جیکب آباد سے بہت سی اہم اور تازہ ترین خبریں۔

جیکب آباد رپورٹ ایم ڈی عمرانی
جیکب آباد کے قریب نامعلوم مسلح افراد کاجدید اسلحہ سے گھر پر حملہ، فائرنگ سے ماں معصوم بیٹے سمیت قتل، ایک بیٹا زخمی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے علاقے دوداپور کے پنہوں بھٹی تھانہ کی حدود گاؤں سونو کٹوہر میں نامعلوم مسلح افراد نے جدید اسلحہ سے گھر پر حملہ کردیا اور شدید فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک خاتون کلثوم اور اس کا بیٹا نوید کٹوہر موقع پر قتل ہوگئے جبکہ اعجاز کٹوہر زخمی ہوگیا، واقع کے بعد مسلح افراد فرار ہوگئے، اطلاع پر حدود کی پولیس نے پہنچ کر لاشوں اور زخمی کو تعلقہ اسپتال منتقل کیا جہاں زخمی کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے لاڑکانہ کی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ماں اور بیٹے کی لاشیں ضروری کاروائی کے بعد ورثہ کے حوالے کی گئی، کٹوہر برادری کے مطابق ہمارے گاؤں جلبانی برادری کے مسلح افراد نے حملہ کیا ہے، ادھر حدود کی پولیس کے مطابق واقعہ کٹوہراور جلبانی برادری کے درمیان جاری دیرینہ تنازعہ کا شاخسانہ ہے، واقعے کا ڈی آئی جی لاڑکانہ نے نوٹس لیتے ہوئے ملوث ملزمان کو فلفور گرفتار کرنے کی ہدایت جاری ہے۔

جيکب آباد جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے والے حکمرانوں نے عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا، سندھ میں بدامنی کی وجہ سے شہر، دیہات اور شاہراہیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں، بدامنی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، نااہل حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ عبداللہ بن مسعود ٹھل میں سالانہ دستار فضیلت جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی حکمرانوں نے عوام کو بدامنی، غربت، بیروگاری اور مہنگائی کا تحفہ دیا ہے، سندھ میں بدامنی کی وجہ سے جیکب آباد، شکارپور، کندھکوٹ کا سفر کرنے ناممکن ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی بیروزگاری کی وجہ سے نوجوان خودکشیاں کررہے ہیں اب عمر کی حد کم کرکے بیروزگار نوجوانوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کیا گیا ہے، علامہ راشد سومرو نے کہا کہ سندھ کے وسائل پر سودیبازی برداشت نہیں کریں گے دریائے سندھ سے نکالے جانے والے کینالوں کے خلاف مزاحمت کریں گے، سندھ کے جزائر اور وسائل کی نیلامی قبول نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے حقوق کے لیے عوام کے ساتھ ملکر جدوجہد جاری ہے، جے یو آئی سندھ کے رہنما نے کہا کہ جے یو آئی نے لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں کم ازکم 10 قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتی لیکن دھاندلی کرکے ہمارے امیدواروں کے نتائج تبدیل کئے گئے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے موجودہ حکمرانوں کو مسترد کردیا ہے جے یو آئی سندھ کے حقوق کے لیے عملی طور پر میدان میں ہے اور عوام کی ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہے۔

جیکب آباد میں ٹول پلازہ قائم کرنے کے خلاف شہری اتحاد کا چوتھے روز بھی احتجاج، بھوک ہڑتال۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں شہری اتحاد کی جانب سے ٹول پلازہ قائم کرنے کے خلاف چوتھے روز بھی احتجاج جاری رہا، مختلف تنظیموں کے کارکنان جلوس نکال کر ڈی سی چوک پر قائم بھوک ہڑتالی کیمپ پر پہنچے جہاں مظاہرین نے صدر محمد یاسر ابڑو، ڈاکٹر اے جی انصاری، گلاب جان مینگل، محمد عالم کھوسو، گل حسن ٹالانی کی قیادت میں دو گھنٹوں تک علامتی بھوک ہڑتال کی، اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیکب آباد کے عوام نے ٹول پلازہ کو مسترد کردیا ہے ٹول پلازہ قائم کرکے عوام کو لوٹا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ ٹول پلازہ غیر قانونی ہے جس کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ 4 فروری کو شہید اللہ بخش پارک سے جلوس نکال کر ٹول پلازہ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔


جیکب آباد پولیس کی کاروائی، بھاری مقدار میں گٹکا برآمد، ایک ملزم گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے صدر تھانہ کی پولیس نے شمبے شاہ چیک پوسٹ پر کاروائی کرتے ہوئے ایک گاڑی سے 300 پیکٹ گٹکا برآمد کرکے ایک ملزم امیر بخش بروہی کو گرفتار کرلیا، گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

جیکب آباد سندھ ترقی پسند کے پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ سے کینال نکالنے کے معاملے میں آصف زرداری شہباز شریف کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، شہبازحکومت بلاول کے کندھوں پر قائم ہے، کینال نکالے گئے تو دریائے سندھ خشک ہوجائے گا، پیپلز پارٹی اگر کینالوں کے خلاف ہے تو قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کیوں نہیں کرتی، پاکستان لاہور، فیصل آباد، مردان یا پشاور کی وجہ سے نہیں بلکہ کراچی کے سمندر کی وجہ سے زندہ ہے، کراچی کی بندرگاہ حکمرانوں کو آکسیجن فراہم کررہی ہے، دریائے سندھ ہماری شہہ رگ ہے، 6 کروڑ لوگوں کی زندگی دریائے سندھ سے وابستہ ہے جس سے چیڑ چاڑ کی گئی تو سخت نتائج برآمد ہونگے، دریائے سندھ ہمیں وفاق یا زرداری نے نہیں بلکہ قدرت کی طرف سے ملا ہوا ہے، ہزاروں سالوں سے سندھو کی لہروں سے ہمارے جسم میں خون گردش کررہا ہے، دریائے سندھ سے کسی صورت کینال نکالنے نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد کے حبیب چوک پر منعقدہ عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اور پنجاب ہمارے پانی کو میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں 40 سالوں سے کالا باغ ڈیم بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جنرل ضیاء نے کالا باغ ڈیم بنانے کی کوشش کی لیکن سندھ کے عوام نے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا، میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کے بعد اعلان کیا کہ اب میں کالاباغ ڈیم کی صورت میں ایک اور دھماکہ کروں گا لیکن عوام نے ان کے تکبر کو ختم کیا اور انہوں نے اپنا اعلان واپس لیا پھر ایک وردی والا مشرف آیا جو لیفٹ رائٹ کرکے کالا باغ ڈیم بنانے کی باتیں کررہا تھا ہم نے اس کا گھیراؤ کیا اور وہ بھاگ گیا، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کس کے کہنے پر دریائے سندھ سے کینال نکال رہا ہے جب ڈیم نہیں بن سکا تو اب کینال نکال کر سندھ کا پانی چوری کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ملک میں اس وقت بھوک، بدحالی، مفلسی، بیروزگاری، بجلی، گیس، امن و امان کے مسائل موجود ہیں جن کو حل کرنے کے بجائے کینال نکالنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کے پانی اور خودمختیاری پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے یہ ہمارا پانی بند کرکے ہمیں مارنا چاہتے ہیں، 6 کروڑ لوگوں کو پانی بند کرنے سے ملک نہیں چل سکتا یہ کیسے عقلمند ہیں جو عوام دشمن فیصلے کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے فیصلوں کے پیچھے حوس، لالچ، ظلم و جبر ہے لیکن حکمرانوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ سندھ کے عوام اپنی دھرتی کی بقا و سالمیت کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ طاقتور ہیں لیکن طاقتور خدا ہے اور اس کے بعد غریب عوام طاقتور ہے، پنجاب کی زمینوں کی آباد کرنے کے لیے سندھ کو بنجر بناکر قبرستان بنانے کی سازش کی ہورہی ہے، ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ کروڑوں لوگ بھوک سے مررہے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہیں، سندھ میں تعلیم، صحت، امن و امان سمیت بنیادی سہولیات میسر نہیں اور حکمران دبئی، امریکہ اور برطانیہ میں اپنے محل بنارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کارپورٹ فارمنگ کے ذریعے ہاریوں کو زمینوں سے بے دخل کیا جائے گا، حکمران سندھ میں کمپنی کی سرکار قائم کرکے سندھ کے عوام کو غلام بنانا چاہتے ہیں سندھ کو بچانے کے لیے ہمیں لمبی تحریک چلانا ہوگی اور عوام کو اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کا تیل، گیس اور کوئلہ پنجاب کے عوام کی زندگیوں میں روشنیاں پیدا کررہا ہے، ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں قومی ترانہ پیش کرنا مسئلہ بن چکا ہے کے پی کے میں لوگ شام کے وقت گھروں سے نکل نہیں سکتے سندھ ڈاکو راج قائم ہوچکا ہے، سندھ کے لوگوں کو جانوروں کی طرح اغوا کیا جارہا ہے بدامنی کی وجہ سے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، حکمران ملک کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، سندھ کے عوام کو اپنے مستقبل کے لیے نکالنا ہوگا۔