پتھر سے شہناز ارشد گل کے سر اور چہرے پر بار بار وار کر کے اسے قتل اور اس کی انگلیوں کو لائٹر سے جلا کر سیاہ کر دیا – ملزم گرفتار، اعتراف جرم کرلیا- شہناز سعید آباد کی رہائشی تھی، خانیوال کی تحصیل میاں چنوں سے تعلق تھا۔

کراچی: کلفٹن میں خاتون کو ریپ کے بعد قتل کرنے والا ملزم گرفتار، اعتراف جرم کرلیا
شہناز سعید آباد کی رہائشی تھی، خانیوال کی تحصیل میاں چنوں سے تعلق تھا۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں ہفتے کلفٹن میں خاتون کے ریپ اور قتل میں ملوث مشتبہ ملزم کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم اُس عورت کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھا، جس کی لاش رواں ہفتے کے آغاز میں کلفٹن سے ملی تھی۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق 25 نومبر کو شہری جنگل (اربن فاریسٹ) کے قریب کلفٹن سے ایک خاتون کی لاش ملی تھی، جس کی شناخت شہناز ارشد گل کے نام سے ہوئی تھی، خاتون کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔

بعد ازاں پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی کہ قتل سے قبل اس کا جنسی استحصال کیا گیا تھا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ اختر کالونی کے ایک رہائشی کو گرفتار کیا گیا ہے جو مقتولہ کو جانتا تھا۔

تحقیقات کے دوران ملزم نے پولیس کو بتایا کہ مقتولہ اس کی دوست تھی اور دونوں کی 22 نومبر کو کلفٹن کے قریب ملاقات ہوئی تھی، تاہم، ان کے درمیان رقم کے معاملے پر جھگڑا ہو گیا، ہاتھا پائی کے دوران خاتون نے اس کا فون چھین لیا، جس پر وہ طیش میں آ گیا، اور اس نے ایک بڑے پتھر سے اس کے سر اور چہرے پر بار بار وار کر کے اسے قتل کر دیا۔

ملزم کا کہنا ہے کہ بعد میں وہ اس کا موبائل فون اور پرس سے رقم لے کر موقع سے فرار ہو گیا تھا۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شناخت چھپانے کے لیے ملزم نے مقتولہ کے چہرے کو بھاری پتھر سے مسخ کیا اور اس کی انگلیوں کو لائٹر سے جلا کر سیاہ کر دیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم سے چوری شدہ موبائل فون بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

شہناز ارشد گل سعید آباد، بلدیہ ٹاؤن کی رہائشی تھی، تاہم ان کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں سے تھا، وہ 22 نومبر سے لاپتہ تھیں اور ان کی گمشدگی کی رپورٹ ان کے بیٹے نے مدینہ کالونی تھانے میں درج کرائی تھی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا تھا کہ خاتون کی لاش (جس کے چہرے کی شناخت مٹ چکی تھی اور جو ابتدائی مراحل کی گلنے سڑنے کی حالت میں تھی) بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں ایک کھلے میدان سے ملی تھی۔