
کراچی ( ) چاک فکشن فورم کے زیرِ اہتمام دو روزہ چاک اردو افسانہ کانفرنس کا آغاز شاندار انداز میں ہوا،افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے ملک کے ممتاز ادیب اور محقق پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد افسانہ نگاروں کی پوری کہکشاں نظر آتی ہے، فکشن کے دائرے میں افسانے کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کا یہ حقدار ہے افسانے کی ترقی کے لئے تحریک بیدار کرنے کی ضرورت ہے، افسا نے کے میدان میں نوجوانوں کی دلچسپی قابل تحسین ہے، تخلیقی ازہان کو اہمیت دے کرہی علمی و ادبی معیار کو بلند کیا جاسکتا ہے، معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر تہمینہ عباس نے اپنا کلیدی خطبہ اردو افسانے پر مصنوعی زہانت اور سوشل میڈیا کے اثرات، ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کیا، ڈاکٹر تہمینہ عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں افسانے کی بدلتی ہوئی سمتوں، نئے ڈیجیٹل تناظرات، اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات پر غور فکر کی ضرورت ہے ۔ شرکاء نے ان کے تجزیاتی نکات کو غیر معمولی طور پر سراہا۔قبل ازیں خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معروف افسانہ نگار اور منتظم صائمہ صمیم نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے چاک فکشن فورم کے ادبی سفر اور مسلسل چوتھی کانفرنس کے انعقاد کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا،افسانہ نگار اور افتتاحی تقریب کی میزبان غزالہ خالد نے کہا کہ یہ افسانے کےحوالے سے پاکستان بھر میں منعقد ہونے والی واحد کانفرنس ہے،
مقررین نے چاک فکشن فورم کے اس مسلسل ادبی سفر کو اردو افسانے کی ترویج کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔دوسرے سیشن میں”اخلاقی گراوٹ، عدم برداشت کا معاشرہ اور ادیب کی ذمہ داری پر گفتگو ہوئی اس سیشن کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی، افسانہ نگار اخلاق احمد،
منزہ سہام مرزا، عمار یاسر، ہدایت سائر، اور منصور ساحر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، سماجی رویّوں میں اخلاقی گراوٹ، اور ادیب پر عائد ذمہ داریاں نہایت اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مقررین نےاس بات پر اتفاق کیا کہ ادیب کا قلم محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی شعور کی تشکیل اور فکری رہنمائی کا ایک لازمی ستون ہے۔تیسرے سیشن میں افسانے کی فنی باریکیوں اور تنقیدی بنیادوں پر روشنی ڈالی گئی، اس سیشن کا موضوع تھا، افسانے کے تنقیدی پہلو، سیشن کی صدارت معروف نقاد اور ادبی محقق جمال نقوی نے کی، گفتگو کے آغاز میں انھوں نے افسانے کی تنقیدی روایت اور اس کے ارتقائی سفر پر روشنی ڈالی پروفیسر نسیم انجم سلمان صدیقی، کاشف رضا، نصیر سومرو اور رحمان نشاط نے اپنے اپنے زاویوں سے افسانے کے تنقیدی ڈھانچے، موجودہ رجحانات، کردار نگاری، تکنیک، علامت نگاری اور بیانیے کی تبدیلیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔مقررین اس بات پر بھی سوال اٹھائےکہ آج کے افسانے میں تنقید کس سمت جا رہی ہے اور کیا موجودہ تنقیدی معیار نئے لکھنے والوں کے لیے سازگار ہیں یامزید نئے زاویوں کی ضرورت ہے۔مقررین کی بصیرت افروز باتوں نے اس سیشن کو فکری و تحقیقی لحاظ سے نہایت اہم بنادیا، کانفرنس کا چوتھا سیشن نئی ادبی کتب کے تعارف کے لیے مختص تھا، اس سیشن میں معاصر اردو فکشن اور خواتین افسانہ نگاروں کی تازہ تخلیقات کو نہایت وقار اور دلچسپی کے ساتھ پیش کیا گیا، سیشن کی صدارت معروف ادیب زیب اذکار نے کی جنہوں نے نئی کتب کی ادبی اہمیت، تخلیقی اسلوب اور جدید رجحانات پر ابتدائی گفتگو کی گئ اس نشست میں پیش کی گئی کتب میں صورت گری، روبینہ یوسف، دھند کے پار، عینی عرفان، سچ سے پہلے، نکہت اعظمی شامل تھیں 
ان کتب کے تعارف کے دوران ناقدین اور حاضرین نے موضوعات، اسلوب، پلاٹ کی تشکیل، کرداروں کے فکری تنوع اور ادبی معیارپراپنی آراء پیش کیں، مقررین نے ان کتابوں کو نئی تخلیقات کے حوالے سے ادبی دنیا میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا،دو روزہ چاک اردوافسانہ کانفرنس کے دوسرے روز پانچ سیشن منعقد کئے جائیں گے، جس سے ملک کے ممتاز ادیب، محقق اور اہل علم ودانش خطاب کریں گے…























