعلیم کے لیے مختص بجٹ کا 92 فیصد تنخواہوں اور آپریشنز پر خرچ ہوتا ہے، سندھ کی ترقیاتی اسکیمز میں 2 فیصد تعلیم کے لیے مختص ہوتا ہے، بحیثیت وزیر کبھی اپنی خامیاں نہیں چھپائیں، معاشرتی سطح پر ہم سب کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے سیشن کے دوران کہا کہ ملک کی بڑھتی آبادی پر کنٹرول کے حوالے معاشرتی سطح پر غیر سنجیدہ روایے کا سامنا ہے، مفت بنیادی تعلیم کی فراہمی کے آئینی وعدے کے باوجود اس وقت 25 ملین بچے پیسے دے کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور تقریباً اتنی ہی بچے اسکولز سے باہر ہیں، انہوں کے کہا کہ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس ملک میں درست اعداد و شمار کے تحت ہمیں گنا بھی نہیں جاتا، مسائل گنوانے کی نوبت کو بعد میں آتی ہے، صوبائی وزیر نے کہا ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے سبب سندھ میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے 20 ہزار اسکولز تباہ ہوۓ، اسکولز کی بحالی میں مدد کے لیے تین سال کے بعد وفاق مدد کرنے کو تیار ہوا ہے، جس سے بھی 4 ہزار اسکولز بحال کیے جا رہے ہیں، وفاق ریاستی سطح پر صوبوں کے ساتھ تعاون کو بڑھاۓ، سید سردار علی شاہ نے کہا تمام چیلینجز کے باجود پالیسیز کے حوالے سے سندھ میں کئی روایات کی بنیاد رکھی ہے، سندھ میں پہلی دفعہ ٹیچنگ لائسنس پالیسی کے نفاذ اور 60 ہزار سے زائد اساتذہ کی میرٹ پر تعیناتی کی گئی، ہم نے جدید دور کے ساتھ ترقی کرنے کے لیے روایتی تعلیمی نظام کے ساتھ ٹیکنیکل ایجوکیشن شروع کی ہے اس کے علاوہ اسکول سے محروم رہ جانے والے بچوں کو نان فارمل ایجوکیشن کے ذریعے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل تعلیم دینے کے لیے 3 ہزار سینٹرز قائم کر رہے ہیں۔ نصاب پر نظرثانی کے حوالے سے ہم سول سوسائٹی کے ساتھ مِل کل کریکیوکم کاؤنسل بنانے جا رہے ہیں اس حوالے سے ہماری پوری توجہ ایسا نصاب ترتیب دینے پر ہوگی جس سے بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے،

* ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر آئی آر سی صادقہ صلاح الدین*

پینل ڈسکشن کے دوران ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر انڈس ریسورس سینٹر صادقہ صلاح الدین نے کہا کہ سندھ میں بیٹیوں کی حفاظت بہت کی جاتی ہے، تعلیم کے سلسلے میں سندھ کے لوگ بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم نہیں کرتے، مگر تحفظ کے احساس کو فروغ دینے اور اسے بڑھانے کی ضرورت ہے، لوگ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں، وسائل کا غیر ضروری استعمال کم کرنے اور احتساب کا عمل مؤثر کرنے سے بہتر نتائج مل سکتے ہیں،

جامی چانڈیو

دانشور جامی چانڈیو نے کہا کہ ریاست نے تعلیم کو محض نالج سینٹر بنا کر ایک مخصوص تعلیم دی، جہاں بچوں کو سوال کرنا نہیں سکھایا گیا، اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے مذہبی انتہاپسندی بڑھی اور تنقیدی شعور پستی میں چلا گیا انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت بے حد ضروری ہے، ہمارا پڑھانے کے روایتی طریقوں پر انحصار اب ختم ہونا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ والدین بچوں کے اچھے نمبرز کی خواہش تو کرتے ہیں مگر اچھے عمل کی خواہش نہیں کرتے، اکیسویں صدی کی سیکیورٹی تعلیم ہے، ہم نے سیکورٹی اسٹیٹ کی بات کی مگر ہم سب سے زیادہ انسیکیور ہم خود ہیں،

وسعت اللہ خان

صحافی وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ بڑھتی آباد کے تناظر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آنے والی نسل کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل بھی دینا ہوگا، ابتدائی مراحل میں ہم نے اگر بچوں کے لیے راہ کا تعین نہ کیا تو ہمارے نوجوانوں کو کوئی بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اس حوالے سے بھی ہمیں سوچنا ہوگا۔ سیشن کا اختتام سے پہلے سوال جواب مرحلے پر ہوا، تین روزہ یوتھ کانفرنس اتوار تک جاری رہے گی