بھارتی ریاست اتر پردیش کے بہرائچ ضلع میں بھیڑیوں کے حملوں میں 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق تازہ شکار 10 ماہ کی ایک بچی بنی ہے، جسے اس کی ماں کے پاس سوتے ہوئے بھیڑیے اٹھا لے گئے اور بعد میں ایک کھیت سے اس کی نوچی ہوئی لاش ملی۔
ایک روز قبل یہ خونخوار بھیڑیے دن دیہاڑے ماں کی آنکھوں کے سامنے ایک 5 سالہ بچے کو اس کے گھر کے باہر سے اٹھا لے گئے۔ تلاش پر بچہ قریبی گنے کے کھیت سے زخمی حالت میں ملا، مگر ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی فوت ہو گیا۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملے گزشتہ چند مہینوں سے ایک مخصوص پیٹرن کے تحت ہو رہے ہیں، جس میں کئی متاثرہ دیہات شامل ہیں۔ بہرائچ میں بھیڑیوں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے 9 افراد میں بزرگ جوڑے بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھیڑیا عموماً انسان یا گھریلو مویشی پر اس وقت حملہ کرتا ہے جب انہیں خوراک کی شدید کمی ہو، اور وہ عام طور پر چھوٹے ہرنی جیسے کم خطرناک شکار کو ترجیح دیتے ہیں۔
بہرائچ ضلع کے گھاس کے میدان نیپال کی سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں، جہاں ہمالیائی پہاڑی سلسلے میں گھنے جنگلات موجود ہیں۔
مقامی لوگ خوفزدہ ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے بچے اب گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایک رہائشی نے کہا: “ہم صرف چاہتے ہیں کہ بھیڑیوں کے حملے کسی طرح رک جائیں۔”
اتنی جانوں کے جانے کے بعد بلآخر بھارتی حکومت کے کان پر جوں رینگی اور حکام نے انسانی جانیں نگلنے والے بھیڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے ڈرونز اور دیگر حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔
فاریسٹ افسر رام سنگھ یادو کے مطابق علاقے میں ڈرونز، کیمرہ ٹریپس اور شکاری تعینات کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق بھیڑیوں کے رویے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ اب یہ دن کے وقت بھی فعال نظر آ رہے ہیں، جو غیر معمولی ہے۔
دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھیڑیے غیر معمولی حد تک دلیر اور خطرناک ہو گئے ہیں۔























