
قادر خان یوسف زئی
ریاست کے در و دیوار ہلانے کے لیے ہمیشہ سرحدوں پر توپوں کی گرج اور ٹینکوں کی یلغار ہی کی ضرورت نہیں ہوتی، بسا اوقات بے روزگاری کے سرد خانے میں پڑے اعداد و شمار اور بھوک سے بلکتی نسلیں قومی سلامتی کے لیے بارود کے ڈھیر سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے نومبر 2025ء میں جاری کردہ لیبر فورس سروے 2024-25ء نے جس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے، وہ محض ہندسوں کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی وہ خاموش چیخ ہے جو ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہے۔
ملک کی کل لیبر فورس کا 85.62ملین تک پہنچ جانا اور اس میں سے 5.9ملین یعنی انسٹھ لاکھ افراد کا بے روزگار ہونا کوئی معمولی خبر نہیں بلکہ یہ ایک ایسے سماجی زلزلے کی پیش خیمہ ہے جو اگر روکا نہ گیا تو یہ معیشت اور ریاست کے نام نہاد استحکام دونوں کو بہا لے جائے گا۔ چار سال قبل 2020-21ء میں جب بے روزگاروں کی تعداد 45لاکھ تھی تو اسے بھی ایک بحران سمجھا جاتا تھا، لیکن محض چار سال میں 14لاکھ نئے بیروزگاروں کا اضافہ اور بے روزگاری کی شرح کا 6.3فیصد سے بڑھ کر 7.1فیصد ہو جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری معاشی منصوبہ بندی نے انسانوں کو وسائل نہیں بلکہ بوجھ سمجھا ہے۔
اس قومی المیے کا سب سے خوفناک اور دل دہلا دینے والا پہلو یہ ہے کہ یہ بے روزگاری ان پڑھوں یا مزدوروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ پڑھے لکھے طبقے کا مقدر بن چکی ہے۔ سروے کے مطابق کل بے روزگاروں میں سے 77.5فیصد، یعنی تقریباً 46لاکھ افراد خواندہ اور تعلیم یافتہ ہیں۔ جب ایک ریاست میں نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہوں تو وہاں امید نہیں، مایوسی اور بغاوت جنم لیتی ہے۔ 15سے 29سال کے نوجوان، جنہیں ہم فخر سے اپنا ’’ ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ‘‘ یا اثاثہ کہتے تھے، اب نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 11.1فیصد ہے اور خواتین میں یہ شرح 14.4فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات پوسٹ گریجویٹ ڈگری ہولڈرز کا حال ہے، جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے روزگاری 14.8فیصد ہے جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE)کی 2024ء کی رپورٹ اس شرح کو 31فیصد تک ظاہر کرتی ہے۔
جب معاشرے کا ذہین ترین طبقہ سڑکوں پر رل رہا ہو تو یہ انفرادی خوابوں کا جنازہ تو ہے ہی، لیکن اس سے بڑھ کر یہ ”یوتھ بلج” کا وہ زہر ہے جو کسی بھی وقت انتہا پسندی، جرائم اور دہشت گردی کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ خالی پیٹ اور مایوس دماغ سے زیادہ آسان ہدف ریاست دشمن عناصر کے لیے کوئی اور نہیں ہوتا۔ انتہا پسند و دہشت گرد تنظیموں کے لئے سب سے زرخیز سرمایہ ریاست و سماج سے مایوس ایک بے روز گار نوجوان ہوتا ہے جو اپنی بے روزگاری اور معاشرے میں اپنی خاندانی ذمے داریوں کی ناکامی کا ذمے دار ریاست کو بھی قرار دیتا ہے اور اسی کمزور سوچ کا فائدہ ملک دشمن اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
صوبائی سطح پر اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جائے تو صورتحال وفاق کی اکائیوں میں بڑھتی ہوئی خلیج کی نشاندہی کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا، جو پہلے ہی دہشت گردی اور بدامنی کا شکار ہے، وہاں بے روزگاری کی شرح 9.6فیصد ہے جو باقی تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔ 12.48ملین کی لیبر فورس میں سے لاکھوں افراد کا روزگار سے محروم ہونا اس سرحدی صوبے میں محرومی کے احساس کو مزید گہرا کرے گا، جو تزویراتی لحاظ سے انتہائی خطرناک ہے۔ پنجاب میں 35لاکھ، سندھ میں 10لاکھ اور بلوچستان میں دو لاکھ افراد کی بیروزگاری وفاقی عدم توازن اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے سوالات کو جنم دیتی ہے۔
معاشی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ زرعی شعبے کا حصہ 37.4فیصد سے کم ہو کر 33.1فیصد رہ جانا ایک زرعی ملک کے لیے زوال کی گھنٹی ہے۔ جب کسان کھیت چھوڑ کر شہر کا رخ کرے گا تو دیہی علاقوں سے 6.99ملین اور شہری علاقوں سے 5.49ملین افراد کے روزگار کے اعداد و شمار دراصل اس بے ہنگم ہجرت کی عکاسی کرتی ہیں جو شہروں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہے۔ صنعت کا حصہ کم ہونا اور خدمات کے شعبے کا بڑھنا (41.2فیصد) ظاہر کرتا ہے کہ ہم پیداواری معیشت کے بجائے کھپت پر مبنی معیشت بن رہے ہیں، جو کہ ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔
اس تمام تر صورتحال میں وفاقی وزیر احسن اقبال کا انتباہ دیوار پر لکھا وہ نوشتہ ہے جسے پڑھنے سے ہم مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ موجودہ 2.55فیصد کی شرحِ اضافہ پر 2040ء تک 340ملین اور 2050ء تک 386ملین یا اقوام متحدہ کے مطابق 403ملین آبادی کا تخمینہ کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ جب وسائل سکڑ رہے ہوں اور کھانے والے بڑھ رہے ہوں، تو یہ ’’ ٹائم بم‘‘ پھٹنے کے قریب ہے۔ 38لاکھ مرد اور 21لاکھ خواتین کا بے روزگار ہونا محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بحران ہے۔ اگر ہنگامی بنیادوں پر آبادی پر کنٹرول، صنعتی ترقی اور نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کا انتظام نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں ریاست کو جن سماجی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا، ان کا مقابلہ کوئی فوج یا پولیس نہیں کر سکے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ روایتی سیاسی بیان بازی سے نکل کر ٹھوس اور بے رحم حقائق کی بنیاد پر پالیسیاں مرتب کی جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہیں کرے گی۔بے روزگاری اور آبادی کے بڑھتے بحران سے نکلنے کے لئے جہاں محروم طبقے کو ہند مند ذرائع اور دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت بھی ہے کہ وہ ایسا شعبہ اختیار کرے جو نوکری کی صورت میں غلامی سے دستبردار اور اپنی مدد آپ کے تحت تجارت کی جانب اپنی توجہ مرکوز کر سکے۔ ملازمت ایک شخص کی نوکری کا نام ہے جبکہ تجارت و’’ اپنا کام‘‘ کئی بے روزگاروں کو برسر روزگار کرنے کی کامیاب اسٹریجی ہے۔ حکومت ایسے نوجوانوں کے خصوصی پیکیج کا اعلان اور مستقبل کے معماروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے مواقع فراہم کرے ۔ اعلانات کی حد تک دعویٰ تو موجود ہیں لیکن اولین ترجیحات کسی بھی دور میں نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری ہمارا قومی المیہ بن چکی ہے۔























