وزیر توانائی ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت حیسکو کو اور سیپکو سے متعلقہ بجلی کے بلوں کی شکایات کے حوالے سے اہم اجلاس

کراچی
مور خہ 31جنوری 2025
وزیر توانائی ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت حیسکو کو اور سیپکو سے متعلقہ بجلی کے بلوں کی شکایات کے حوالے سے اہم اجلاس
ناصر شاہ کی ہدایات پر ہے حیسکو اور سیپکو کے بلوں میں بدعنوانیوں میں ملوث متعلقین کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم
کراچی 31 جنوری ۔صوبائی وزیر توانائی ترقیات و منصوبہ بندی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت آج محکمہ توانائی کے دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں حیسکو اور سیپکو سے متعلقہ بجلی کے بلوں میں بدعنوانیوں، زائد اور جعلی بلوں کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر وزیر توانائی نے کہا کہ انہیں حیسکو اور سیپکو سے متعلقہ بلوں میں بدعنوانیوں زائد اور جعلی بلوں سے متعلقہ مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں اور جس کے باعث صوبہ سندھ کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ناصر شاہ نے کہا کہ انہیں یہ بھی شکایات ملی ہیں کہ جہاں پر بجلی بالکل استعمال نہیں ہو رہی ہے وہاں پر بھی بھاری بل وصول کیے جا رہے ہیں اور بغیر تصدیق کے ان بلوں کی ادائیگی بھی کی جا رہی ہے ۔وزیر توانائی نے اجلاس میں جائزہ لینے کے بعد فوری طور پر ایڈیشنل سیکرٹری پاور انرجی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا جو کہ جلد ہی ملوث ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ ناصر شاہ نے کہا کہ بدعنوانیوں میں ملوث متعلقین کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ درست بلوں کی ادائیگی جاری رکھی جائے گی اور جبکہ جعلی بجلی کے بلوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔اجلاس میں سکریٹری محکمہ توانائی مصدق احمد خان ، ایڈیشنل سیکرٹری حفیظ انصاری سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 132۔۔۔ایم ایس ایس