لاہور سے کئی اہم اور تازہ ترین خبریں- رپورٹ مدثر قدیر


نیشنل کالج آف آرٹس میں 54ویں بورڈ آف گورننس کا اجلاس منعقد

لاہور: نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) میں 54ویں بورڈ آف گورننس کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی۔ اجلاس میں بورڈ ممبران، سینئر فیکلٹی، اور انتظامی افسران نے شرکت کی، جہاں ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران این سی اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے کالج کے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پچھلے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال اور مختلف تعلیمی و انتظامی شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ بریفنگ میں جاری منصوبے، درپیش چیلنجز، اور ادارے کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات شامل تھے۔
اس میٹنگ میں وائس چانسلر این اے پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری ، کامران لاشاری، پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ منظور، پروفیسر سجاد کوثر ڈاکٹر اصغر ندیم سید، سید نوید حسین شاہ ،پروفیسر ڈاکٹر محمد علی پنجاب یونیورسٹی وی سی پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران پروفیسر ڈاکٹر سید منصور سرور اور پروفیسر ڈاکٹر در سمین احمد نے شرکت کی.
اجلاس میں این سی اے کے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے، انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اور ادارے کی طویل مدتی ترقی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

بورڈ ممبران نے کالج کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے این سی اے کو پاکستان کے نمایاں آرٹ اور ڈیزائن کے ادارے کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ممبران نے نیشنل کالج آف آرٹس میں “آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم: چیلنجز اور مواقع” پر سمپوزیم کا کامیاب انعقاد اور این سی اے نے پاکستان کے پہلے آرٹ اور ڈیزائن ایجوکیشن جرنل JADEP کے اجرا پر مبارکباد دی ۔

اجلاس کے بعد بورڈ آف گورننس کے ممبران نے کالج کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور طلبہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے طلبہ کو ان کی تعلیمی اور تخلیقی سرگرمیوں میں مزید محنت جاری رکھنے کی ترغیب دی اور انہیں یقین دلایا کہ ادارہ انہیں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

54ویں بورڈ آف گورننس اجلاس کے اختتام پر این سی اے کے تعلیمی اور انفراسٹرکچر کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

=======================

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق ملتان پہنچ گئے۔ سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود کی خواجہ سلمان رفیق کے ہمراہ برن یونٹ آمد ہوئی۔ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت نے حادثے کے متاثرین کی عیادت کی اور ہسپتال انتظامیہ سے بریفننگ لی۔ کمشنر عامر کریم خاں نے حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں اور علاج و معالجہ پر بریفنگ بھی دی۔ خواجہ سلمان رفیق نے دھماکہ زخمیوں کے لواحقین سے ملاقات بھی کی۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی ملتان برن یونٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حادثے پر دلی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ حکومت پنجاب حادثے کے متاثرین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے ۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے ملتان دھماکے کے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 20 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب نے دھماکے کے زخمیوں کیلئے بھی 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ انسانی جان انمول ہے اس لئے متاثرین کی بحالی کی ادنی کوشش ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر واقعہ کی مکمل تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ غیر قانونی ایل پی جی ری فلنگ میں ملوث ملزمان کو ہر قیمت پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ افسوس ناک حادثے میں 6 ہلاکتیں اور 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تمام متاثرین کی فوری بحالی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ برن یونٹ میں زیر علاج مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کی ہر ممکن کفالت کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے کہا کہ محکمہ صحت حادثے کے زخمیوں کی مکمل دیکھ بھال کررہا ہے۔ واقعہ کے بعد تمام ملحقہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے تمام تر طبی سہولیات میسر ہیں۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے کہا کہ تظامیہ نے حادثے کے فوری بعد مریضوں کو طبی امداد فراہم کی۔ حادثے کے متاثرین اور لواحقین کیلئے قیام و طعام کی بھی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ جائے حادثے پر تمام حفاظتی سروے مکمل ہے اور لواحقین کیلئے شلٹر فراہم کردیئے گئے ہیں۔
=====================

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے سیکرٹری داخلہ نور الامین مینگل کے ہمراہ جائے حادثے کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری داخلہ نے حادثے سے ہونیوالے گھروں کے نقصان کا جائزہ لیا۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں،آر پی او کیپٹن ر سہیل چوہدری ،ڈپٹی کمشنر محمد علی بخاری اور سیکرٹری صحت عظمت محمود سمیت ضلعی حکام بھی ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا تعزیتی پیغام لیکر متاثرین کے گھروں تک آئے ہیں۔ حکومت پنجاب حادثے سے ہونیوالے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ سکیورٹی فورسز اور ریسکیو 1122 نے ریکارڈ وقت میں امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ جامع انکوئری کے ذریعے محرکات کا پتہ کرکے ملزموں کو کٹہرے میں لائیں گے۔ انتظامیہ علاقہ کو حفاظتی حصار میں لیکر جائے حادثہ کلئیر کررہی ہے۔ کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے اس موقع پر کہا کہ انتظامیہ کو گھروں اور جانوروں کے نقصانات کا تفصیلی سروے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

=========================

ایم این اے رانا ضیاءسے ملاقات کے موقع پر محمد ارشد بٹ، عبیداللہ بٹ، عبداللہ بٹ، رضوان چودھری اور غابد بھٹی کا گروپ فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و ممبر قومی اسمبلی این اے 123 رانا ضیاءکی صوبائی صدر پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن محمد ارشد بٹ کے گھر آمد، ارشد بٹ کو رہائی پر مبارکباد پیش کی ۔اس موقع پر پنجاب پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطالبات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ممبر قومی اسمبلی رانا ضیاءنے پارٹی قیادت کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ میری جماعت پیرا میڈیکس کے ساتھ ہے اور جائز مطالبات پر جلد از جلد عملدرآمد اور حل لئے آواز اٹھائیں گے اور مطالبات اعلیٰ قیادت تک بھی پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو سرکاری ملازمین سمیت عوامی مسائل حل کرنا اسکی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہسپتالوںمیں پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کا علاج معالجہ میں کلیدی کردار ہوتا ہے ۔انہیں معاشی اور معاشرتی طور پر مضبوط اور خوشحال بناکر ہی طبی معاملات بہتر رکھے جا سکتے ہیں۔صوبائی صدر پنجاب پیرا میڈیکس محمد ارشد نے ایم این اے رانا ضیاءکا خصوصی آمد اور ہسپتالوں کے ملازمین کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھے اور انکے حل کیلئے مکمل یقین دہانی کروانے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایم این اے رانا ضیاءسے حکومت اورپیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کیلئے کردار ادا کرنے کی بھی اپیل کی۔ اس موقع پر ارشد بٹ کے صاحبزادے عبیداللہ بٹ، عبداللہ بٹ ، رضوان چودھری، غابد بھٹی بھی موجود تھے۔
===========================

نیشنل کالج آف آرٹس میں آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم پر سمپوزیم کا انعقاد

این سی اے نے “آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم: چیلنجز اور مواقع” کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کی صدارت این سی اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے کی۔

یہ اہم تقریب این سی اے کے 150 سالہ تقریبات کا حصہ ہے اور اس موقع پر JADEP، پاکستان کے پہلے پیر ریویوڈ آرٹ اور ڈیزائن ایجوکیشن جرنل، کا اجرا بھی کیا گیا۔

سمپوزیم میں معزز مہمان مقررین کے ایک ممتاز پینل نے شرکت کی، جن میں سجاد کوثر، ڈاکٹر راحت نوید قدوس مرزا، علی رضا، زیب بلال، اور سائرہ دانش شامل تھے۔ ہر مقرر نے آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تخلیقی صلاحیتوں کی پرورش کے لیے جدت، شمولیت، اور بین العلومی نقطہ نظر کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

یہ سمپوزیم رابعہ جلیل کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس نے شرکاء کو سوچ انگیز مباحثوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ مقررین نے اہم موضوعات پر گفتگو کی، جیسے آرٹ کی تعلیم میں ٹیکنالوجی کا انضمام، طلباء میں تنقیدی سوچ کو فروغ دینا، اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق ڈھلنے کی ضرورت۔

اپنے خطاب میں این سی اے کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے پاکستان میں آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ادارے کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا:
“این سی اے میں، ہمارا مقصد اگلی نسل کے فنکاروں اور ڈیزائنرز کو متاثر کرنا اور انہیں وہ مہارتیں اور علم فراہم کرنا ہے جو وہ مقامی اور عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کر سکیں۔”

یہ تقریب طلباء، فیکلٹی، اور مختلف تخلیقی شعبوں کے پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد میں شرکت سے مزین تھی۔ شرکاء نے رہنماؤں کے خیالات سے مستفید ہونے اور آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم کی سمت کے بارے میں بصیرت حاصل کرنے کے موقع کو سراہا۔

نیشنل کالج آف آرٹس اپنی تخلیقی صلاحیت اور جدت کے امین ادارے کے طور پر اپنی میراث کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور فنکاروں، ماہرین تعلیم، اور پیشہ ور افراد کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ ایسے سمپوزیم این سی اے کے پاکستان کے ثقافتی اور تعلیمی منظرنامے کو تشکیل دینے میں کردار کو مضبوط کرتے ہیں۔
==========

لاہور جنرل ہسپتال انتظامیہ نے گریڈ 19کے ڈاکٹر عدنان مسعود کو انچارج صحت سہولت پروگرام اور ڈائریکٹر ویجیلنس مقرر کر دیاہے۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر کی منظور ی کے بعد ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین نے تحریری طور پر احکامات جاری کر دئیے۔
پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے توقع ظاہر کی کہ ڈاکٹر عدنان مسعود پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق مریضوں کی فلاح و بہبود اور ایل جی ایچ کی ورکنگ کو مزید بہتر بنانے کیلئے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ پرنسپل نے ڈاکٹر عدنان مسعود کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ ہسپتال کے تمام شعبوں کا راؤنڈ کریں اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ایل جی ایچ میں صفائی کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ صحت مند ماحول مریضوں کی جلد صحت یابی میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عدنان مسعود کا کہنا تھا کہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر اور ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ اس پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

=====================

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں اہم اجلاس منعقدہوا۔اجلاس کے دوران چیف منسٹرز سپیشل انشی ایٹو فار ٹرانسپلانٹ، چیف منسٹرز ڈائیلسز پروگرام اور چیف منسٹرز چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران یونیورسل ہیلتھ انشورنس کا بھی جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صحت کے شعبہ میں تاریخی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹرز ڈائیلسز پروگرام، چیف منسٹرز سپیشل انشی ایٹو فار ٹرانسپلانٹ پروگرام اور چیف منسٹرز چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام حکومت پنجاب کے صحت کے شعبہ میں فلیگ شپ پروگرامز ہیں۔ ان تینوں پروگرامز پر سو فیصد عملدرآمد کو انشاءاللہ یقینی بنائیں گے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ چیف منسٹرز سپیشل انشی ایٹو فار ٹرانسپلانٹ پروگرام کے پورے نظام کو انتہائی شفاف بنایا گیا ہے۔ چیف منسٹرز چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کامیابی سے جاری ہے۔ پنجاب میں صحت کارڈ مکمل طور پر فعال ہے۔ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام میں موجود کوتاہیوں کو دور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود، سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ ذیشان شبیر رانا، سی ای او پنجاب ہیلتھ انشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی ڈاکٹر علی رزاق و دیگر افسران نے شرکت کی۔
========================
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے 1.73ملین یوروز کے 200 آئی سی یو وینٹی لیٹرز کی خریداری انتہائی خوش آئند ہے۔ جرمنی کی کمپنی لووینسٹین سے الیسا 300 ماڈل کے وینٹی لیٹرز خریدے گئے ہیں۔ فروری میں تمام ٹیچنگ سرکاری ہسپتالوں میں یہ وینٹی لیٹرز بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق عوام تک صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔
======================

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پانی کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلی پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔ کانفرنس کی میزبانی سینٹر آف ایکسیلنس ان واٹر ریسورس انجینئرنگ یو ای ٹی لاہور، یو ایس پی سی اے ایس-ڈبلیو ایم یو ای ٹی جامشورو اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے کی۔وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد منیر کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اورکانفرنس کا افتتاح کیا، کانفرنس میں ملک و بیرون ممالک سے ماہریننے پانی کی حفاظت، موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے وسائل کے انتظام کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تجربات بیان کیے، جن میں مصنوعی ذہانت (AI) کا کردار، سیلاب اور خشک سالی کا انتظام، مربوط پانی کے وسائل کا انتظام، ٹیکنالوجی اور اختراعی حل، پالیسی اور حکمرانی، خطرے کا انتظام، سماجی اور اقتصادی جہتیں، پانی، توانائی اور کھانے کے وسائل کا تعلق، قدرتی آفات کے انتظام اور لچک، اور دیگر خصوصی موضوعات شامل تھے۔کانفرنس میں مختلف فیکلٹیزکے ڈینز، تدریسی شعبوں کے سربراہان، اور دنیا بھر سے نامور تعلیمی اداروں سے ماہریننے بھرپور شرکت کی، جن میں امریکہ، جرمنی، چین، ملائشیا، برطانیہ اور نیپال شامل ہیں۔انہوں نے پانی کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم مسائل پر دل چسپ مباحثوں میں حصہ لیا۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے پانی کی حفاظت اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے شرکاء کو حوصلہ دیا کہ وہ مستقبل کے لیے اختراعی اور عملی حکمت عملیوں کی تشکیل میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں۔کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔