لاہور سے کئی اہم اور تازہ ترین خبریں- رپورٹ مدثر قدیر


رورل کمیونٹی ڈویلپمنٹ سوسائٹی (RCDS) نے ویلٹ ہنگر ہلفے کے تعاون سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہور میں اسموگ کے تدارک کے لیے مقامی حکمتِ عملی کے فروغ پر سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار میں وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، 500 سے زائد شرکاء بشمول طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اراکینِ پنجاب اسمبلی، صحافیوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی۔

سیمینار کے انعقاد کا مقصد طلبہ میں اسموگ کی وجوہات، اثرات اور اس کے انسانی صحت، ماحول اور معیارِ زندگی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا تاکہ وہ اسموگ کے تدارک میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر ماہرینِ تعلیم، محققین، اربن یونٹ، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے محکمے، پی ڈی ایم اے، اور سٹی ٹریفک پولیس کے حکام نے اسموگ کے حل اور اس کے تدارک کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

RCDS کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب قیصر اقبال نے کہا کہ پنجاب میں اسموگ تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ ہم اپنے ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں اور درختوں کی کٹائی جاری ہے۔ ٹرانسپورٹ اور ویسٹ مینجمنٹ کے ناقص انتظامات کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

مقررین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے ثقافتی اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان میں ہیٹ ویوز، سیلاب اور خشک سالی جیسے قدرتی آفات رونما ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسموگ ہمارے طرزِ زندگی پر شدید اثر ڈال رہی ہے اور موسمیاتی تبدیلی ہماری روایات اور تاریخی ورثے جیسے موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

محکمہ صحت سے ڈاکٹر عمران ستار نے کہا کہ اسموگ انسانی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے اور زراعت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے اسموگ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اسموگ کے دوران ہمیں اپنی بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنی چاہئیں۔

راحیلہ خادم حسین، پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، نے پنجاب حکومت کی اسموگ کے تدارک کے لیے کی جانے والی کوششوں اور ماحول کے تحفظ کے حوالے سے پالیسی پر روشنی ڈالی۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ ملک کو صاف رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور مشترکہ کاوشوں سے ہم ایک اسموگ فری ملک بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسموگ کی بڑی وجوہات میں ٹرانسپورٹ اور صنعتیں شامل ہیں اور اس کے تدارک کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملی بھی پیش کی۔

سیمینار کے اختتام پر مہمانوں میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔
======================

پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کا انتخابی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایسوسی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا چناﺅ کیا گیا۔اکثریتی رائے سے محمد ارشد بٹ صوبائی صدر برقرار رکھا گیاجبکہ رانا پرویز چیئرمین پنجاب اور شہزاد روشن کو جنرل سیکرٹری پنجاب منتخب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں کثیر تعداد میں پیرا میڈیکس کے ارکان نے شرکت کی جن میں وارث آفتاب ، رفیق سہوترا، شوکت بھگت، اسلم معراج، بابر گل، عاشر، چودھری وسیم، رفیق چشتی، حافظ سجاد، منظور اکرم ،محمد ابرار، ماجد خان، اکرم میو، امانت علی، سلامت مسیح و دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاءنے محمد ارشد بٹ کو صوبائی صدر پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف برقرار رہنے پر مبارکباددی جبکہ دیگر عہدیداران کے لئے بھی نیک تمناﺅں کا اظہار کیا۔ صوبائی صدر محمد ارشد بٹ اور چیئرمین رانا پرویز نے کہا کہ پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن نے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ انشاءللہ سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے پہلے سے بڑھ کر جدوجہد کریں گے اور مطالبات و مسائل کے حل کے لئے پنجاب حکومت سمیت محکمہ صحت کے حکام تک آواز اٹھائیں گے۔

صوبائی صدر پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن محمد ارشد بٹ ، چیئرمین رانا پرویز اور جنرل سیکرٹری شہزاد روشن
=====================


صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں کینسر کون 17 نرسنگ سمپوزیم میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو شریف میڈیکل سٹی ڈاکٹر محمد عدنان خان، وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل، پرنسپل شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج پروفیسر نوشینہ رضا، پروفیسر ہارون جاوید، ڈاکٹر فرقد عالمگیر، پروفیسر ارشد چیمہ، پرنسپل سرگودھا میڈیکل کالج پروفیسر وارث فاروقہ، ڈاکٹر عامر مفتی، ڈاکٹر فردوس کوثر، پروفیسر عمران انور، پروفیسر صائمہ انعام، پروفیسر رضا سید، ڈاکٹر صدف، ڈاکٹر محسن گیلانی، فیکلٹی ممبران، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، نرسز اور خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔سمپوزیم کے دوران کینسر کا شکار مریضوں کی خدمت کرنے والی نرسوں کی کپیسٹی بلڈنگ پر مختلف مقررین نے روشنی ڈالی۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے سمپوزیم کے شرکاءسے اپنے خطاب میں کہاکہ آج ہم آنکولوجی نرسنگ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے سب اکھٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لاہور میں 915 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ آف دی آرٹ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ بنایا جا رہا ہے۔ آگاہی کیلئے ایسے سیمینارز کا انعقاد انتہائی اہم ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ نرسنگ شعبہ نظام صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کینسر کا شکار مریضوں کے علاج و معالجہ میں نرسنگ شعبہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں عوام تک صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔ پنجاب کی عوام کیلئے چیف منسٹرز چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، چیف منسٹرز ڈائیلسز پروگرام اور چیف منسٹرز سپیشل انشی ایٹو فار ٹرانسپلانٹ پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ وزیرصحت پنجاب نے کہاکہ لاہور اور سرگودھا میں اسٹیٹ آف دی آرٹ نواز شریف انسٹی ٹیوٹس آف کارڈیالوجی بنائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے 3000 نرسوں کی بھرتیاں کی ہیں۔ پنجاب میں نرسنگ ایجوکیشن کو بھی بہتر کر رہے ہیں۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نرسنگ شعبہ کی بہتری کیلئے تین شہروں لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں سنٹر آف ایکسی لینس کے قیام کیلئے ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے۔ یہ سنٹر آف ایکسی لینس نرسنگ کی جدید تعلیم، ایم ایس این و پی ایچ ڈی پروگرامز اور پریکٹیکل کلینیکل ٹریننگز کو فروغ دیں گے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ آنکولوجی کیئر بارے جدید معلومات حاصل کرنے کا آج نرسوں کو سمپوزیم میں نادر موقع ملا ہے۔ شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نے اپنے آپ کو ایک بہترین طبی ادارہ ثابت کیا ہے۔صوبائی وزیرصحت نے شریف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، شریف نرسنگ کالج اور سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی پاکستان کو بہترین سمپوزیم کے انعقاد پر مبارکباد دی۔آخر میں صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے یادگاری شیلڈ وصول بھی کی اور فیکلٹی ممبران اور مقررین کے درمیان یادگاری شیلڈز تقسیم بھی کیں۔

===========================

نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE)، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان کے تعاون سے نیشنل آؤٹ ریچ پروگرام (National Outreach Program)کی اختتامی تقریب فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں منعقد ہوئی۔
وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے بطور سر پرست اعلٰی شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے آن لائن شرکت کی۔
ڈائریکٹر جنرل ایچ ای سی غلام نبی صاحب اور سابق پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ نذیر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمدکا کہنا تھا کہ ایچ ای سی پاکستان کی یونیورسٹیوں کے نوجوان فیکلٹی ممبران کی ترقی کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر کامیاب بنانے کے لیے تعلیم کے سوااور کوئی راستہ نہیں ہے۔انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کی دور اندیش قیادت کی بھی تعریف کی جن کی سربراہی میں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ترقی کی منازل طےکر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد جاری رہے گا۔انہوں نے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک کی نمایاں خدمات کوبھی سراہا اور ان کا کہنا تھا کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن ٹریننگ پروگرامز میں بہت فعال کردار ادا کر رہا ہے ۔آخر میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے اور وطن عزیز کا نام روشن کرینگے۔
وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور ڈائریکٹر جنرل ایچ ای سی غلام نبی صاحب اور سابق پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ نذیر کو ایف جے ایم یو آمد پر خوش آمدید کہا۔ ان کا کہناتھا کہ فیکلٹی ڈویلپمنٹ تربیتی پروگرام فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی فیکلٹی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، علم اور قائدانہ صلاحیتوں کو بڑھانے میں بہت معاون ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بڑھانا ایک زندگی بھر کا عمل ہے جس کے لیے لگن، استقامت اور سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں شعبہ گائنی کی چار سب اسپیشلٹیز اور ان کے سپروائزرز کا منظور ہونا اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کی انڈکشن ہونا فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی بڑی کامیابی ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز جلد بہت جلد شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان ڈاکٹر مختار احمد اور ڈاکٹر نور آمنہ ملک کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے ایف جی ایم یو کو تربیتی پروگرامز کی فہرست میں شامل کیا۔
وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے اس کامیاب ٹریننگ پروگرام کے انعقاد پر تمام فیکلٹی ممبران پروفیسر عائشہ ملک، پروفیسر بلقیس شبیر، ڈاکٹر تسکین زہرہ، ڈاکٹر سائرہ منورکو مبارکباد پیش کی۔
ڈائریکٹر جنرل ایچ ای سی غلام نبی نے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل اور ان کی ٹیم کی بے مثال کاوشوں اور کامیابیوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل لوگوں میں تربیت اور برداشت کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے پروفیشنل تربیت کے ساتھ ساتھ شخصی تربیت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ایک اچھا شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو اعزازی شیلڈز اور ٹریننگ کے شرکاء میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے گئے۔
=======================

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے شاندار تعلیمی سفر کے 104برس مکمل ہونے پر فوٹو مونٹیج کا انعقاد کیا گیا۔ اسی حوالے سے یو ای ٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے درجنوں طلبا نے مادر علمی کو خراج تحسین پیش کرنے کا انوکھا انداز اپنایا۔یو ای ٹی میڈیا سوسائٹی نے تمام طلبا کو مرکزی گراونڈ میں منظم انداز میں بٹھایا اور یو ای ٹی 104لکھ کر تاریخی تصویر بنا ڈالی۔اس سلسلے میں جہاں دن بھر مختلف سرگرمیاں جاری رہیں،وہیں طلباء کی جانب سے سٹالز بھی لگائے گئے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیرنے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور طلباء کی جانب سے لگائے گئے سٹالز کا دورہ بھی کیا۔تقریب میں تمام فیکلٹیز کے ڈینز،مختلف تدریسی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان، ڈائریکٹرسٹوڈنٹس افیئرزڈاکٹر ذوالفقار علی،پبلک ریلیشنز آفیسرڈاکٹر تنویرقاسم اور سوسائٹی ایڈوائزاراحمد نویدبھی موجود تھے۔ڈاکٹر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ یو ای ٹی کی 104سالہ تاریخ نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،ہمارے طلباء کی محنت اور اساتذہ کی لگن سے یہ ادارہ ہمیشہ ترقی کی راہوں پر گامزن رہے گا۔انہوں نے اس شاندار تاریخ کو یادگاربنانے کیلئے یو ای ٹی میڈیا سوسائٹی کے ایڈوائزر اور ممبران کی کوششوں کو سراہا۔
========================

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس لاہور کے زیر اہتمام سینکڑوں اساتذہ و ملازمین نے سول سیکرٹریٹ لاہور کے سامنے حکومتی ملازمین کش پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء اللہ نیازی ، پروفیسر فائزہ رعنا ، مختار گجر ، رانا لیاقت ، آزاد گجر ، عامر بٹ ،مختار سہلری و دیگر نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کی پنشن وگریجویٹی ، لیو انکیشمنٹ ، رول 17-اے اور فیملی پنشن پر شب خون مار کر اساتذہ و ملازمین کو خود کشیوں پر مجبور کر دیا ہے ملازمین معاشی استحصال کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے ہیں پنشن وگریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ میں 40 فیصد کمی سے ملازمین زندہ درگور ہو چکے ہیں فیملی پنشن اصلاحات اور رول 17-اے کا خاتمہ بیواؤں اور یتیموں کے حقوق پر ڈاکہ ہے پنجاب بھر کے ملازمین اپنے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور پورے پنجاب میں سراپا احتجاج ہیں اگر حکومت نے ظالمانہ اور ملازمین دشمن پنشن وگریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ میں کمی ، فیملی پنشن اصلاحات ، رول 17-اے کا خاتمہ کے نوٹیفکیشنز واپس لئے تو پنجاب سمیت ملک بھر کے ملازمین 10 فروری کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے تا تسلیم مطالبات دھرنا دیں گے.
=====================

صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے حلقہ پی پی 153کی یوسی 148میں صاف ستھراپنجاب پراجیکٹ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔سی ای او لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بابر دین،ڈپٹی سی ای او ذوالقرنین، یوسی چیئرمین میاں عرفان،آغاعلی رضا،وائس چیئرمین حافظ علیم مغل،رفعت،اخلاق شاہ اور اہل علاقہ نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔ صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر ایل ڈبلیوایم سی کے عملہ کے درمیان ماڈل رکشوں کی تقسیم بھی کی اور صاف ستھراپنجاب کی مہم کی قیادت بھی کی۔
صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق کا تقریب کے شرکا ءسے اپنے خطاب میں کہاکہ حلقہ پی پی 153کی یوسی 148میں صاف ستھر پنجاب اپراجیکٹ کے تحت مہم کا باقاعدہ اور زبردست آغازکردیاگیاہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی جانب سے شروع کئے گئے صاف ستھراپنجاب پراجیکٹ کو ہر صورت کامیاب بنائیں گے۔صاف ستھرا پنجاب اپراجیکٹ کو صوبہ بھرکی تمام یونین کونسلزکی سطح تک پھیلایاگیاہے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ پاکستان ہمارا گھرہے اور اس کو صاف ستھرارکھنے کی بھی ذمہ داری ہماری ہے۔دین اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قراردیاہے۔آج گھرگھرجاکر صفائی ستھرائی کا پیغام پہنچارہے ہیں۔صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ حلقہ پی پی153میں سیوریج،پینے کے صاف پانی اور صفائی ستھرائی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروارہے ہیں۔تاج پورہ،ہربنس پورہ اور بٹ چوک کے علاقہ مکینوں کیلئے بھی آسانیاں پیداکی جارہی ہیں۔عوام کے تعاون کے بغیر صاف ستھراپنجاب پراجیکٹ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے محکمہ صحت اور محکمہ ایمرجنسی سروسزپنجاب کا قلمدان سونپاہے۔محکمہ داخلہ اور ڈیزاسٹرمینجمنٹ کی سب کمیٹیوں میں بطورچیئرمین فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدارمیں آکرہمیشہ عوام کی فلا ح و بہبودکیلئے کام کیا ہے۔صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے صاف ستھرا پنجاب پراجیکٹ کی کامیابی کیلئے صوبائی وزیر محکمہ بلدیات ذیشان رفیق اور سیکرٹری بلدیات میاں شکیل کی کاوشوں کو سراہا۔
======

صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے گورنر ہاؤس لاہور میں ”جسمانی ذہنی بیماریوں کے علاج میں غذا،لائف سٹائل،آلٹرنیٹومیڈیسن اور مالیاتی ویلنس کا کردار“کے موضوع پر منعقدہ آگاہی سیمینارمیں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔آگاہی سیمینارمیں ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسرسائرہ افضل،ڈاکٹرعارف صدیقی،چیئرمین آلٹرنیٹو میڈیسن ٹاسک فورس ڈاکٹراظہارخان،سی ای او پراجیکٹ BULLمخدوم علی اور خواتین و حضرات کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔
صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے شرکاءسے اپنے خطاب میں کہاکہ اس وقت معاشرے میں ڈیزیزبرڈن بڑھتا جارہاہے۔ڈیزیزبرڈن بڑھنے سے نظام صحت پر بھی بوجھ پڑتاہے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ ہمیں ایک صحت مندزندگی گزارنے کیلئے ایک صحت مندلائف سٹائل اپناناہوگا۔ہمیں نظام صحت پر ڈیزیزبرڈن کم کرنے کیلئے پری وینشن پرکام کرناہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی جانب سے عوام کیلئے صحت کے تاریخی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔وزیرصحت پنجاب نے کہاکہ چیف منسٹرزچلڈرن ہار ٹ سر جری پروگرام،چیف منسٹرزڈائیلسزپروگرام اور چیف منسٹرزسپیشل انشی ایٹوفارٹرانسپلانٹ حکومت پنجاب کے فلیگ شپ پراجیکٹس ہیں۔لاہورمیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے پہلا 915بستروں پر مشتمل نوازشریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسرٹریٹمنٹ اینڈریسرچ بنایاجارہاہے۔لاہوراور سرگودھامیں اسٹیٹ آف دی آرٹ نوازشریف انسٹی ٹیوٹس آف کارڈیالوجی بنائے جارہے ہیں۔ ایسے آگاہی سیمینارز میں آکر صحت سے متعلق معلومات میں اضافہ ہوتاہے۔


عظمیٰ عامربٹ ممبر انوائرمنٹ کمیٹی پنجاب اور چیئرپرسن نوازشریف لوور گروپ کی ایس ڈی او واپڈا کالج روڈ لاھور عرفان علی سے انکے آفس میں ملاقات اور عوام کو علاقے میں درپیش مسائل پر گفتگو اور ایس ڈی او عرفان علی کا واپڈا سے متعلق عوامی مسائل فوری حل کرنے کی یقین دھانی ۔