اظہار تعزیت
وزیر توانائی سندھ ناصر شاہ کا سابق صوباٸ وزیر عبداللہ بلوچ کے فرزند،رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ اور ترجمان سندھ حکومت مصطفیٰ بلوچ کے بھاٸ ابراہیم بلوچ کے انتقال پر افسوس کا اظہار
ناصر شاہ کا ابراہیم بلوچ کے روڈ حادثے میں وفات پر سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار
دکھ کی اس گھڑی میں پارٹی کارکنان سوگورار خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ناصر شاہ
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرماۓ اور اہلخانہ کو صبروجمیل عطا کرے آمین ناصر شاہ

=====================
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ حیدرآباد
حکومت سندھ کی جانب سے ورلڈ بنک کے تعاون سے انرجی پراجیکٹ کا آغاز
اس پراجیکٹ سے ابتدائی طور پر 2 لاکھ خاندان مستفید ہونگے، وزیر توانائی سید ناصر حسین شاھ
حیدرآباد23 جنوری ( ہ آ ) :- صوبائی وزیر توانائی و پلاننگ اینڈ ڈولپمینٹ سید ناصر حسین شاھ نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وڑن پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت سندھ صوبہ بھر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور آج بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے منشور میں شامل ایک وعدہ پورا ہونے جا رہا ہے . حکومت سندھ کی جانب سے سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت ابتدائی طور پر سندھ میں سستی بجلی فراہم کرنے کے لئے کم یونٹ استعمال کرنے والے 2 لاکھ خاندانوں کو ورلڈ بینک سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا. جبکہ سیکنڈ فیز میں حکومت سندھ مزید پانچ لاکھ خاندانوں کو سولر سسٹم ھوم کٹ فراہم کرے گی.
یہ بات صوبائی وزیر برائے توانائی و پلاننگ اینڈ ڈولپمینٹ سید ناصر حسین شاھ نے شھباز ھال حیدرآباد میں سندھ سولر انرجی پراجیکٹ( ایس ایس ای پی) کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں کہی. صوبائی وزیر نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے تحت وہ خاندان جو زیادہ یونٹس استعمال کرتے ہیں ان کہ لئے حکومت سندھ سولر سسٹم لون بھی شروع کر رہی ہے . انہوں نے بتایا کہ کہ اس پراجیکٹ میں سات سے زیادہ کمپوننٹس شامل ہیں اور وقتاً فوقتاً انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا.
سید ناصر حسین شاھ نے کہا ہے سیلاب اور بارش کے بعد جو گھر ورلڈ بینک کے تعاون سے حکومت سندھ تعمیر کر رہی ان میں بھی سولر سسٹم کٹ شامل ہے. صوبائی وزیر نے کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈولپمینٹ کے تحت سندھ میں 30 ھزار سے زیادہ اسکیمز رکھی گئی ہیں جن میں کچھ اسکیمز جو ترجیحات میں شامل ہیں ان پر کام شروع کیا گیا ہے .صوبائی وزیر برائے توانائی نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت سندھ ابتدائی طور پر تقریباً دو لاکھ گھروں کو سندھ سولر سسٹم ھوم کٹ مہیا کرے گی جس میں ایک سولر پلیٹ، تین بلب ایک پنکھا اور ایک بیٹری شامل ہے. انہوں نے بتایا کہ سولر ھوم کٹ کے لئے صرف 6 ھزار کا چالان جمع کیا جائے گا جس کے بعد یہ کٹ مستحقین کو انکے گھر تک پہنچائی جائے گی. یہ سولر سسٹم ھوم کٹ ان خاندانوں کو دی جائیں گی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سروے میں مستحقین ہونگے. سولر کٹ کے حصول کے لئے متعلقہ یونین کونسل لیول پر یوسی چیئرمین کمیٹی کے سربراہ ہونگے جبکہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر، پارٹی صدر، یوسی چیئرمینز اور این جی اوز کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے منصفانہ طور پر یہ سولر سسٹم ھوم کٹ مستحق خاندانوں کو دی جائے گی.انہوں نے مزید بتایا کہ اس پراجیکٹ کے سلسلے میں ہر ڈویڑن میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا اور پھر ضلعی سطح پر بھی اجلاس کئے جائیں گے تاکہ قریبی تعاون سے عوام کو یہ سولر سسٹم ھوم کٹ دیا جائے. اس موقع پر صوبائی وزیر نے سولر پراجیکٹ کے حوالے سے حیدرآباد ڈویزن کے لئے عاجز دھامراھ کو فوکل پرسن سلیکٹ کیا ہے جو کہ تمام تقسیم کی نگرانی کرینگے.
صوبائی وزیر نے کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے سندھ میں سیلاب زدگان کیلئے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کا سب سے بڑا پراجیکٹ چل رہا ہے جس میں تمام پارٹی کے رہنما اور کارکن اس کی نگرانی کریں تاکہ لوگوں کو جلد از جلد گھر تعمیر کروا کے ان کے حوالے کئے جائیں. انہوں نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں سے تمام صوبوں میں نقصان ہوا تھا لیکن 21 لاکھ گھر صرف صوبہ سندھ میں تعمیر ہو رہے ہیں جو کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قائدانہ صلاحیت کی واضح مثال ہے. پاکستان پیپلز پارٹی ہی واحد پارٹی ہے جو عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کر رہی ہے.
صوبائی وزیر نے کہا کہ ریگستان، کوہستان و دیگر ایسے علاقے جو آف گرڈ ہیں وہاں پر بھی سولر سسٹم دئے جائیں گے جبکہ ورلڈ بنک کے تعاون سے سیلاب زدگان کے لیے این جی اوز کے ذریعے 21 لاکھ گھر تعمیر کر رہیں ہیں جو کہ دنیا کا سب سے بڑا ہاﺅسنگ پراجیکٹ ہے جس کے تحت تقریباً ایک کروڑ لوگوں کو رہنے کے لئے چھت مل سکے گی. تفصیلات کے مطابق ابتک 3.5 لاکھ گھر تعمیر ہوچکے ہیں اور 8 لاکھ گھروں پر کام جاری ہے اور مزید گھر تعمیر کرنے کے لئے بھی سروے کیا ہے.
اس موقع پر کمشنر حیدرآباد بلال احمد میمن نے کہا کہ سولر انرجی کٹ کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ڈسٹرکٹ لیول پر ایک کمیٹی نوٹیفائی کی جائے گی جس کے ذریعے اس سولر انرجی کٹ کی ترسیل کو احسن طریقے سے سر انجام دیا جائے گا. اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے اپنے اپنے علاقوں میں سولر سسٹم کٹ اور گھروں کی تعمیر کے پراسیس کو مزید منصفانہ بنانے کے لئے اپنی تجاویز پیش کی. ہینڈز این جی اوز کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ ایک موبائل ایپلیکیشن بھی لانچ کر رہی ہے جس کے ذریعے مستحق خاندانوں کو ملنے والے سولر ہوم کیٹ کے متعلق تمام ڈیٹا اکٹھا کیاجائیگا تاکہ اس عمل کو بہتر سے بہتر بنایاجاسکے.
اجلاس میں پی پی رہنما رفیق جمالی، مکیش کمار چاولہ، جونیئر ملک سکندر، محمد اسماعيل راهو، کلثوم چانڊيو، عاجز دھامراھ، صائمہ آغا ، کمشنر حیدرآباد ، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ، پارٹی صدر،چيئرمينز اور دیگر نے شرکت کی.























