
حافظ صاحب 2035 تک چیف ! بھارتی چیف مستعفی ! مریم نواز کا کھڑاک !
حافظ صاحب 2035 تک چیف ! بھارتی چیف مستعفی ! مریم نواز کا کھڑاک !
================
ٹیکساس، بم بنانے کے الزام میں افغان شہری گرفتار
بم بنانے کے الزام میں امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک افغان شہری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کے مطابق گرفتار ہونے والے شخص کا نام محمد داؤد الوک زئی بتایا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ، مشتبہ شخص افغان شہری ہے، امریکی حکام
اس شخص کو آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا لایا گیا تھا۔
افغان شہری محمد داؤد نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک بم بنا رہا ہے۔
====================
محمود اچکزئی ایوان میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور چلے گئے
محمود اچکزئی ایوان میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور چلے گئے
اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) بلوچستان کے قوم پرست پختون رہنما اور اپنی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے اکلوتے رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی ایوان میں قائد حزب اختلاف کی نشست سے مزید دور چلے گئے ہیں انہیں تحریک انصاف کے بانی نے اڈیالہ جیل سے اس منصب کے لئے نامزد کر رکھا ہے اور قومی اسمبلی کا پانچواں اجلاس قائد حزب اختلاف کے بغیر جاری ہے جہاں سے عمران خان 9 مئی کی دہشت گردانہ واردات میں حصہ لینے کی پاداش میں دس سال قید بامشقت اور نا اہل قرار پانے کے بعد اس سے محروم کئے جاچکے ہیں۔ جنگ / دی نیوز کو موصولہ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کی اڈیالہ جیل کے نواح میں اس گفتگو کا نوٹس لے لیا ہے جس میں انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر دھاوا بولنے اورانہیں اپنا کام جاری رکھنے سے روک دینے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ تحریک انصاف کے بانی سے اس کی جماعت کے رہنمائوں کی ملاقات ممکن ہو اور اسے رہائی دلائی جاسکے۔ محمود اچکزئی جنہوں نے تحریک تحفظ جمہوریت نامی تنظیم بنا رکھی ہے فنی وجوہ سے بے پناہ کوششوں کے باوجود قائد حزب اختلاف کے عہدے کے لئے نامزد نہیں ہوسکے اب انہوں نے اپنی گفتگو سے اسے مزید مشکل بنا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے سرکردہ ارکان کے جس وفد نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سے ان کے چیمبر میں ملاقات کرکے بانی تحریک سے ملاقات کے لئے مدد مانگی تھی محمود خان اچکزئی اس وفد سے باہر رکھے گئے جس کا سبب ان کی مبینہ ناقابل برداشت تلخی ہے جس کے ذریعے وہ تحریک انصاف کی قیادت کو مطمئن رکھنا چاہتے ہیں۔























